ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

لڑکا: اسلام علیکم
مالک: وعلیکم سلام کیسا حال اے، کیا کررھے ھوندے او اج کل؟
لڑکا : کچھ نھیں  صاحب جی بس سکول ھی جارھا ھوں
مالک: اچھا اک گل تے بتاؤ یہ "ا” سے کیا ھوندا اے تمھارے قاعدہ ماں؟
لڑکا: "ا”سے انار صاحب جی
مالک: لے ایھہ کی گل ھوئی "ا” سے انار ایھہ تاں قدیم تعلیم اے جدید تعلیم وچ "ا” سے احتجاج پڑھایا جاندا اے
لڑکا: نھیں  صاحب جی ھمیں تو "ا” سے انار ھی پڑھایا گیا ھے
مالک: ویکھیا ایھہ ای تے رونا اے تھاڈے قدیم اُردو میڈیم سکولاں دا کدی بچیاں نوں جدید تعلیم طرف آن ھی نھیں دیندے ، ھُن میں ای تینوں پڑھاواں گا ٹھیک اے؟
لڑکا: جی  صاحب جی
مالک: چلو فیر اج توں "ا” سے احتجاج پڑھنا اے تے A for activist B for Ban پڑھنا اے
لڑکا: B for Ban  صاحب جی؟؟
مالک: ھاں میں جو کھندا پیا ھوں  پڑھو اُچی آواز نال پڑھو ، ھور اُچی شاباش ھور اُچی آواز نال شاباش شاباش
لڑکا : "ا” سے احتجاج ،A for activist B for Ban،  "ا” سے احتجاج ،
A for activist B for Ban
نوکر: اے Boy کون ھے تم؟ ھمارے گھر میں کیا فضول شور مچا رھا ھے ؟ سر who is this ؟
کتنا Noise create  کر رھا ھے Noise pollution
مالک: ارے میں تاں ایھنوں پڑھاندا پیا آں جدید تعلیم سے ، دور حاضر کی تعلیم سے متعارف کروا ریا آں
تاکہ کل نوں ایھہ وی ملکی ترقی دا حصہ بن سکے
نوکر: مگر سر آپ دیکھ نھیں رھے یہ کیا احتجاج احتجاج ، Ban  Ban  بولنے لگا ھوا ھے
مالک: ھاں تے ایھہ ای تے جدید تعلیم اے سارے ترقی یافتہ تے ترقی پزیر ملکاں وچ ایھدا ای دور دورہ اے ۔ بیوقوف  ایھہ کم کرن دا نیئں احتجاج کرن دا دور اے  پھلے تاں کوئی چیز Ban  کرایئ جاندی اے فیر اوہ کیوں بین ھوگیئ اوھدے اُتے احتجاج کریا جاندا اے فیر احتجاج کرنا ای Ban   کردتا جاندا اے ، فیر احتجاج کیوں Ban  کردتا گیا ایھدے اُتے احتجاج کیتا جاندا اے ، ایس لیی جدوں تک اسی اپنے بچیاں نوں احتجاج دی تعلیم ای نیئں دے سکاں گے تے کیس طرح ملک ترقی کرے گا ؟
نوکر: Wow sir wow آپ تو ھمیشہ سے دی گریٹ ھیں سر جی, پڑھو بچے یھی سبق پڑھو ملک کی ترقی اسی میں ھے تم پڑھواُونچی آوازمیں  پڑھو 

لڑکا : "ا” سے احتجاج

،A for activist B for Ban، "ا” سے احتجاج ،A for Apple  B for Ban  

مالک: اج کل کیھڑا Ban  ان اے میرا مطلب اے کیس چیز پے احتجاج چل رھیا اے ملک میں؟
نوکر: وہ سر جی آج کل شیزان کا Ban  ، ھاٹ ایشو بنا ھوا ھے سبھی لوگ سبھی جدید اور انسان پرست ھمدرد لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رھے ھیں
مالک: کیھڑی شیزان ؟ اوہ جو لاھور ما فیکٹری آ اوہ؟
نوکر: جی سر وھی شیزان بیکری سر اتنی اچھی بیکری سر ، سُنا ھے لاھور بار کونسل نے قرارداد منظور کی ھے کہ شیزان کے جوس اور بوتلوں پر Ban  لگا دیا جائے کیونکہ یہ احمدی فرقے کے لوگوں کی کمپنی ھے اور اس کے تحت پیسے کما کر وہ امیر ھورھے ھیں انکا مذھب مذید سٹرانگ ھورھا ھے۔
مالک: ھائے ھائے کتنا ظلم ھوریا اے انسانیت پر اس Ban  پر تو ضرور احتجاج ھونا چاھیے۔
 پرانا نوکر: اسلام علیکم سب کو
(سب : وعلیکم سلام)
 پرانا نوکر: بھت باتیں چل رھی ھیں میرے آقا
لڑکا : "ا” سے احتجاج ،A for activist B for Ban 
 پرانا نوکر: یہ کیا پڑھ رھے ھو بچے یہ غلط سبق ھے "ا” سے انار پڑھا جاتا ھے
مالک: لو آگیا ایک اور قدیم پینڈو ارے بھائی یہ جدید تعلیم اے اس ما ایسے ھی پڑھایا جاتا اے دیکھنا انشاالله بڑھا ھوکر یہ Activist بنے گا۔
نوکر: سر آپ تو شیزان کے بارے میں بات کر رھے تھے۔
 پرانا نوکر: جی آقا میں نے بھی سُنا ھے اس بارے میں، سُنا ھے پنجاب یونیورسٹی میں کسی بھی کینٹین پر شیزان نھیں ملتی۔
مالک: ھاں بس ویکھ لیو ایس ملک دا حال الله کی نعمتوں پر بھی کوئی Ban لگاندا اے جوس بھی کوئی Ban  کرن والی چیز اے ۔
نوکر: سر اصل میں یہ ساری سازش ھے Conspiracy  سر احمدیوں کے عقیدے پر Ban لگانے کی  ، جوس تو صرف بھانہ ھے سر
مالک: ھاں کرلو گل ھُن ھور کسی چیز تے Ban  نہ لگیا تے جوس تے لگادیا ، مسلمان احمدیاں دا جوس نہ خریدے اے حرام اے ، مگر مسلمان I phone , blackberry , Honda , civic, laptop , computer سب خریدے McDonald , pizza Hut , KFC  کھایے  Levis دی جینز پائے ، ساری غیر مسلماں دی چیزاں خریدے اوھناں نوں خریدن واسطے مسلمان مریا جاندا پیا اے ، ھندوستان دی فلماں تے سینماں میں Ban   نہ ھویئاں تے اک جوس Ban  کرکے اسلام دا جھنڈا فتح کرن لگ پیے ، ھے ایھہ کوئی عقل والی گل. ھُن لگدا اے کسے اخبار وچ مسلمان معاشرے دے ایس double standard  دا لمبا تے اوکھا مضمون لکھنا پیے گا.
نوکر: Yes sir yes  آپ must لکھیں اسی طرح تو لوگوں کو knowledge آئے گا شعور پیدا ھوگا sensibility اُجاگر ھوگی۔
مالک: بھائی خالی مضمون لکھن تاں کچھ نھیں ھوگا اساں لوکاں نوں احتجاج وی کرنا چاھیدا اے ۔ اوھی سب تو موثر ھتکنڈا اے اج کل دے دور رچ
نوکر: Yes sir yes وہ بھی ھورھا ھے my friend told me  سوشل میڈیا میں بھت احتجاج ھورھا ھے لوگوں نے اپنی  profile picture  کی جگہ شیزان کی تصویر لگا لی ھے ھر طرف شیزان شیزان ھورھا ھے پڑھے لکھے ترقی پسند لوگ اسے خوب پروموٹ کررھے ھیں
مالک: واہ واہ دل خوش کردتا ، ایھہ ھُندی اے پڑھیاں لکھیاں والی گل ، لبرل سوچ ، انسانیت سے محبت ، آزادی حقوق سے محبت ، ایسئ لوگاں کی وجہ سے معاشرے ما تھوڑی بھلائی بچی رہ گیئ اے  چل بھائی  تو بھی ھمارے ساتھ اس نیک کام میں شامل ھو جا اساں سب ملکر احتجاج کراں گے

 پرانا نوکر: نھیں میرے آقا میں آپ کے ساتھ ملکر احتجاج نھیں کر سکتا آپ بھی مت کریں
مالک: ایھہ دیکھو چھوٹا آدمی توبہ توبہ چھوٹی سوچ کا پینڈو ، اقلیتاں دا دشمن ، مساوات دا دشمن ، شرم تا ناں آندی تینوں ایسے مشورے دیندے ۔
پرانا نوکر: نھیں میرے آقا  میں اقلیتوں کا دشمن نھیں ھوں ، نہ ھی مساوات ، برابری اور انسانیت کا مگر آپ مجھے ایک بات کا جواب دیں کیا جب فرانس میں حجاب پر Ban  ھوا تھا تو کیا آپ نے اس پر احتجاج کیا تھا ؟آخر فرانس میں بھی تو مسلمان اقلیت ھی تھے وہ بھی تو ایک مذھبی حملہ تھا جیسے یہ احمدیوں پر مذھبی حملہ تھا ویسے ھی وہ مسلمانوں کے مذھب پر ایک دوسرے مذھب کے اکثریتی ملک میں زیادتی تھی ، مسلم اقلیت کی شناخت پر حملہ تھا کیا آپ نے اس پر احتجاج کیا تھا؟
مالک: لو کر لو گل  ایھہ وی کوئی گل سی احتجاج کرن دی بلکہ میں تاں ایس Ban  دے حق وچ مضمون لکھیا سی کہ کھنی Enlightened moderation  اے کھینا روشن قدم اے عورتاں نوں آزادی ملے گی برقعے جیئے عذاب تو اوھناں
دی جان چھُٹے گی ایس قدم نال عورتاں نوں آزادی ملے گی میں کیوں اوھدا احتجاج کرداں پھرا ، کسے چنگے Ban  دا احتجاج نھیں کردے کھوتے انساناں
پرانا نوکر: نھیں میرے آقا ، سرکار آپ کیسے کھہ سکتے ھیں کہ وہ غلط نھیں تھا مسلمانوں کو اقلیت سمجھ کر اگر انکی
آزادی کو سلب کیا گیا تو وہ بھی غلط قدم تھا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو انسان کو اتنی آزادی دینی چاھیے تھی کہ وہ جو چاھے پھنے چاھے وہ حجاب ھی کیوں نہ ھو آپ کو اس پر بھی مضمون لکھنا چاھیے تھا اس پر بھی احتجاج کرنا چاھیے تھا کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے حجاب پھننا چاھتا ھے تو اُسے یہ آزادی ضرور ملنی چاھیے، مسلمانوں کے ساتھ کچھ غلط ھونے پر اگر یہ بڑے لوگ احتجاج نھیں کرتے تو غیرمسلموں یا اقلیتوں کے ساتھ غلط ھونے پر کیوں اتنا احتجاج کرتے ھیں ؟
نوکر: سر سنیں کتنی بیک ورڈ باتیں کررھا ھے ِ
پرانا نوکر: میں یہ نھیں کھہ رھا کہ شیزان پر Ban  لگانا صحیح ھے یہ یقینا غلط ھے ظلم ھے مگر مسلمانوں کے ساتھ جب فرانس میں  ظلم ھوا ان کے حجاب پر Ban  لگایا گیا کہ حجاب نھیں اُوڑھنا تو وہ ھی غلط تھا اس پر بھی احتجاج کرتے مگر وہ کیونکہ ایک شدت پسندی سمجھی جاتی کہ برقعے کو پروموٹ کررھے ھیں تو اُس پر کوئی بھی آواز نھیں اُٹھاتا
مالک: چُپ کرا ایھنوں چُپ کرا کیھہ بک بک کری جا ریا اے چُپ کر تو چھوٹے انسان تُجھے کیا خبر مذھبی آزادی کیا ھوتی ھے؟ مذھب کو پھناوے سے جوڑنے والے ، انسان جو مرضی پاوے دل مسلمان ھونا چاھیدا اے
نوکر: wow sir wow سر کتنی بڑی بات کی ھے آپ نے آپ کتنے روشن خیال ھیں اور یہ

 پرانا نوکر: نھیں آقا ایسی بات نھیں ھے
مالک: تو چُپ کر تُو چھوٹا آدمی تجھے کچھ نھیں پتہ مذھبی آزادی کا ، چل شاباش نکل ایتھو چل ، چھڈ کے آؤ ایھنوں ، چھوٹا آدمی چلو چلو
پرانا نوکر: جی میرے آقا آپ کی جیسے مرضی میں چلا جاتا ھوں
مالک: دروازہ گھُٹ کے بند کرلیئں کدھرے دوبارہ نہ آجائے


(نوٹ اشفاق احمد صاحب سے کان پکڑ کر معافی مانگتے ھوئے میں یہ پوسٹ پوسٹ کررھی ھوں )

تلقین شاہ پڑھتے پڑھتے کچھ ایسی لاینز آئیں جنھیں میں نے اپنی ڈایری میں لکھ دیا کتابیں چونکہ UET  کی لائبریری کی تھیں تو اسلیے وہ واپس کروایئ جاچکی ھیں تلقین شاہ سیریز کی ایک بھی کتاب میرے پاس نھیں ھے مگر میں نھایت مشکور ھوں UET  لاھور کی اُس اعلیٰ پایہ لائبریری کی جھاں یہ کتابیں موجود ھیں اور جھاں سے مجھے بھی انھیں پڑھنے کا شرف ملا ، وہ لاینز جو میں نے نوٹ کیں تھیں اب بھی ساتھ ھیں ، کتابیں لایبریری واپس لوٹ چکی ھیں مگر کچھ لایئنز چھوڑ گیئی ھیں جو مندرجہ زیل ھیں :
اقتباسات از  "تلقین شاہ”

  • "سلیمان: میڈم آپا جی میری مجبوری ھے میری لاچاری ھے میں اسکے حکم پر اور اسکی آرزؤں پر ناچتا رھوں گا اور اسطرح ورزش کرتا رھوں گا

ھدایت: لیکن کب تک میرے بھائی؟
سلیمان: اس وقت تک کہ جب تک مجھ میں زندگی ھے لایف ھے ، جمالیہ کی شادی ھوجائے گی اس کے بچے ھوجایئں گے وہ ھنسی خوشی اپنے گھر میں رھا کرے گی اور میں ورزش کرتا رھوں گا ،سمارٹ ھونے کی کوشش کرتا رھوں گا اور پھر ایک دن ایسا آئےگا مائی لارڈ سر ،پھر شام ھوجائے گی اندھیرا پھیل جائے گا ۔” 


  • "ھدایت: پتہ نھیں جی لیکن تکلیف میں ھوتے ھیں بیچارے، آدمی کی آرزؤں کا سلسلہ تو کبھی ختم ھی نھیں ھوتا جی میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دنیا دار آدمی کی آنکھ کو قناعت پُر کرسکتی ھے یا پھر قبر کی مٹی”


  • "ھدایت: حضرت علی کرم الله وجھہ سے پوچھا گیا کہ یا حضرت اگر ایک آدمی ایک کوٹھری میں بند ھو اور کھڑکی روشن دان اُس میں کوئی نہ ھو اور کوٹھری مُقفل ھو اس کوٹھری کے باھر ایک اور کمرہ ھو اور اسکے گرد ایک اور فصیل ھو اور یہ سب کچھ ایک قلعے میں بند ھو تو اس آدمی کا رزق کس راستے سے آئے گا حضرت علی نے فرمایا جس رستے سے اسکی موت آئے گی اسی راستے سے اسکا رزق آ جائے گا "


  • "ھدایت: میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دین اور دنیا میں بھت تھوڑا سا فرق ھے ، لطیف سا ، اگر دنیا کو الله تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اسکی منشا مطابق استعمال کیا جائے یہ کلیم دین ھے اور اگر اس دنیا کو زاتی ملکیت سمجھ اپنی منشا کے مطابق استعمال کیا جائے تو سب دنیا ھے ۔ دیکھیے جی دنیا کی تمام نعمتیں علم دولت ذھانت حسُن جاہ وجلال رسوخ و اقتدار وغیرہ  وغیرہ اگر اسکو الله کی امانت سمجھ کر اسکی منشاہ کے مطابق ان سے کام لیا جائے تو یہ دنیوی نعمتیں دین کا درجہ اختیا کرجاتی ھیں اور اگر انکو زاتی ملکیت سمجھ کر, جینے ،دولت یا حسن یا رعب داعب  زاتی ملکیت سمجھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا شروع کردیا جائے تو یہ سب دنیا ھے اور اسکا بکھیڑا لمبا ھے ۔“


  • "شاہ: ایھہ گناہ کیا ھُندا اے؟

 ھدایت: بابا جی فرماتے ھیں الله کے سوا کسی اور چیز میں مبتلا ھوجانے کا نام گناہ ھے ،خدا کی زات کے سوا اسکی صفات کے سوا کسی اور چیز میں گم ھوجانا گناہ ھے
شاہ: ناں تیرا کی خیال اے دنیا کا کوئی کم ای نہ کریئے پتھر ای نہ لگائے عملی زندگی ما اور خدا سے لو لگا کہ بیٹھا رھے انسان آسماناں کی طرف نگاہ کرکے؟
ھدایت: نہ جی نہ ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ سب کام کرے دنیا کے مادی زندگی کے لیکن اپنے آپ کو ان میں مبتلا نہ کرے مبتلا ھو تو صرف الله کی ذات میں
شاہ: ھم تاں خدا کی زات کے سوا ھر چیز میں مبتلا رھندے ایں
ھدایت: اور بزرگان دین اس چیز کو گناہ کھتے ھیں 

مصنف : اشفاق احمد

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 1
Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 2

 ڈرامے کے ایک سین میں (پارٹ 2 کا آخری حصہ میں) بیٹا اپنے باپ سے کھتا ھے کہ اگر وہ سب نہ ھوسکا جس کی آپکو اُمید ھے یا جس کی آپکو آرزو ھے تو پھر آپ کیا کریں گے  باپ جواب دیتا ھے کہ ” پھر میں زندہ رھوں گا اور تب تک زندہ رھوں گا جب تک اسکا حکم ھے "

میں سوچ رھی ھوں کہ  اگر جب  تک   اُسکا حکم ھے تب تک زندہ رھنا ھے تو کیوں نہ جسطرح   اُسکا حکم ھے اُس طرح زندہ رھا جائے اگر  اُسکا ایک حکم ماننا ھے تو تمام حکم کیوں نھیں ؟ جب تک  اُسکا حکم ھے تب تک زندہ رھنے کی بجائے جس طرح زندہ رھنے کا اُسکا حکم ھے کیوں نہ اس طرح زندہ رھا جائے؟ 

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 3

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 4

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 5

 Drama :Qurat-ul-ain ( written by ashfaq ahmed)

 13 اگست 2011 رات کے 12 بجے کے بعد 14 اگست شروع ھوگئی تھی پورے شھر کے لوگ سڑکوں پر آذادی کے جشن کا مجمع لگائے بیٹھے تھے. مال روڈ پر, اسمبلی ھال تک لوگوں کی نہ ختم ھونے والی بھیڑ تھی ،کچھ آزادی کا جشن منانے اور کچھ صرف انجوائے کرنے کی غرض سے سڑکوں پہ نکلے ھوئے تھے 14 اگست شروع ھوگیا تھا اور 14 رمضان بھی تھا روزے رکھے جارھے تھے ۔ لکشمی چوک جو لاھور کا ایک بھت مشھور کھانوں کا مرکز سمجھا جاتا ھے ،وھاں سڑک کے کنارے  فٹ پاتھ پر رات کو بھت مشھور کشمیری دال چاول بکتے ھیں لوگ بھت دور دور سے یھاں دال چاول کھانے آتے ھیں کیونکہ لاھور میں بھت کم ایسی جگھیں ھیں جھاں دال چاول کوئی سوغات سمجھ کر کھائی یا بیچی جاتی ھوں

Lakshami chowk


فٹ پاتھ پر کرسیوں اور میزوں کی قطار لگی ھوتی ھے لوگ رات گئے تک اپنی کاروں سایکلوں موٹر سایئکلوں پر یھاں آتے رھتے ھیں اس کے سامنے پوری سڑک پ
ر بھت سے ھوٹل ھیں جھاں ٹکہ ٹک، چانپیں ،توا قیمہ ،گوشت کڑاھی ، گردے کپورے ، سیخ کباب ، تکے اور اس طرح کے بھت سے کھانوں کی نہ ختم ھونے والی لسٹ ,کے کھانے بکتے ھیں ھوٹل کے نام لینا اب ضروری نھیں ھیں کیونکہ ان کی پبلیسٹی نھیں کرنی ۔اب پورے منظر میں ،میں کھاں ھوں ؟

میں ایک سولہ سالہ لڑکا ھوں ،سڑکوں پر پڑے کوڑا کرکٹ سے کاغذ اُٹھا کر اپنی بوری میں ڈال لینے والا ،آج میں بھت بھوکا تھا صبح سے کچھ بھی کھا نے کو نہ ملا تھا بھوک سے حالت بُری تھی ۔آج سڑکوں پر رش بھت زیادہ تھا کیونکہ میرے ملک کے آزاد ھونے کا جشن ازادی  منایا جارھا تھا اور رمضان کی وجہ سے سحری تک دوکانیں بھی سجی رھنی تھیں میں بھوک سے نڈھال تھا اور ایک تنگ تاریک گلی سے نکلا اور اس سڑک پر آگیا جھاں کشمیری دال چاول بیچنے والے کی کرسیاں  لگی ھوتی ھیں۔ کچھ بھلے لوگ بیٹھے دال چاول کھا رھے تھے ، یہ ضرور میری مدد کریں گے اس سے پھلے بھی کچھ لوگوں سے کھانا مانگ چکا تھا مگر کسی نے مدد نہ کی تھی ، یہ مگر اچھے لوگ لگ رھے تھے ایک لڑکی تھی اپنے والد  کے ساتھ اور بچے بھی تھے سب رشتہ دار ھوں گے. میں صاحب کے پاس گیا بولا ” سر صبح سے بھوکا ھوں ایک پلیٹ چاول خرید دیں ” لڑکی نے میری طرف درد بھری نظروں سے دیکھا ، صاحب نے انکار کردیا لفظوں کا استعمال تو نھیں کیا مگر ھاتھ سے اشارہ کردیا کہ جاؤ ۔ لڑکی نے اپنے ھاتھ دیکھے کوئی بٹوا ساتھ نہ لائی تھی ،چاھتی تھی کہ اپنے والد سے اصرار کرے کہ لڑکے کو پیسے دیں دے ,بھوکا ھے سچ میں ، میں نے آواز سے اندازہ لگا لیا ھے ۔  مگر بیچاری لڑکی گونگی تھی بول نھیں سکتی تھی میرا دکھ سمجھ گئی اور خاموش مجھے دیکھنے لگی ۔

میں نے سوچا خیر ھے یہ نھیں تو کوئی اور سھی میں نے سامنے دیکھا سفید رنگ کی کار کھڑی تھی میرے بالکل پاس کوئی لاکھوں کی کار ھوگی کار میں فرنٹ سیٹ پر ایک آدمی اور ساتھ اسکی بیوی بیٹھی تھی پچھلی سیٹ پر ایک دس سال کی بچی جو یقینی طور پر انکی بیٹی معلوم ھوتی تھی ، اچھے کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ تھے ۔ میں انھیں دیکھنے لگا کہ سامنے سے ویٹر انکی ٹرے لے آیا انھوں نے ٹرے تھامی سب نے اپنی پلیٹوں سے چمچ نکال کرٹرے میں رکھ دئیے یہ کیا تھا میں نے سوچا پھر عورت نے کار کے ایک خانے میں سے پلاسٹک کے چمچ نکالے اور اور اس چمچ سے وہ کھانے لگے ۔ اچھا! اب میں سمجھ گیا کہ یہ بھت سمجھدار لوگ ھیں انھیں معلوم ھے کہ باھر کے چمچ سے نھیں کھانا چاھیے جراثیم ھوتے ھیں ،اپنی صحت کی حفاظت کرنی چاھیے صفائی کا خیال رکھنا چاھیے یہ اتنے سمجھدار ھیں تو میری مجبوری بھی سمجھیں گے. میں ان کے پاس بڑھنے لگا کہ کھانے کو کچھ مانگوں اُنھوں نے جیسے ھی مجھے اپنی طرف آتے دیکھا اچانک سے اپنی گا
ڑی کے شیشے اوپر چڑھا لئے اور میں اپنی کوڑا چُننے والی بوری اُٹھائے حیرت سے اُنھیں دیکھنے لگا .سامنے بیٹھی گونگی لڑکی بھی مجھے دیکھ رھی تھی ۔میں نے آھستہ آھستہ پیچھے قدم اُٹھائے لڑکی ابھی بھی مجھے دیکھ رھی تھی. آگے بیٹھے ھوئے کسی بھی انسان کے منہ لگنے کی ھمت نہ رھی تھی اب ، دو انکار اور ان کار والوں نے تو سُنا تک نھیں کہ میں کھنا کیا چاھتا ھوں ۔
میں بھت دکھی ھو گیا بھوک بھی ایک دم سے بھول گیئ دماغ ، حس اور جسم کا آپس میں تعلق ھی ختم ھوگیا تھا. کیا ان سب کو کوئی فرق نھیں پڑتا کہ ایک انسان بھوکا ھے اور ان سے مدد مانگ رھا ھے ۔ یہ سمجھ رھے تھے کہ میں بھیک مانگ رھا ھوں مگر میں تو کوڑے سے کاغذ چُنتا ھوں میری بوری بھی میرے ساتھ ھے. میں تو محنت کرنے والا ھوں میں نے تو صرف کھانا مانگا تھا  پیسے تو نھیں مانگے تھے, انھوں نے سوچا ھوگا ایسی جگھوں پر ھر منٹ میں ایک فقیر مانگنے آجا تا ھے ان سب انسانوں کو سمجھ ھی نہ آسکی کہ میں بھوکا ھوں ان روزہ رکھنے والوں کو آزادی کا جشن منانے والوں کو کوئی غرض نھیں تھی میری مدد کرنے سے ۔
یہ کیسی بےبسی ھے ایک مجبور بھوکا انسان اور دوسرے اسکی بات بھی سنُنا گوارہ نھیں کرتے اپنے گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھا لیتے ھیں ۔ اس رات نے مجھے عجیب طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا .میں بھوکا تھا اور لگتا تھا کوئی بھی ایسا نھیں جو میری بات کا یقین کرے یا میری مدد کرے ۔ یہ لاھور تو نھیں تھا یہ تو کربلا تھا جھاں سب کے پاس کھانے کو کچھ نہ کچھ تھا مگر میرے لئے خوراک کا ایک زرہ بھی نہ تھا تمام یذیدیوں نے کھانے پر اپنی حکمرانی کر رکھی تھی کیا یہ چودہ اگست کا پاکستان تھا؟ کیا یہ اسلام کا سب سے مبارک مھینہ رمضان تھا؟ یہ تو صرف کربلا تھا جھاں ایک مجبور انسان تھا اور اسکی بھوک تھی ، کھیں کھانا نہ ملا تھا مجھ کو !

آج ٩ محرم الحرام ھے پورے لاھور میں جگہ جگہ مجالس ھورھی ھیں سبیلیں سجی ھیں ،لوگ پانی شربت دودھ بانٹ رھے ھیں حلیم اور بریانی کی دیگیں بانٹی جارھی ھیں آج تو یہ لاھور ھی ھے. آج یہ کربلا نھیں ھے. آج شھر میں سب کے پاس کھانے کو کچھ نہ کچھ ضرور ھے. نواں محرم ھے اور یہ کربلا نھیں ھے لاھور ھے میں بھوکا بھی نھیں ھوں ۔ میں تو بھوکا چودہ اگست ، چودہ رمضان کو تھا  اس دن آخر کیوں یہ شھر کربلا بن گیا تھا؟ اس دن کیوں شھر والے یزید لگتے تھےِ ؟ یہ میری بھوک اور مجبوری کو کیوں نھیں سمجھتے تھے؟ میں بھوکا تھا اور وہ کربلا کی رات تھی۔
( مصنف : فریحہ فاروق)

٩ محرم الحرام

انسان اور شھد کی مکھیاں دونوں سماج بنا کر رھتے ھیں۔دونوں اس سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتے ھیں۔جب شھد کی مکھیاں کام کرتی ھیں تو وہ سب کارکن ،ورکر کھلاتی ھیں مگر جب انسان اپنے سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتا ھے تو کوئی َ نائی َ ََََقصائی ََ، حلوائیَ،دھوبی َ کمھارَ،تانگے والاَ، جمع دارَ، ریڑھی والا َ، ۔بن جاتا ھے ھم یہ کیوں نھیں کھتے ورکر ،کارکن صرف آخر ھم سب ایک ھی چھتے کے لیے ھی تو کام کر رھے ھیں ھم سب کارکن مکھیاں ھی تو ھیں کیا جانور ھم سے زیادہ مھذب ھیں۔ کارکن مکھیاں ایک کام نھیں کرتی کوئی چھتے کی صفائی کرتی ھے کوئی چھتے کو گرم رکھتا ھے کوئی شھد بناتے ھیں۔انسان بھی تو اسی چھتے کے لیے مختلف کام کرتا ھے تو آخر وہ کیوں صرف کارکن نھیں کھلاتا اُ سے صرف ورکر کا خطاب کیوں نھیں دیا جاتا۔

written by: Fareeha Farooq

سوال تو یہ تھا کہ مرزا غالب کو غم کیا تھا اور میں نے پچھلی پوسٹ میں غالب کی زندگی میں غم تلاش کرنے کی کوشش بھی بھت کی مگر میں خود کو مطمیئن نھیں کرپائی کیونکہ شاعر کی زندگی میں غم تلاش نھیں کرتے غم تو اسکی فطرت میں ھوتا ھے اور اُسے اسکی فطرت میں ھی تلاشا جاسکتا ھے غالب کی فطرت میں غم تھا .شاعر اپنی زندگی پر شاعری نھیں کرتا بلکہ شاعر تو اپنی فطرت پہ شاعری کرتا ھے جیسی اسکی نیچر ھوتی ھے ویسی ھی شاعر کی شاعری ھوتی ھے مگر غالب کی فطرت میں غم کھاں سے آیا ؟ یہ سوال کا جواب خود غالب نے عرض کیا ھے کہ

ھزاروں خواھیشیں ایسی کہ ھر خواھش پہ دم نکلے
بھت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے


غالب کو کیا غم تھا؟ تو جناب غالب کو”خواھش” کاغم تھا دنیا میں کیا خواھش سے بڑا بھی کوئی غم ھوتا ھے، انسان جو خواھش کرتا ھے! اسکی فطرت ھی ایسی ھوتی ھے خواھشیں کرنا اور جب وہ پوری نھیں ھوتی تو ،تو اسکا دم نکل جاتا ھے,خواھش کے پوری نہ ھونے کے غم سے. غالب کو بھی یھی غم تھا شاید ، شاید نھیں یقینی ط
ور پر غالب کو بھی خواھش کا غم تھا ، خواھشیں کرنے کا غم انکے پورا نہ ھونے کا غم۔
کچھ دن پھلے بانو آپا نے اپنے ایک انٹرویو میں کھا تھا کہ غالب نااُمیدی کا شاعر ھے وہ مایوسی کے بغیر نھیں لکھ سکتے مگر مجھے ایسا نھیں لگتا ، میرے خیال میں غالب "خواھش” کا شاعر تھا وہ خواھش کے بغیر نھیں لکھ سکتا تھا!
خواھش سمجھنے میں بھت مشکل چیز ھے بسا اوقات ھم اپنی ضرورتوں کو خواھش سمجھ لیتے ھیں مگر خواھش ضرورت سے مقدم ھوتی ھے ضرورتیں چیزوں سے جُڑی ھوتی ھیں جبکہ خواھشیں انسانوں سے جُڑی ھوتی ھیں ،اور انسانوں سے غم جُڑا ھوتا ھے۔ غالب کے غم کو سمجھنے کیلیے اس
کرب کو محسوس کرنا ضروری ھے جو اُس خواھش سے پیدا ھوتا ھے جو کسی انسان سے یا انسانیت سے تعلق رکھتی ھے۔اگر آپ اس غم کو سمجھ سکیں تو ھی غالب کو غم کے سمجھ پایئں گے، غالب کا غم خواھش کا غم ۔ ھم میں سے بھت سے لوگ یہ خیال کرتے ھیں کہ شاید انسان کو کچھ غلط ھونے پر ھی غم ھوتا ھے کہ بھلا یہ کیوں ھوا؟ ایسے کیوں ھوا ,میرے ساتھ ھی کیوں ھوا! مگر ایسا لازمی نھیں ھے .بعض اوقات انسان کو اس بات کا بھی غم ھوتا ھے کہ کچھ اچھا کیوں نھیں ھوا, جیسے میں نے خواھش کی ایسے کیوں نھیں ھوا، خواھش تو بڑی بُری بلا ھے یہ تو بھت درد و غم دیتی ھے انسان کو بلکہ غالب تو کھتے ھیں کہ یہ دم ھی نکال لیتی ھے. .
 صرف شب غم بری بلا نھیں ھے شدت خواھش بھی بھت بُری بلا ھے!
(written by :Fareeha Farooq)

ماریہ  (دوست) نے مجھ سے سوال پوچھا” آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا” میں بھی سوچ میں پڑ گیئ کہ آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا. مرزا غالب کے بارے میں میں صرف اتنا ھی جانتی ھوں جتنا گلزار صاحب کی بنائی ھوئی ڈرامہ سیریز "مرزا اسد الله خاں غالب” میں دکھایا گیا ھے. ایک بات تو ظاھر ھوتی ھے مرزا غالب کی شاعری سے کہ انھیں کوئی بھت بڑا غم تھا ایسے ھی کسی کے شعروں میں اتنا درد ،غم اور الم نھیں آجاتا. مگر سوال تو بھیئ یہ ھے کہ آخر غالب کو غم تھا کیا؟
اب غیر سنجیدہ گفتگو جو ھم دونوں میں ھمیشہ جاری رھتی ھے اُس سے ھم نے نتیجے اخذ کرنے شروع کردیے کہ غالب کو آخر کیا غم تھا ۔

 
1۔ غالب کو ھوسکتا ھے یہ غم تھا کہ پنشن رُکی ھوئی تھی, ھاں ھاں ! یہ ھوگا غم ،مگر غالب کو پیسوں کا غم تھا ،پیسوں کہ غم میں کوئی کیسے لکھ سکتا ھے؟

دل ھی تو ھے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ جائے کیوں!

اتنا بڑا انسان اور پیسوں کے غم میں شاعری نہ نہ نہ یہ تو صرف مزاق تھا!
2۔ غالب کو شاید بچپن میں شادی ھوجانے کا غم تھا! یہ بھی بے تُکی بات لگتی ھے اُس دور میں یھی رواج تھا اس میں ایسی کیا غم کی بات تھی کہ دیوان لکھے جاتے ۔

3۔ غالب کو شاید اولاد نہ ھونے کا غم تھا ! یہ غم ویسے تو جایز ھے بھت بڑا غم تھا, جب سات اولادیں ھونے کے باوجود ایک بھی زندہ نہ بچے تو آدمی کو غم ھی ھوسکتا ھے مایوسی دل پر چھائی رہ سکتی ھے ,اس کا حال غالب کے چند اشعار میں معلوم بھی ھوتا ھے مگر صرف یھی ایک غم ۔۔۔
بچے ھوتے بھی تو غالب کو لکھنے نہ دیتے, سات بچے کھاں فراغت دیتے لکھنے کی !

4۔غالب کو  اس دور کے”حآلات حاضرہ” کا غم تھا یعنی اُس دور کہ سیاسی اور ریاستی بدنظمیوں اور شکستہ حالیوں کا غم تھا ! مگر اس غم میں بھی کوئی ایسا شعر تھوڑی نہ لکھ دیتا ھے!

یہ نہ تھی ھماری قسمت کہ وصال یار ھوتا
 اگر اور جیتے رھتے یھی انتطار ھوتا!

5۔ ھوسکتا ھے مرزا غالب کو شراب اور جواء تو پسند تھے مگر اسلام میں یہ منع ھیں اس بات کا غم ھو! کہ آخر کیوں منع ھیں اس لیے انھوں نے کھا تھا!

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
 شرم تم کو کیوں کر نھیں آتی!

مگر یہ بات بھی اتنا بڑا غم نھیں ھے کہ انسان غالب جیسا شاعر بن جائے !

6۔غالب کو عشق کا غم تھا! غالب کو کسی سے عشق ھوگیا تھا جیسے ھوسکتا ھے مرزا غالب کو نواب جان سے ھی عشق ھوگیا تھا اور یہ غم ان کی غزلوں اور شاعری میں چھلکتا تھا!  مگر جھاں تک گلزار نے ڈرامے میں دکھایا ھے تو صررتحال مختلف ھے۔ غالب کو نھیں بلکہ نواب جان کو غالب سے عشق ھوگیا تھا، پھر غالب کو غم کیا تھا؟

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
 کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

7۔ غالب کو کیا غم تھا؟  
غالب کو غم تھا کہ وہ مشھور نہ ھو پائے, اپنے جیتے جی انھیں اس طرح کی مقبولیت نہ ملی جس کے وہ حقدار تھے اور اتنے بڑے شاعر ھونے کہ باوجود غالب کو ایسی تنگ دستی کی زندگی گزارنی پڑرھی تھی۔

ھر ایک بات پہ کھتے ھو تم کہ تو کیا ھے
تمھی کھو یہ انداز گفتگو کیا ھے!

مگر غالب کو کیا صرف شھرت پانے کی چاھت تھی جو پوری نہ ھونے کا غم ان کی زندگی تھا شاعری تھا !
نہ نہ نہ! غالب کو یہ بھی اتنا کوئی بڑا اور واحد غم نہ تھا!
سوال پھر وھی کا وھی ھے کہ اتنا بڑا شاعر مایوسی کا شاعر ،درد کا شاعر ،غم کا شاعر ،غم شدت کی انتھا بیان کرنے والے مرزا غالب کو کیا غم تھا؟ سوال پھر وھی کا وھی ھے،اصل میں مرزا غالب کو یہ سب غم تھے مگر کوئی ایسا غم تھا جو ان سب غموں سے مقدم تھا! وہ کیا غم تھا اس کا حل اگلی بلاگ پوسٹ میں نکالیں گے. ابھی مزید لکھنے کا  ٹایم نھیں ھے۔۔ اگلی پوسٹ تک آپ بھی زرا سوچیں ھمارے انتھائی پسندیدہ اور مشھور مرزا غالب کو درحقیقت کیا غم ھو سکتا تھا !

(written by : Fareeha Farooq)

عرش بریں کے رشتے

ابھی جو میں لکھنے جارھی ھوں یہ میرے لئے بھی اتنی ھی عجیب بات تھی جتنی آپ لوگوں کے لئے ھوگی،پچھلے کچھ مھینوں  سے میںھیر وارث شاہپڑھ رھی ھو وھی کتاب جس کتاب میں وارث شاہ نے ھیر اور رانجھے کے قصے کو شعروں کی شکل میں ڈھالا ھے۔ قصہ چلتے چلتے اس مقام پر پھنچتا ھے جھاں ھیر کے ماں باپ ھیر کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کھیڑوں کے ھاں کررھے ھیں مگر ھیر اس بات پر بضد ھے کہ وہ رانجھے کی منگیتر ھے اور نکاح نھیں کررھی قاضی صاحب ھیر کا نکاح پڑھانے کی کوشش کررھے ھیں مگر ھیر انکار کررھی ھے قاضی اسے سمجھا رھا ھے مگر ھیر اسےجواب دیتی ھے:"قلوب المومنین  عرش الله تعالٰی قاضی عرش خُدایئے داڈھا ناھیں
جیتھے رانجھے دے عشق مقام کیتا اوتھے کھیڑیاں دی کوئی واہ ناھیں
ایہ چڑھی گولیر میں عشق والی جیتھے ھور کوئی چاڑھ لاہ ناھیں
جس جیونے کاج ایمان ویچاں ایھاں کون جو انت فناہ ناھیں "

ترجمہ:
مومنوں کے دل الله کے عرش ھوتے ھیں ،اے قاضی خدا کے عرش کو ڈھانے کی کوشش مت کرو۔جس دل میں رانجھے کے عشق نے گھر بنا لیا ھےاس میں کھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نھیں ھے۔میں عشق کے بُرج پر چڑھ چکی ھوں اور یہ وہ جگہ ھے جھاں پر چڑھادیا جاتا ھے لیکن یھاں سے اُترنا ممکن نھیں ھے۔ جس جیون کے لیے میں ایمان بیچوں وہ بھی تو ختم ھوجائے گا ،یھاں کون ھے جس کو فناہ نھیں ھے۔
"قالو بلا دے دن  نکاح  بدھا رُوح   نبی دی  آپ  پڑھایائے
قطب ھو وکیل وچ آ بیٹھا حکم   رب   نے   آن    کرایائے
جبرایئل  میکایئل گواہ چارے عزرایئل اسرافیل بھی آیائے
اگلا توڑ کے ھور نکاح پڑھنا آکھ رب نے کدُوں فرمایائے"
ترجمہ:
ھم دونوں( ھیر اور رانجھاکا نکاح روز الست سے ھی باندھ دیا گیا تھا اور نبی پاک کی روح نے یہ نکاح خود پڑھایا تھا۔قطب اس میں وکیل بن کر بیٹھا تھا اور یہ حکم خداوندی سے ھوا تھا،چار گواہ کے طور پر وھاں جبرایئل ،میکایئل،عزرایئل اوراسرافیل فرشتے موجود تھے۔(اے قاضی) یہ بتا تو سھی کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا نکاح پڑھانے کا حکم خدا نے کب دیا ھے۔

"جیھڑے عشق دی آگ وے تاؤتتے تنھاں دوزخاں ناال کیھہ واسطہ ای
جنھاں اک دے   ناؤں  تے صدق بدھا   اُنھاں فکر اندیشڑا    کاسدا   ای
آخر صدق   یقین تے کم  پوسی   موت   چرغ   ایھہ   پتلا   ماس دا   ای
دوزخاں موریاں ملن بے صدق جھوٹھے جنھاں بان تکن آس پاس دی اے”

                                                                                                                                                        ترجمہ:
جو لوگ عشق کی آگ میں تپ رھے ھوں ان کا دوزخوں سے کیا واسطہ ھے۔جنھوں نے ایک کے نام کو صدق دل سے اختیار کیا ان کو کسی بات کی فکر نھیں ھے ۔آخر کار بات صدق یقین پر ھی ختم ھوگی کیونکہ گوشت کا یہ پُتلا تو موت کے شاھیں کا شکار ھوجائے گا ۔دوزخ میں سب سے پھلے وھی لوگ جایئں گے جو بے صدق اور جھوٹے ھوں گے اور جن کو دوسروں پر آسرا ھوگا۔             

 

(ھیر وارث شاہ)


ان اشعار میں وارث شاہ نے یہ عجیب منظر عشق کا بیان کیا ھے جس کے مطابق جو لوگ عشق کرتے ھیں ان کا نکاح پھلےسے ھی عرش پر ھوا ھوتا ھے ،آپ لوگ سمجھیں گے کہ یہ میں کتنی فرضی اور رومانوی بات کررھی ھوں مگر یہ میں نھیںیہ تو "وارث شاہجنھیں پنجابی زبان کا شیکسپیئر اور ایک عظیم ترین صوفی بزرگ سمجھا جاتا ھےوہ کھہ رھے ھیں،وارث شاہ نے ان اشعار میں محبت اور عشق کا ایک ایسا روپ پیش کیا ھے جس میں یہ تصور دیا گیا ھے کہ جو دو انسان عشق کرتے ھیں ان کا رشتہ خدا نے عرش پر ھی جوڑا ھوتا ھے ان کا نکاح پھلے سے پڑھا جاچکا ھوتا ھے اب اگر کوئی اس نکاح کو نہ مانے اور ان لوگوں کا نکاح کھیں اور کروا دے تو یہ ایسے ھی ھے کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا پڑھایا جائے ،یہ بھت ھی منفرد بات ھے آج کل کے دور میں ممکن نھیں ھے کہ لوگ ایسی بات کو سمجھے مگر چونکہ عشق کا تعلق وقت اور دور سےآزاد ھے اس لیے ایک سچا عاشق ھی اس حقیقت کو جان سکتا ھے کہ جس سے اس کو عشق ھے اسکا نکاح اس سے پڑھاجاچکا ھوتا ھے۔
 
قرآن کریم میں بھی اس بات کا زکر ھے کہ الله تعالیٰ نے تمام جانداروں کو جوڑوں میں پیدا کیا ھے۔
ادب میں بھی اس طرح کی باتیں بھری پڑی ھیں
قاضی عبدالغفار اپنی کتابلیلیٰ کے خطوطمیں لیلیٰ کو قلم سے لکھتے ھیں کہ
 "کہ ھر عورت کا ایک مرد ھوتا ھے اس دنیا میں جب اس کا مرد اسے مل جاتا ھے تب وہ جانتی ھے کہ جنت دنیا کا دوسرانام ھے اس دھوکے میں مت آؤ کہ ھر مرد ھر عورت کا مرد ھوسکتا ھے ۔ابھی تک یہ فطرت کا ایک راز ھے میں تو اکثر سوچا کرتی ھوں کہ قسام ازل خود جوڑے لگا لگا کر دنیا میں بھیجتا ھے ۔پھر دنیا والے اپنی حماقت سے اس تقسیم کو غلط کردیتےھیں  اور ساری دنیا کو ماتم خانہ بنا کر احمقوں کی طرح اپنی قسمت کا گلہ کرتے ھیں !“
ان سطروں میں بھی یھی واضح کیا گیا ھے کہ جوڑے خود ازل میں تخلیق کیے گیے ھیں یہ بات میں اپنے دوستوں کو سمجھانےکی بھت کوشش کرتی ھوں مگر ھمیشہ ناکام ھی ھوتی ھوں کیونکہ آج کل کا انسان ایسی باتوں کو پسند نھیں کرتا مگر میں بس اس بات کو  یھاں ختم کرتی ھوں کہ
عشق کرنے والے ھی سمجھ سکتے ھیں کہ منکوحہ محبت کیا ھوتی ھے یہ ایک ایسی محبت ھوتی ھے جس میں نکاح پھلے سےھی  یعنی ازل سے   ھوا ھوتا ھے!
سوال تو یہ ھے کہ دنیا میں سماج والے اس نکاح کو توڑ کر دوسرا نکاح کیوں کرواتے ھیں. ھیر کا پوچھا گیا سوال آج بھی صدیوں بعد بھی ویسے ھی سامنے کھڑا ھے کیا ازل سے جُڑا رشتہ دنیا میں توڑنا جایز ھے؟ 
مصنف :فریحہ فاروق
اندھیری چاندنی راتوںمیں
میری آنکھوں کے تاروں میں
جو میں نے رات کاٹی ھے
جو میری شب کی اُداسی ھے

وہ میرے ساتھ رھتی ھے
میں نے عمر بھر جو پالی ھے
وہ گھری اک اداسی ھے
وہ میری جان کی ھی پیاسی ھے


میں ان چاندنی راتوں میں
تارے گننے سے نھیں ڈرتا
میں اس شب کی اُداسی میں
تنھا راتیں کاٹنے سے تو نھیں ڈرتا

میں تنھا ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں

سنھرے دن کے اُجالوں میں
میرے خوابوں خیالوں میں
وہ اک تصویر ٹانگی ھے
جو حد سے زیادہ ھی پیاری ھے

کہ میرے خوابوں میں جو رھتی ھے
جو مجھ سے ھر روز کھتی ھے
کہ جو میرے دل کی ڈالی ھے
یہ کیوں ھر پل مرجھائی سی رھتی ھے

میں اس کے کھلنے سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ بھی ھونے سے نھیں ڈرتا
میںتجھے کھونے سے ڈرتا ھوں



یہ جو دنیا کی بھیڑوں میں
ان لوگوں کی قطاروں میں
جو میں نے وقت کاٹاھے
وہ سب بس اک سناٹا ھے
یہ اک خاموش سناٹا 
جو بھت شور کرتا ھے
جو میرے ساتھ رہ کر بھی 
مجھ سے پھلے گزرتا ھے
میرے اس خاموش جیون میں
جو لفظوں سے ھی خالی ھے
اس بے داغ سے من میں
جو پھیلی اک سیاھی ھے

میں ان خاموش سناٹوں میں
شور کرنے سے نھیں ڈرتا
میں اس بےداغ سے من کو 

سیاہ کرنے سے نھیں ڈرتا

 میں اس بھیڑ میں تنھا 
اکیلے چلنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے اداس ماضی میں
میرے بےحال حالوں میں
جو دھندلی مستقبل کی تصویریں ھیں
جو آدھی ٹیڑھی سی لکیریں ھیں
میرے اداس ماضی میں
جو میں نے جھوٹ بولے ھیں
میرے بےحال ‘حال میں
جو میں نے سچ سنایئں ھیں
میں ان ماضی کے کھلونوں سے
اک جھوٹا تماشا روز کھیلنے سے نھیں ڈرتا
میں اپنے حال کے کُھرے میں
تیری روشنی کرنے سے نھیں ڈرتا
میں سچ سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
یہ جو میری جان جاتی ھے
یوں جب تیری یاد آتی ھے
میری آنکھوں کی جھیلوں میں
جو یہ نمکین پانی ھے
میں یوں رونے سے تو نھیں ڈرتا
میں تجھے یاد کرنے سے نھیں ڈرتا
میں ایسے جینے سے نھیں ڈرتا
میں روز مرنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
میں جس کو پا نھیں سکتا
جو میرا ھو نھیں سکتا
میں اس کا ھونے سے تو نھیں ڈرتا
میں اسے کھونے سے ڈرتا ھوں

وہ جسے پایا نھیں میں نے
میں اسی کو کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے پاس بھی نھیں ھے
جو میرا ھی نھیں ھے

 

میں اسے پانے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ کھونے سے نھیں ڈرتا
 میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
فریحہ فاروق
اب مجھے کسی انقلاب کا انتظار نھیں ھے اب مجھے صرف ایک طوفان نوح کا انتظار ھے .اب مجھے کوئی ایسا انقلاب نھیں چاھیے جو قلب کو بدل دے اب تو مجھے صرف اور صرف ایک طوفان کا انتظار ھے "طوفان نوح” کا ۔ یہ دنیا اس قابل رھی ھی نھیں کہ اسے بدلا جا سکے اس میں انقلاب لایا جائے یا اسے دوبارہ بنایا جائے یہ دنیا تو اب صرف تباھی اور بربادی کے قابل ھے ۔اب ایک ایسا طوفان نوح آئے گا جو اس دنیا کی ھر برائی اور ھر زیادتی کو برباد کردے گا ،یہ نظام اب کسی انقلاب کے قابل نھیں ھے یہ اب برباد ھی ھوجانا چاھیے.
الله تعالیٰ یہ جو دنیا ھے مجھے اچھی نھیں لگتی اسکی کی کوئی سیاسی بحث ،فکری مسئلہ ،مذھبی بندش،معاشرتی اصلاح ،معاشی فقدان اور اخلاقی گراوٹ مجھے پسند نھیں ھے  .مجھے ان سب میں کوئی دلچسپی ھی نھیں ھے مجھے تو بس اب ان سب کے فنا ھونے کا انتظار ھے اب تو بس ایک طوفان نوح آئے گا اور یہ سب کچھ تباہ ھوجائے گا سب برباد ھوجائے گا .یہ طوفان ناگزیر ھے اسے اب آنا ھی ھوگا دھرتی یہ بوجھ اور نھیں سھہ سکتی انسان اس جبر کو مزید برداشت نھیں کرسکتا ۔مجھے اب بس طوفان نوح کا انتظار ھے جب یہ سب ختم ھوجائے گا اور صرف ایک کشتی نوح باقی بچے گی ,جس پر تمام مومن سوار ھوں گے وہ کم تو بھت ھوں گے اور میں بھی ان میں شامل نھیں ھوں مگر صرف وہ مُٹھی بھر لوگ ھی اس کشتی میں سوار کئے جایئں گے۔
باقی تمام زر،تمام اسلحہ ،تمام عمارتیں ، اور تمام امارتیں اس طوفان کی نزر کردی جائے گی نہ کوئی ملک بچے گا نہ کوئی سرحد بچے گی نہ کوئی دشمن اور نہ کوئی دوست بچے گا ،نہ کوئی امیر بچے گا اور نہ ھی کوئی غریب بچے گا ،نہ ھی ماحولیاتی آلودگی رھے گی نہ ھی یہ معاشرے کے مسائل یہ سب میرے طوفان نوح میں بھہ جایئں گے ۔دعا کریں یہ بھت جلد ھی آجائے اب مجھ میں صبر باقی نھیں ھے ۔ کیا کشتی نوح تیار ھوگئی ھے ؟ بس اب اسی کی دیر ھے ،کوئی خدائی مدد آئے گی کوئی ایسا معجزہ ھوگا کہ ایک نوح کو کشتی بنانی آجائے گی اور پھر جیسے ھی یہ کشتی نوح مکمل ھوگی یہ طوفان آجائے گا یہ انجام دور نھیں ھے یہ سب اب بس ھونے ھی والا ھے ۔کچھ دن اور رکنا پڑے گا مگر مجھ میں یہ صبر نھیں ھے الٰھی یہ جلد از جلد ھوجائے ۔
ان سب انقلابیوں کی محنتیں رایئگاں ھی جایئں گی ان کا تمام فلاحی کام افسوس مٹی میں ھی ملنا ھے ۔کسی محبت اور نفرت کا کوئی مقدر نھیں ھے یہ غربت بڑھتی ھی جائے گی ان ناکامیوں نے ایسے ھی ترقی کرنی ھے  ۔غیر فھم اور غیر شعوری انسانی رویئے ایسے ھی پروان چڑھیں گے لالچ اور حوس کا بازار ایسے ھی گرم رھے گا  انسان کے اندر کا حیوان ایسے ھی اُچھل اُچھل کر باھر آتا رھے گا حتیٰ کہ وہ دن نہ آجائے جب میرا طوفان نوح آئے گا اور ان سب کو برباد کرجائے گا ،اتنا اتنا پانی ھوگا کہ یہ سب ڈوب جائیں گے ،یہ سوپر پاورز یہ جنگیں لڑنے والے ،یہ دھشت پھیلانے والے یہ معصوم مرنے والے یہ سب ظلم ڈھانے والے ،یہ سب ظلم سھنے والے یہ خؤد کو برباد کرنے والے اور خود کو سولی پر چڑھانے والے یہ سب فنا ھوجائے گے ۔اس طوفان کو آنے تو دو اس طوفان میں اب بس دیر ھی کتنی ھے۔۔۔

دنیا میں کوئی بڑا واقعہ ھوجائے  کتنی بھی سنسنی خیز خبریں آرھی ھوں کتنے ھی معاشرتی جرائم بڑھ رھے ھوں کتنی ھی نیئ ایجادیں ھورھی ھوں ترقی کی سیڑھیاں چڑھی جارھی ھوں ان سب چھوٹی یا بڑی باتوں سے مجھے کوئی فرق نھیں پڑتا کیونکہ میں ان سب کا مقدر جان گیئ ھوں اور وہ فنا ھے یہ سب اب تبدیل نھیں ھوگا یہ سب تو اب فنا ھوگا ۔ تنوع یا diversity اب اس عروج پر پھنچ گئی ھے جھاں یہ بدصورتی کی انتھا پر پھنچ گئی ھے اب اس diversity کو ایک چیز چاھیے اور وہ ھے "تباھی” اب اس نے تباہ ھونا ھے،یہ سب تو آخری لمحے کے ڈھونگ اس سب کو بچانے کے میں تو اس منزل پر پھنچ گیئ ھوں جھاں میں نے اس سیارے "زمین” کو چھوڑنے کا ارادہ مصمم کرلیا ھے.اب بس یہ دنیا چھو ٹنے والی ھے یہ ختم ھونے والی ھے ۔کشتی نوح کون لوگ بنا رھے ھیں, وہ کون ھیں جو اس پر سوار ھوں گے, وہ کون ھے جو طوفان نوح تھمنے کے بعد اس نیئ جنم لی ھوئی دھرتی پر پاؤں رکھے گے .میں یہ سب نھیں جانتی مگر کوئی جانے یا نہ جانے ،مانے یا نہ مانے, دیکھیے یہ سب ھونے تو والا ھے ۔مجھے یقین ھوگیا ھے کہ الله تعالیٰ نے ارادہ کرلیا ھے. انسانی پھیلائی ھوئی تمام گندگی کو دھونے کا الله تعالیٰ نے اب اتنا پانی برسانا ھے کہ ان سب کو دھو دینا ھے اپنی دھرتی کو غُسل دینا ھے اس زمین کو پاک کرنا ھے. اب یہ اور آلایش برداشت نھیں کرسکتی لوگ اسے گرین ھاؤس ایفیکٹ کا نام دیں گے کھیں گے کہ دیکھو گلیشرز پگھل رھے ھیں مگر میں نے اسے طوفان نوح کا نام دیا ھے ۔ یہ نااُمیدی کی انتھا نھیں ھے یہ مایوسی کی بات نھیں ھے یھی تو اصل انقلاب ھے ,یہ فنا یہ بربادی یہ طوفان نوح ھی اصل انقلاب ھے اس کے بعد ھی خوشی کی اصل خوشبو آئے گی اصل خوشی اس خواھش کے پورا ھونے سے ھوگی مجھے ۔الله تعالیٰ میری کوئی خواھش پوری نھ ھومگر یہ ایک خواھش پوری ھوجائے ۔مجھے دنیا میں کسی خوشی کی خواھش نھیں ھے صرف اس ایک خوشی کی خواھش ھے کہ یہ طوفان نوح جلدی آجائے ،یہی دنیا ھے تو ایسی دنیا برباد ھی ھوجائے الله تعالیٰ اب اور صبر نھیں ھوتا کل ھی آجائے پلک جھپکتے ھی آجائے یہ طوفان ۔یہ ایسی دنیا فناھی ھوجانی چاھیے۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

ٹیگ بادل