ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for اپریل, 2011

فرانس میں نقاب کرنے پر پابندی

فرانس میں نقاب کرنے پر پابندی لگ گئی ھے اب وھاں گھر سے باھر نکلنے پر کوئی مسلمان عورت حجاب نھیں کرسکتی۔ منہ اور سر کو ڈھانپنا ایک جرم سمجھا جائے گا اور جو بھی یہ جرم سرزد کرے گا اس پر جرمانہ عایئد کیا جائے گا یہ بات ھم سب پر بھت بڑا صدمہ بن کر ٹوٹی ھے اسلام پر ایک اور حملہ ! مغرب کی ایک اور سازش ،اسلام کا پھر سے استحصال ! مغرب نے انسان کو آزادی صحافت ،آزادی نسواں ،آزادی اظھار اور ھر طرح کی آزادی دینے کا بیڑہ اُٹھایا ھے تو پھر آزادی مذھب کیوں نھیں؟یہ سب صورتحال ھم سب برصغیر کے مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں پر بھت گریزاں گزری ھے۔
اسلام جو ھماری جینز کا تو نھیں مگر جین میوٹیشن کا حصہ ضرور ھے اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی اور وہ بھی دیار غیر میں ھم کیسے برداشت کرسکتے ھیں ؟ ھم تو اس حجاب کی بھت عزت کرتے ھیں اس کے بھت بڑے علمبردار ھیں ،ھمارے یھاں بھی تو خواتین پردہ کرتی ھیں ،لاھور کی سڑکوں پر برقعہ پوش خواتین بآسانی نظر آجاتی ھیں ،اندازہ لگائے تو ھر 50 میں سے دو خواتین لازمی حجاب کرتی ھیں مگر بھت مرتبہ میں نے اپنے شھر کی سڑکوں پر کچھ عجیب نظارے دیکھے ھیں خواتین جنھوں نے کالے برقعے زیب تن کئے ھوتےھیں ،چھرے پر مکمل نقاب ،آنکھیں بھی مشکل سے نظر آرھی ھوتی ھیں ،موٹر سایکل پر اپنے خاوند یا جو کوئی بھی ھوسکتا ھے،کچھ اس ڈھنگ سے بیٹھی ھوتی ھیں کہ حیرت ھوتی ھے ،“پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے“

میں نے ایسے بے شمارسڑکوں پر نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھے ھیں، زرا تصور کیجیے کالے برقعے میں ملبوس لڑکی ھاتھوں تک پر Gloves چرھائے ھوئے صرف آنکھیں کالے پردے سے جھانک رھی ھیں اور یہ محترمہ اپنے پارٹنر کے ساتھ کچھ ایسے موٹر سایئکل پر بیٹھی ھوئی ھیں جیسے کوئی لڑکی cow boy dress پھن کر Holly wood کی فلم کا سین عکس بند کروارھی ھو نقاب پوش لڑکی نے اپنے پارٹنر کو جکڑ کر اس کی کمر کے گرد اپنی بازؤں کا حصار بنایا ھوتا ھے جیسے کسی بایئک پر نھیں بلکہ 180 km |h کی سپیڈ سے چلنے والی Roller coaster ride پر سوار ھو اور اگر کبھی اپنے سر کا بوجھ برداشت نہ ھورھا ھو تو وہ بھی اپنے پارٹنر کے کندھے پر رکھنا پڑجاتاھے ۔دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ھوتا ھے کہ ھوا بھی کچھ کرلے درمیان سے گزر نھیں سکتی۔ ایسے سین بلاشبہ اور بھی بھت سی خواتین جو حجاب نھیں کرتی ھماری سڑکوں پر سرعام عکس بند کروارھی ھوتی ھیں مگر جب ایک برقعہ پوش خاتون جس کا ظاھر پردے کی پاسداری کا غماز دیتا ھے،اس طرحکے سین سرعام عکس بند کرواتی ھیں تو صرف ایک سوال میرے دماغ میں جنم لیتا ھے کہ آخر
“نقاب یا پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے چھرے کا یا بےحیائی کا ؟ جسم کا یا روح کا؟“
اگر ھم یہ سب دنیا کو دکھا سکتے ھیں تو آخر ایک چھرہ چھپانے میں کونسی اسلام کی سرفرازی ھورھی ھے ۔بلاشبہ اس طرح کی حرکات برقعہ یا حجاب اوڑھ کر کرنا “برقعے“ کی بھی بےحرمتی ھیں ،کیونکہ اگر ھم لوگ بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے تو کسی ظاھری چیز کا پردہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ھے۔
ھم نے برقعے کو بھی فیشن کی جگہ دی اس کو پرکشش بنانے کےلیے ذیبایش و آرایش سے آراستہ کیا اور اب ھمارے بازاروں میں ایسے برقعے دستیاب ھیں جن کا مقصد پردہ نھیں بلکہ “ زیبایش اور فیشن سے بھرپو پردہ ھے“ 
۔ برقعے کا تو بھت احترام ھے یہ تو بھت بڑی زمہ داری ھے اگر آپ اس زمہ داری کو اُٹھا کر بھی اس کو صحیح طریقے سے نھیں نبھا رھے تو یہ بھی اس کی بےحرمتی ھی ھے برقعہ نہ پھننے والا اس کی عزت کرے نہ کرے اس کی بےعزتی نھیں  misuse نھیں کرسکتا اس کا  misuse صرف وھی کرسکتا ھے جو اس کی ذمہ داری اُٹھاتا ھے ،یہ فرانس میں کیوں Ban ھوا اسے تو یھاں ان لوگوں کے لیے Ban ھوناچاھیے جو چھرے کا پردہ تو کرتے ھیں مگر بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے ،جو سر سے پاؤں تک حجاب کرکے عریاں حرکات سرعام کرنے کا حجاب نھیں کرتے ۔۔
میں پھر پوچھتی ھوں یہ کیسی جگہ ھے جھاں حسن کا پردہ ھوتا ھے ،چھرے کا پردہ ھوتا ھے ،احساسات کا پردہ ھوتا ھے،جزبات کا پردہ ھوتا ھے لیکن "بےحیائی” کا پردہ کیوں  نھیں ھوتا!!!!!

تمام برقعہ پوش بھنوں سے انتھائی معذرت کے ساتھ

written by : Fareeha Farooq. 

میں نے نرگسیت کو دیکھا ھے

محبت تو معلوم نھیں کیا ھوتی ھے مگر یہ نرگسیت "اپنی زات سے محبت” ھوتی ھے۔حالانکہ میں یہ تو نھیں بتا سکتی کہ محبت کیا ھوتی ھے کیونکہ یہ میں جانتی ھی نھیں ،میں نے یہ دیکھی ھی نھیں مگر مجھے یہ معلوم ھے کہ نرگسیت کیا ھوتی ھے؟ انتھائی عجیب بات ھے کہ مجھے محبت کے معنی تو معلوم نھیں ھیں محبت کو سمجھنے سے میں قاصر ھوں لیکن مجھے نرگسیت کے معنی معلوم ھیں "اپنی ذات سے محبت” کو سمجھنے سے میں کبھی قاصر نھیں رھی۔
نرگسیت ایک ایسی محبت کی قسم ھے جو سب سے زیادہ عام ھے مگر سب سے زیادہ خطرناک بھی ھے کیونکہ نرگسیت ایسی ذاتی محبت ھوتی ھے جو انسان کو ھلاک کردیتی ھے اس میں ھلاکت کے اثرات بھرپور حد تک موجود ھوتے ھیں ۔ھم سب دنیا والے محبت کا پرچار کرتے ھیں اس کی خوبیاں بیان کرتے ھیں اس کو انسان اور دنیا  کے لیے رحمت تصور کرتے ھیں مگر محبت اور نرگسیت میں زمین آسمان کا فرق ھے ۔نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جسے کوئی انسان بھی اچھا تصور نھیں کرسکتا یہ ایسی محبت ھے جو مفاد پرستی کی دیوی ھوتی ھے، دنیا میں تمام قسم کی محبتوں کا فن “دینا“ یا “عطا “ کرنا ھے مگر نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جس کا مقصد صرف اور صرف چھیننا ھوتا ھے یہ محبت خود پسندی ،زاتی مفاد ، خود غرضی اور لالچ کی بھینٹ چڑھی ھوتی ھے یہ محبت خلوص سے خالی اور غرور سے بھرپور ھوتی ھے۔نرگسیت ایک ایسی بیماری ھے جو ھمارے ارد گرد کے لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ھے۔

ایڈز کی طرح اس بیماری کا علاج یا تو ممکن نھیں یا انتھائی دشوار اور ھماری پھنچ سے باھر نظر آرھا ھے۔اگر ھم اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں تو ھر سطح پر یہ نرگسیت عروج پر پھنچی ھوئی ھے وہ ھماری اپنی زات ھو یا ھمارے دوست یا رشتہ دار ھر ایک اس بیماری میں مبتلا نظر آتا ھےھم اپنی نرگسیت کا اظھار کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ھیں "کھیں میں فیل نہ ھوجاؤ ” ،کھیں میری بستی نہ ھوجائے“ "کھیں میرے ڈریس کا ڈیزاین کوئی چوری نہ کرلے“ ،“کھیں میرے نوٹس کوئی اور نھ پڑھ لے“ یہ سب باتیں ھمارے لاشعور میں پل رھی نرگسیت کی زبان ھوتی ھیں ۔۔
کیا خود سے محبت کرنا اتنی بُری چیز ھے ؟کیا یہ اتنی خطرناک بیماری ھے جو ھماری ذات کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پھنچارھی ھے؟
نرگسیت یعنی ھلاک کردینے والی محبت خطرناک چیز ھے ھماری خود پسندی اور زاتی محبت کی شکل کبھی بھی تعمیری نھیں رھی بلکہ تخریبی رنگ سے آمیزہ ھے، ھم اپنی ذاتی محبت سے خود کو تعمیر نھیں بلکہ اپنی تخریب کررھے ھیں ۔نرگسیت کا مرض انسان کو جو Symptoms عطا کرتا ھے ان میں سب سے اھم anxiety ,depression اور نااُمیدی ھیں یہ انسان کو مایوسیوں کی دلدل میں ڈبوتی اور حسد کی کھائی میں دھکا مار دیتی ھے۔نرگسیت کا مریض انسان کبھی اپنی ھار برداشت نھیں کرتا اور کبھی جیتنے کی اصل کوشش بھی نھیں کرتا۔
میں خود بھی نرگسیت کی شکار ھوں ،اس کا شدید احساس مجھے اس وقت ھوا جب جاپان میں حالیہ زلزلوں سے تباھی اور بربادی سے مشکل سے ھی شاید میرے جذبات اور زندگی پر کوئی فرق پڑا ،پاکسان میں سیلاب آیا تھا تو ھماری راتوں کی نیندیں اُڑ گیئ تھیں ایسا افسوس اور عزم اپنے اندر محسوس ھوا تھا جو پھلے کبھی نھیں ھوا تھا مگر جاپان میں زلزلہ آنے پر اتنی الم ناک داستان پر شاید ھی میری ایک بھی دن کی زندگی متاثر ھوئی ھو،ایک پل بھی میں اُن کے دکھ میں شریک نھیں ھوئی کیا یہ نرگسیت نھیں ھے کیا مجھے اپنے لوگوں کا ھی خیال تھا؟کیا یہ محبت تمام انسانوں کے لیے نھیں ھونی چاھیے تھی؟ یہ کیسی محبت ھے جو آفاقی انسانیت سے نھیں ھے۔
یہ تو سب بڑی باتیں ھیں یھاں تو کوئی عاشق بھی محبوب سے نھیں بلکہ خود سے ھی محبت سے سرشار ھوتا ھے،آج کے دور کا عاشق محبوب کی آنکھوں سے محبت نھیں کرتا بلکہ اپنی ان آنکھوں سے محبت کرتا ھے جن سے وہ محبوب کی آنکھوں کو دیکھتا ھے،وہ محبوب کی عقل و شعور سے متاثر نھیں ھوتا بلکہ اپنی اس صلاحیت سے متاثر ھوتا ھے جس نے اس نے محبوب کی عقل و شعور کو پھچانا ھوتا ھے ۔محبوب کی خوشی کا نام لیکر آج کا عاشق صرف اور صرف اپنی خوشی سے محبت کررھا ھوتا ھے۔
یہ نرگسیت کبھی ختم نھیں ھوتی اس سے پیچھا چھڑوانا اتنا آسان کام نھیں ھے اس سے پیچھا چھڑوانے کے لیے خلوص کی ضرورت ھوتی ھےاس کے لیے قربانی کی ضرورت ھوتی ھے ،اس کے لیے بے غرضی کی ضرورت ھوتی ھے۔اس لیے ھم تو کھیں گے کہ ھر محبت بھی اچھی نھیں ھوتی نرگسیت ایک ایسی قسم محبت ھے جو بالکل اچھی نھیں ھوتی ۔اب شاید میں یقین سے کھہ سکتی ھوں کہ
"میں نے محبت نھیں دیکھی”
"میں نے نرگسیت تو دیکھی ھے”
Written By :
Fareeha Farooq. 

ٹیگ بادل