ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for فروری, 2011

کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے

                          کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
زندگی کی سولی پر چڑھنے سے پھلے
جذباتوں کی گنگا میں بھنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
جوانی کی سیڑھی پر پر چڑھنے سے پھلے
بڑھاپے میں منہ کے بل گرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے ھنستے تھے
محبت کی راھوں میں رُلنے سے پھلے
خوابوں کی گلیوں میں گھُلنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے لگتے تھے
مجبوریوں کی چکی میں پسنے سے پھلے
زمہ داریوں کے بوجھ میں پھنسنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے کھلتے تھے
گناھوں کے بھنور میں اُلجھنے سے پھلے
نیکیوں کے سمندر میں اُبھرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے لگتے تھے
غلطیوں کے بوجھ تلے دھنسنے سے پھلے
روز روز زندگی میں مرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
دیکھا ھے ھم ایسے دیکھتے تھے
سوچا ھے ھم ایسے لگتے تھے
جانا ھے ھم ایسے ھنستے تھے

Written by: Fareeha Farooq 
Advertisements

بدنیک انسان

میں نیک انسان ھوں 
میں بد انسان ھوں
مجھ سے ملیں میں بدنیک انسان ھوں
آپ سوچ رھے ھوں گے یہ کیا نیا مرکب ھے بدنیک انسان مگر یھی حقیقت ھے، امتحانی تحقیقات اور تجربات کی روشنی میں مجھے یہ خیال وارد ھوا ھے کہ نہ تو میں نیک انسان ھوں اور نہ ھی بُرا یا بد انسان ،میں تو صرف ایک بدنیک انسان ھوں ۔میرا مسلہ کچھ اسطرح ھے کہ میں نیکی کو تو بھت حسین اور دل پسند سمجھتا ھوں لیکن مجھے برائی سے بھی کبھی کوئی ایسی کوفت نھیں ھوئی میں نے اچھائی اور برائی دونوں کو ھی زندگی میں قبول کرلیا ھے اب نہ تو اچھائی بُری لگتی ھے اور نہ ھی بُرائی میں موئی برائی نظر آتی ھے۔
یہ تو ھم سب جانتے ھیں کہ اچھائی اور برائی دونوں ھی Theory of Relativityکو followکرتے ھیں اگر کوئی مریخ سے زمیں کا نظارہ کرے تو شاید اسے یھاں زمین کا برا کام بھی اچھا معلوم ھو کیونکہ مریخ کا رھنے والا اس کام سے محفوظ ھوگا مگر دنیا میں رھنے والے کے لیے وہ کام برا ھی ھوگا کیونکہ وہ اس برائی سے خود کو غیرمحفوظ غیرتصور کرے گا۔اسی طرح پوری دنیا میں عجب اچھائی برائی کا کھیل چل رھا ھے۔
گالی دینا ایک بُرا کام ھے یہ ھم سب جانتے ھیں مگر یھی گالی کوئی کسی کرپٹ سیاستدان کو دے تو لوگ تالی ماریں گے اور آپ کی گالی کا بھی استقبال کریں گے ۔کیوں کیا اب یہ برائی نھیں رھتی؟
کسی بڑے ترقی یافتہ ملک میں جا کر رھنے کا خواب دیکھنے والے اسے بھت اچھا ملک سمجھنے والے ،اسے دنیا کی جنت سمجھنے والےلوگ اس ملک کی ھلکی پھلکی اجارہ داری پر ایسے آوازیں بلند کرتے ھیں جیسے اس سے برا کوئی اور ملک ھو نھیں سکتا ۔کیا یہ وھی اچھا ملک نھیں ھے جس کے خواب آپ سجاتے ھیں ؟ معاملہ سنجیدہ ھوگیا ھے ۔۔۔چھوڑے اسے۔
ھاں تو میں کھہ رھا تھا بدنیک آدمی،جو کہ میں خود بھی ھوںاور بھی بھت سے ھوں گے ھمارے معاشرے میں مگر لوگ تو یا صرف نیک یا بد انسان سمجھ پاتے ھیں ،ھم بیچارے تو یہ دونوں ھی نھیں ھوتے ۔ھم اچھا کام کرنے کی طرف راغب تو ھوتے ھیں مگر ھمارے اچھے
کام بھی ھماری طرح برائی کی طرف راغب ھوجاتے ھیں ۔ھم کوئی نیک کام بھی کرے تو اس کا نتیجہ برائی پر ختم ھوتا ھے یا یہ کھیے کہ ھماری نیکی پر ھی برائی چھائی ھوتی ھے اور ھماری نیکی معصوم ھمیشہ برائی کے ماتحت ھی رھتی ھے ۔ھماری زندگیوں میں اچھائی برائی ،نیکی اور بدی کی ایسی جنگ چلی ھے کہ ھم بدنیک لوگ آخر تنگ آکر کھتے ھیں کہ کچھ نھیں ھوتا”پیار اور جنگ میں سب جایز ھے“ اب یہ طے کرنا مشکل ھے کہ زندگی کو جنگ سمجھ کر یہ کھتے ھیں کہ موت کو پیار ،بنا کر۔مگر نتیجہ ھمیشہ ھار ھی ھوتا ھے ۔

مجھے نیک لوگ کبھی سمجھ میں نھیں آئے ،میں ھمیشہ نیک لوگوں سے دور بھاگتا آیا ھوں کیونکہ نیک لوگ ھمیشہ اپنی نیکی سے مجھے ایک احساس شرمندگی کی دلدل میں ڈبو دیتے ھیں یہ لوگ ھماری برائی پر تنقید کرکے ھمیں کبھی طعنہ دینے سے نھیں چونکتے اور برے لوگوں سے اصل کے برے لوگوں سے بھی مجھے ڈر لگتا ھے کیونکہ یہ بعض اوقت اپنی برائی کے نشے میں یہ بھی بھول جاتے ھیں کہ وہ انسان ھیں یا حیوان ۔ھمیں تو بد نیک انسانوں کی صحبت ھی اچھی لگتی ھے ھم نے دوست بھی ایسے ھی بنائے ھیں جو زندگی کو ایسے گزارے کے نہ تو اچھائی کی اھمیت کا اندازہ ھوسکے اور نہ ھی برائی کے نقصان کا۔مگر کیا ھر اچھائی نیکی ھوتی ھے ؟ اور کیا ھر غلطی گناہ ھوتی ھے ؟ کیا غلطی کرنا ھی برائی ھوتی ھے ؟
غلطیاں انسان سے ھی ھوتی ھیں اور شاید حساس انسان سے ھوتی ھیں کیونکہ جو لوگ جتنے زیادہ حساس ھوتے ھیں وہ اتنی زیادہ غلطیاں کرتے ھیں ۔پریکٹیکل اور سمجھدار انسان کبھی غلطیاں نھیں کرتایہ تو emotional اور sensitive لوگوں کی معراج ھے ھم بدنیک اور حساس لوگ جب بھی کوئی نیکی کرنے لگتے ھیں تو فطرتا کوئی نہ کوئی غلطی سرانجام دے دیتے ھیں اور وہ غلطی ھماری نیکی کو بدی کے رخ موڑ دیتی ھے غلطی برائی کی ماں بن کر ابھرتی ھے اور ساری نیکی کنویں میں گر جاتی ھے ،ایک اور بات یاد آرھی ھے کہ "اعمال کا دارومدار نیت پر ھوتا ھے “ آخر ان بدنیک یعنی اچھائی اور برائی کے کمپاؤنڈ کاموں کا دارومدار کس پر ھوتا ھے ؟کیا ھماری نیت ھی خراب ھوتی ھے ؟ معلوم نھیں نیت تو نیکی کی ھی ھوتی ھے
مگر اعمال غلط ھوجاتے ھیں ،یہ کیا عجیب ڈرامائی فکر ھے ؟ نیکی بدی اعمال نیت ،مگر ایک بات تو یقینی ھے کہ آپ نیکی کرے یا برائی ،نیک انسان ھوں یا بد انسان یا پھر بدنیک انسان ،انسان غلطی ضرور کرتا ھے اور لوگ ھماری غلطیوں پر ھمیں اچھا،برا مانپتے ھیں ھماری اچھائی ،برائی پر نھیں ۔لوگوں کے پاس شاید وہ آلہ ھی نھیں جو جو نیکی اور بدی کے ساتھ غلطی کی بھی پھچان کر سکے ،پھر شاید ھم اپنے آپ کو بدنیک انسان سمجھنا چھوڑ دیں "غلط انسان” سمجنا شروع کردیں پھر میں لکھ رھا ھوں گا “میں غلط انسان“ کیونکہ غلطی تو ھم سب سے ھوتی ھے
اب شاید میں کھہ سکتا ھوں کہ” میں نیک انسان جو کرنے تو نیکی جاتا ھےاور پھر غلطی سرزد کردیتا ھے اور لوگ اس غلطی کو بدی سمجھ لیتے ھیں اور میری نیکی بدی میں بدل جاتی ھے اور میری غلطیاں مجھے بدنیک انسان بنا دیتی ھیں “
افسوس اب ھمیں اسی سماج میں رھنا پڑے گا جھاں نیکی اور بدی کے درمیان تو لکیر کھینچ دی گیئ ھے مگر برائی اور غلطی کے درمیان کوئی فرق نھیں سمجھا جاتا،یھاں لوگ غلط انسان کو غلطی سدھارنے کا موقع نھیں دیتے بلکہ اسے بدانسان بنا کر معاشرے سے علیحدہ تصور کرنے لگتے ھیں یھاں برائی کو سمجھنے والے اور اھمیت دینے والے اور سزا دینے والے تو ھزاروں ھیں مگر افسوس غلطیوں کو سمجھنے والے ان پریکٹیکل انسانوں میں نھیں ملتے ۔ان کی ڈکشنری میں غلطی اور برائی کے ایک ھی معنی پائے جاتے ھیں مگر ھم حساس لوگ ان کی بدولت اپنی غلطیوں کو نھیں دھراتے اس لیے ھم ان سب پریکٹیکل انسانوں کا شکریہ ادا کرتے ھیں ۔۔۔شکریہ
مصنف: فریحہ فاروق

تمام یکطرفہ محبت کرنے والوں کے نام۔۔۔………..یکطرفہ محبت کیا ھوتی ھے؟


کبھی پتھر سے محبت کی ھے کبھی پتھر کی پوجا کی ھے کبھی پتھر پر اعتقاد کیا ھے
مگر پتھر سے محبت کرنے سے کیا فرق پڑتا ھے ؟پتھر پر تو کبھی کوئی اثر نھیں ھوتا ۔
مگر وہ انسان جو پتھر سے محبت کرتا ھے اس پر ضرور پڑتا ھے میرے اکثر دوست مجھ سے پوچھتے ھیں کہ یکطرفہ محبت کیا ھوتی ھے ؟ میں کھتی ھوں یہ پتھر سے محبت ھوتی ھے جو لوگ انسان سے نھیں پتھر سے محبت کرتے ھیں وھی یکطرفہ محبت کرتے ھیں۔پھر وہ پوچھتے ھیں کہ کیا یکطرفہ محبت کا کوئی فایدہ ھوتا ھے ؟
تو میں کھتی ھوں کہ پتھر کو تو شاید کوئی فایدہ نھیں ھوتا مگر محبت کرنے والے کو ضرور ھوتا ھوگا۔تو وہ پھر پوچھتے ھیں کہ کیا ایسے فایدے کا کوئی فائدہ ھوتا ھے؟
میں کھتی ھوں ھاں نھیں ھوتا مگر استعمال ضرور ھوتا ھے ۔آپ اس پتھر کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرلیتے ھو۔آپ سمجھتے ھو کہ شاید پتھر نے مجھے استعمال کیا ھے مگر درحقیقت آپ پتھر کو استعمال کر رھے ھوتے ھو بیچارا پتھر تو بغیر جانے بوجھے کے وہ کس کی ،کسطرح مدد کررھا ھے ،مدد کرتا اور استعمال ھوتا ھے ۔
دوست پوچھتے ھیں کہ کیا یکطرفہ محبت میں توقعات باندھنی چاھیے ؟
تو میں جواب دیتی ھوں نھیں پتھر سے آپ کوئی توقع نھیں کرسکتے وہ تو بیچارہ پتھر ھے وہ کیا کرسکتا ھے آپ کے لیے نہ تو وہ بول سکتا ھے اور نہ عمل کرسکتا ھے تو پھر ھماری توقعات کھاں پوری کرسکتا ھے۔
ھاں مگر تم جو یکطرفہ محبت کرتے ھو تم پتھر نھیں ھوتے تم تو چل پھر سکتے ھو بول سکتے ھو بشر ھو تم اپنی توقعات پوری کرسکتے ھو۔
دوست پوچھتے ھیں اس کا کیا مطلب ھوا میں اپنی توقعات پوری کرسکتا ھوں ؟
میں جواب دیتی ھوں ،دیکھو یکطرفہ محبت میں محبت اپنے آپ سے تو نھیں کی جاتی مگر توقعات اپنے آپ سے ھی لگائی جاتی ھیں یکطرفہ محبت کا اصول ھے کہ آپ پتھر سے نھیں اپنے آپ سے توقعات جوڑو۔ یہ محبت پتھر کا نھیں آپ کا امتحان ھوتی ھے تمھیں خود امتحان بنانا خود اس کو سمجھنا اور خود اس امتحان کو نبھانا ھوتا ھے۔
دوست کھتے ھیں کہ یہ کتنی عجیب بات ھیں کہ محبت تو کسی اور سے کروں اور توقعات خود سے.
میں پھر کھتی ھوں بس دوست یہ ایسی ھی عجیب پٹری ھے ۔پتھر کی محبت آسان نھیں ھوتی یہ سب محبتوں میں سب سے کٹھن اور تپسیا سے بھرپور محبت ھے اس میں بظاھر تو کچھ حاصل نھیں ھوتا مگر احساس محرومی ختم ھوجاتا ھے ۔
دوست کھتے ھیں کیسا احساس محرومی ؟
میں جواب دیتی ھوں
یھی کہ ھم نے کبھی محبت نھیں کی، کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے یکطرفہ کیوں نہ ھو۔چاھے توقع اپنی زات سے ھی کیوں نہ جڑی ھو ، چاھے ھر امتحان ھر ارادہ اکیلا آپ کا ھی کیوں نہ ھو،مگر پھر بھی محبت محبت ھوتی ھے چاھے یکطرفہ ھو چاھے پتھر سے ھو۔
تمام یکطرفہ محبت کرنے والوں کے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Written by:
Fareeha Farooq. 

کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا


کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا کچھ ناموں کو صرف نام ھی رھنا چاھیے۔ان کا وجود کبھی حقیقت نھیں بننا چاھیے کیونکہ نام اور حقیقت دونوں ایک نھیں ھوتے۔کردار کیا ھوتا ھے کیا نام اور کردار ایک ھی حقیقت کو عیاں کرتے ھیں ؟ وجود اور نام کا آپس میں کیا تعلق ھوتا ھے؟
وہ نام جن کا وجود نھیں ھوتا ھونا بھی نھیں چاھیےنام کے بھت سھارے ھوتے ھیںمگر وجود کے سھارے نھیں ملتے۔اگر ان ناموں کا وجود سامنے آجائے تو نام کا یقین حقیقت سے دور اور وجود حقیقت کے پاس آجاتاھے مگر نام حقیقت نھیں وجود حقیقت ھوتا ھے۔نام سب سے بڑی حقیقت کی ضد ھوتی ھے۔ دنیا ناموں کے سھارے کبھی نھیں سمجھتی ۔وجود کے دھوکے تو سمجھ لیتی ھے مگر ناموں کے اعتقاد کو نھیں جان پاتی۔
اس لیے کچھ ناموں کے وجود نھیں ھوتے مگر خوفناک حقیقت اس وقت منظر عام پر آتی ھے جب وہ نام جن کا وجود نھیں ھوتا کسی وجود کا نام بن جاتے ھیں ۔وجود نام کا بوجھ اُٹھائے ھوئے سامنے آجاتا ھے مگر نام ؟ ھمارے ناموں کا تو وجود نھیں ھوتا ھونا بھی نھیں چاھیے ھم برداشت نھیں کرسکتے اس وجود کو،ھمیں تو صرف نام کی ضرورت ھوتی ھے۔
اسی طرح کچھ مذاھب کا خدا نھیں ھوتا ۔یہ مذاھب تو بھت اچھے ھوتے ھیں ان کی عبادت میں بھت سرور ھوتا ھے مگر ان مذاھب میں خدا نھیں ھوتا اور اگر خدا آجائے تو؟ نھیں کچھ مذھب بغیر خدا کے ھی قایم رھتے ھیں ۔ان میں خدا کی ضرورت نھیں ھوتی اس میں کوئے سزا جزا نھیں ھوتی۔یہ مذھب آزادی کا پیکر ھوتا ھے اس میں ھر پنچھی آزاد ھوتا ھے،مذھب کی قید موجود ھوتی ھے مگر خدا کی بندش نھیں ھوتی اور اگر ان مذاھب کا خدا پیدا ھوجائے ؟پھر ؟اگر ان مزاھب کا خدا آجائے پھر؟ پھر؟ ھم کیا کر یں گے ھمیں تو صرف مذاھب کی ضرورت تھی خدا کی نھیں ۔ان مذاھب میں خدا نھیں آنا چاھیے اگر خدا کا ساتھ مل گیا تو ھم کیا کریں گے،کیونکہ کچھ مذاھب کے خدا نھیں ھوتے ۔سچ میں بالکل نھیں ھوتے اور اگر کھیں سے وجود میں آجائے تو ؟ نھیں
کچھ مذاھب کے خدا نھیں ھوتے،
کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا،
(نامکل)

Writter: fareeha farooq. 

ٹیگ بادل