ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for جنوری, 2011

میں نے محبت نھیں دیکھی

میں نے پھولوں کو دیکھا ھےمیں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے سورج کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے بادل کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے شبنم کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے قسمت کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی

 
یہ شکوہ ھے مجھے اپنے اردگرد کے ماحول سے جھاں سب کچھ تو نطر آتا ھے مگر محبت نطر نھیں آتی ھے. محبت کو دیکھنے کی سچی حیرت میرے دل میں موجود تھی. وہ محبت جو وارث شاہ نے دیکھی تھی ،ھیر رانجھے میں ۔ وارث شاہ پر بھت حیرت ھوتی ھے مجھے آخر ان کے پاس ایسی کونسی نطر تھی جس سے انھیں دونوں کی محبت نطر آ گیئ میری آنکھ سے تو ایسی کوئی چیز نطر نھیں آتی۔
میرے اردگرد بھت سے لوگ ھیں چیزیں ھیں قدرت ھے مگر محبت کا فقدان ھے۔میں نے بھت سے لوگوں کو محبت کا دٰءویٰ تو کرتے دیکھا ھے مگر محبت کو نھیں دیکھا۔
لوگوں کویہ کھتے سنا ھے کہ مجھے اس کھانے سے محبت ھے اس رنگ سے محبت ھے اس انسان سے محبت ھے اس کپڑے سے محبت ھے مگر میں نے پھر بھی کبھی محبت نھیں دیکھی۔
 فلموں میں ،گانوں میں کھانیوں میں تو محبت نطر آھی جاتی ھے مگر زندگی میں محبت نطر نھیں آئی اب مجھے یقین ھوگیا ھے محبت نھیں ھوتی اگر ھوتی تو نطر آجا تی ۔ضرورت ھی سب سے بڑی چیز ھےبئض دفئہ لوگ ضرورت کو محبت بنا لیتے ھیں اور بئض محبت کو ضرورت ۔مگر نطریہ ضرورت پھر بھی حاوی رھتا ھے۔ محبت چاھے ملک سے ھو یا مزھب سے میں نے محبت کبھی نھیں دیکھی ۔میرے اردگرد ایسے ھی لوگ بستے ھیں جنھوں نے میری طرح محبت نھیں دیکھی اگر دیکھی ھوتی تو شاید اس پر ءمل کر لیتے .میں نے محبت نھیں دیکھی وارث شاہ نے ھی دیکھی تھی میں نے تو نھیں جانا بلھےشاہ کو ھی پتہ ھوگا.اس نے تو شیخ ءنا یت سے کی تھی. اس لیےً وہ جانتا ھوگا میں تو یھی سوچتی ھوں محبت کیسی ھوتی ھوگی. کیا یہ پھولوں جیسی ھوتی ھوگی جس میں رنگ اور خشبو کے سا تھ کا نٹے بھی ھوتے ھیں ۔کیا یہ سورج جیسی ھوتی ھوگی جو چمکتی ھے تو اس کی چمک سے کوئی بچ نھیں سکتا.
 جو ھر مردہ چیز میں بھی اپنی توانائی پھونک دیتی ھے ۔کیا محبت بادلوں جیسی ھوتی ھے جو دور سے بھت ھی خوبصورت اور پرکشش ھوتے ھیں جن کو پاس جا کر چھونے کا دل کرتا ھے .مگر پاس جا کر بھی انھیں آپ چھو نھیں سکتے , محسوس کرسکتے ھیں. کیا محبت شبنم جیسی ھوتی ھوگی جو ایک دم سے خود بخود وجود میں آجاتی ھے اور خود بخود غائب بھی ھوجاتی ھے.جو خوبصورتی کی ءلا مت تو ھوتی ھے مگر حقیقت میں بھت سادہ سا پانی کا قطرہ ھوتی ھے
اور یہ
شبنم  بن کر پھول کو چار چاند لگا دیتی ھے۔ مجھے نھیں پتا محبت کیسی ھوتی ھوگی شاید یہ شبنم جیسی ھوتی ھوگی
میں نے کبھی نھیں دیکھی محبت ۔ محبت کیسی ھوتی ھوگی شاید قسمت جیسی ھوتی ھوگی میں نے محبت تو نھیں دیکھی مگر میں نے قسمت کو دیکھا ھے قسمت بدلتی نھیں ھے جو بدل جائے وہ قسمت نھیں ھوتی محبت بھی شاید ایسی ھی ھوتی ھوگی یہ بھی قسمت جیسی ھوتی ھوگی, محبت بھی بدلتی نھیں ھوگی یہ بھی اٹل ھوتی ھوگی, ھوسکتا ھے۔ میں یقین سے نھیں کھہ سکتی کیونکہ میں نے کبھی محبت نھیں دیکھی ۔ھاں مگر میں نے ماں کو دیکھا ھے اس کی جبلت کو دیکھا ھے کیا محبت ماں جیسی ھوتی ھے.
کیا ماں کی جبلت جیسی ھوتی ھے محبت ۔ کیا ماں جیسی ھوتی ھے محبت۔ پتا نھیں میں نے تو محبت نھیں دیکھی مگر میں نے ماں کو دیکھا ھے.میں نے پھولوں کو دیکھا ھے. میں نے سورج کو دیکھا ھے .میں نے بادل کو دیکھا ھے. میں نے شبنم کو دیکھا ھے. میں نے قسمت کو دیکھا ھے ۔ میں نے محبت تو نھیں دیکھی مگر ان سب کو دیکھا ھے. جسے آج تک نھیں دیکھا اسی کو سب میں دیکھا ھے۔ اسی کو سب میں ڈھونڈاھے۔ مگر میں نے محبت نھیں دیکھی میں نے سچ میں کبھی محبت نھیں دیکھی ۔
فریحہ فاروق کے نام

ٹیگ بادل