ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for مئی, 2011

محبوب کبھی ایک نھیں ھوتا مگر محبوب کبھی بدلتا نھیں ھے!

جب میری عمر دس سال تھی ،میں بھت پریشان رھتی تھی ایک عجیب سی بےچینی بےقراری اور یہ احساس کے کچھ تو ادھورا ھے کچھ ایسا جو مجھے سمجھ میں نھیں آتا آخر کار تنگ آکر میں نے اپنے پاپا سے پوچھا "پاپا ھم دنیا میں کرنے کیا آتے ھیں؟“ پاپا نے جواب دیا "ھم دنیا میں محبت کرنے آتے ھیں “ یہ کیا بات ھوئی مجھے تو سمجھ نھیں آئی مگر پاپا کیونکہ سمجھانا جانتے ھیں اُنھوں نے سمجھایا کہ "دیکھو الله تعالیٰ حسن ھے ،اوراس نے تمام مخلوقات کو بنایا ھے،اور جب اس حسن کو ،نور کو ,فرشتوں نے جنات نے دیکھا تو وہ اُسی وقت خدا کی محبت میں گرفتار ھوگئے اور اس سے محبت  کرنے لگے  مگر پھر خدا نے سوچا کہ کیا کوئی ایسی مخلوق ھوگی جو میرے نور کو نہ دیکھے میرا دیدار نہ کرے مگر پھر بھی مجھ سے اتنی ھی محبت کرے یا ان فرشتوں سے بھی زیادہ ۔ تب خدا نے انسان کو تخلیق کیا ،انسان” ایک ایسی مخلوق جو خدا کو دیکھے بغیر اس سے محبت کرے” ،خدا نے اس انسان کو دنیا میں بھیج دیا کہ جاؤ اور یھاں جاکر یہ ثابت کرو کہ میری مخلوق ایسی بھی ھے جو بن دیکھے مجھ سے محبت کرتی ھے ِِِِھم صرف اس لیے اس دنیا میں آئے ھیں کہ "جو ھے مگر دکھائی نھیں دیتا اسکے لئے اور اسکی محبت کیلئے تمام عمر گزارے” ۔خدا نے ھمیں صرف ایک مقصد کیلیےپیدا کیا ھے محبت کے لیے اور شرط یہ ھے کہ اُسے دیکھے بنا اس سے محبت کرنی ھے،آپ اسے سن نھیں سکتے, دیکھ نھیں سکتے مگر مقصد حیات اسی کی محبت ھے.
اس ایک جواب نےمیری زندگی بدل دی اب زندگی میں بےچینی تو ختم ھوگیئ مگر جستجو شروع ھوگئی ،مقصد مل گیا محبت کا سفر مل گیا۔یہ زندگی کا وہ پھلا سبق تھا جو میں نے پوری زندگی کے لیے اپنے اندر گھول لیا۔
ایک انسان کی زندگی بدل گئی۔اب یہ سب بتانے کا مقصد کیا تھا ھم میں سے کون ھے جس کو اس عمر میں یہ سب باتیں نھیں معلوم ،یہ سب تو ھم جانتے ھیں مگر پھر بھی ھم میں سےبھت سے لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ محبت کرنے کیلئے دیکھنا اور آواز سننا ضروری ھے جس کو آپ نے دیکھا نہ ھو جس کی آواز نہ سنی ھو جس سے کبھی بات نہ کی ھو اس سے محبت نھیں کی جاسکتی مگر میں کھتی ھوں ، نھیں کی جاسکتی ھے خدا کو کس نے دیکھا ھے اس کی آواز کس نے سنی ھے ؟ مگر کیا ھم اس سے محبت نھیں کرتے ؟اگر محبت کے لیے یہ سب ضروری ھوتا توخدا نے کیوں انسانوں سے توقع کی کہ وہ اسے بن دیکھے ،بن ملے ،بن سُنے محبت کرے۔
محبت میں ملنے کی دیکھنے کی ،سننے کی دیدار کی شرط نھیں ھوتی انسان کو اس سے بھی محبت ھوسکتی ھے جسے اس نے کبھی نہ دیکھا ھو نہ سُنا ھو ،کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے انسان سے ھو یا خدا سے "محبت کا اصول نھیں بدلتا“ محبت کیلیے احساسات کی ضرورت ھوتی ھے جسے محسوس کیا جاسکتا ھے اس سے ھی محبت کی جاسکتی ھے۔یہ محبت کا عرفان ھے یھی انسان کے اشرف المخلوقات ھونے کی شرط ھے کہ اس خدا سے بےانتھاء محبت کرے جسے نہ تو کبھی دیکھا ھے نہ سُنا ھے اور نہ ھی ملاقات کی ھے ،مگر پھر بھی وہ ھم سے بات کرتا ھے اس نے ھمیں الفاظ دیئے ھیں دیدار نھیں دیا،اپنا کلام دیا ھے اس نے قرآن کی شکل میں اپنی بات ھم تک بھیجی ھے, وہ دکھائی نھیں دیتا پھر بھی ھم سے بات کرتا ھے .یھی محبت کی شرط ھوتی ھے یھی محبت کے اصول ھوتے ھیں ۔
محبت ھر حال میں ایک ھی جیسی ھوتی ھے اسکے اصول بدلتے نھیں ھیں مثال کے طور پر حسد کو لیجیے ,کھتے ھیں حسد اور جیلیسی محبت کا آغاز ھوتا ھے انسان یہ بات کبھی برداشت نھیں کرسکتا کہ جس سے وہ محبت کرے وہ کسی اور کو چاھے یا کوئی اور اسےچاھے ،مجھے کبھی محبت میں حسد کا خیال سمجھ نھیں آیا ۔آخر  حسد کیا ھوتی ھے? میں جس انسان سے محبت کرتی ھوں دنیا میں بےتھاشا انسان اسی خدا سے محبت کرتے ھیں تو کیا میں اس بات کی کوئی حسد کرسکتی ھوں ؟ یا جس سے میں محبت کرتی ھوں جو میرا خدا ھے میرا محبوب ھے وہ میرے ساتھ ساتھ باقی تمام انسانوں کو بھی محبت کرتا ھے ۔تو کیا میں یہ کھہ سکتی ھوں کہ الله تعالیٰ آپ تو صرف مجھ سے محبت کریں ۔نھیں ایسا نھیں ھوتا خدا سے محبت میں حسد کا تصور کبھی پیدا نھیں ھوتا مگر جب بات انسانوں سے محبت پر آتی ھے تو انسان سب سے پھلے یھی بات سوچتا ھے کہ جس سے میں محبت کرتا ھوں وہ کسی اور سے محبت نہ کرے اسکی تمام محبت صرف میرے نام ھوجائے.اسی کا نام حسد ھے اور یہ حسد ھی محبت کے اصول کے خلاف ھے ۔ایسا کیوں ھوتا ھے خدا سے محبت میں تو حسد کبھی نھیں آتی مگر انسانوں سے محبت میں یہ سب سے پیش پیش جذبہ ھوتا ھے۔اگر ھم خدا کی محبت سے بانٹ سکتے ھیں اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت کرسکتے ھیں تو انسانی محبتوں میں جزبہ کیوں پیدا نھیں ھوتا، کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے خدا سے ھو یا انسان سے اسکے اصول دونوں ھالتوں میں ایک ھی جیسے ھوتے ھیں اسکے احوال کسی شرط نھیں بدلتے۔ مجھے کبھی اس حسد کا احساس نھیں ھوا ھو بھی نھیں سکتا جو لوگ خدا سے محبت کرتے ھیں ان کی زندگی میں حسد نھیں ھوتی ،ھو ھی نھیں سکتی۔
ایک اور بات جو میں اکثر کھتی رھتی ھوں کہ محبوب ایک نھیں ھوتا ،محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں محبت صرف ایک نھیں ھوسکتی محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں لوگ کھتے ھیں محبوب تو صرف ایک ھی ھوتا ھے ایسا نھیں ھے یہ جملہ بھت نامکمل ھے اصلیت تو یہ جمل ھے کہ "محبوب کبھی بدلتا نھیں ھے“ اب وہ چاھے دو ھوں یا سو ،محبوب کبھی نھیں بدلتا،میں نے ھر طرح کے انسان سے محبت کرکے دیکھی ھے امیر غریب ،فنکار اداکار ،ریڑھی والے سے ،علم والے سے ،کردار والے سے میں نے سب کو محبوب بنا کر دیکھ لیا ھےمگر میرا محبوب نھیںبدلا,  وہ بدلتا ھی نھیں ھے .میں سب کے پیچھے اسی خدا سے محبت کرتی رھتی ھوں, میں چاھے کسی کو بھی محبوب بنا لو میں محبت پس پشت اسی خدا سے کرتی رھوں گی جسے میں نے دس برس کی عمر میں ھی اپنا محبوب بنا لیا تھا میرا محبوب کبھی نھیں بدلتا میں اسی سے محبت کرتی رھتی ھوں جس نے مجھے اس سے محبت کرنے کیلیے ھی تخلیق کیا ھے۔
محبت کو اصول تو اٹل ھیں انسان خود کو دھوکہ دے سکتا ھے مگر محبت کو دھوکہ نھیں دے سکتا جس سے محبت ھو اسے کبھی دھوکہ نھیں دے سکتا ،محبت کا اصول نھیں بدلتا ،آپ کا محبوب نھیں بدلتا آپ جس سے بھی محبت کرلو ان اصولوں کو نھیں بدل سکتے آپ اپنے محبوب کو نھیں بدل سکتے۔
آج کل کے دور میں ھم سب نے مل کے محبت کے پاک نام کو بھت زلیل کیا ھے ھر چیز میں ھم اسکا استعمال کرنے لگے ھیں کپڑوں سے ،کھانے سے جگہ سے ،کسی بھی چیز سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں ،اور سب سے زیادہ کسی انسان سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں کیا انسان سے محبت کرنا غلط بات ھے غلط تو نھیں ھے مگر آج کا انسان جب انسان سے محبت کرتا ھے تو اس میں توقعات کا زھر گھولتا ھے خواھشات کے سویٹر بنتا ھے اور ضرورتوں کی لمبی لسٹیں بناتا ھے، ان تمام خواھشات،توقعات اور ضرورتوں میں محبت کا حسن پامال ھوتا ھے.
یہ وہ محبت نھیں رھتی جس کے اصول تو خدائی اصول ھیں یہ تو مطلب پرست مفاد پرست اور موقع پرست محبت بن جاتی ھے اب یہ محبت صرف محبت نھیں رھتی یہ ایک "گھٹیا اور بازارو چیز” بن جاتی ھے جسے "خریدا اور بیچا "جاسکتا ھے اور اسی بازارو محبت کو اس دنیا میں سب سے زیادہ پروان چڑھایا گیا ھے اور اسی قسم کی محبت نے اصل انسانی محبت کو بدترین مقام پر پھنچایا ھے۔
انسان سے محبت کرنا کبھی غلط نھیں ھوتا نہ ھی خدا سے محبت مگر محبت کے اصول اٹل ھونے چاھیے ،تو پھر کیا محبت انسان سے ھو یا خدا سے اس میں کوئی فرق نھیں ھوتا ،نھیں ایسی بات بھی نھیں ھے ایک فرق ھوتا ھے خدا سے محبت کیا ھے علامہ اقبال کھتے ھیں
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو تیرے   عفو  بندہ نواز    میں
یہ تو انسان اور خدا کی محبت کا تعلق ھے یہ رشتہ خدا اور انسان کے درمیان ھوتا ھے انسان کے جرم خانہ خراب کو اماں ملتی ھے تو صرف خدا کی  "عفو بندہ نواز“ ،میں ھی ملتی ھے مگر انسان سے محبت کی صورت میں یہ شعر بدل جاتا ھے جب محبت انسان سے ھو جائے تو یہ کھنا پڑتا ھے کہ
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے عفوبندہ نواز  کو  تیرے  جرم  خانہ خراب  میں
انسان سے محبت کی صورت میں انسان کو خود ھی عفو بندہ نواز بننا پڑتا ھے .محبوب کے جرم خانہ خراب کو خود اماں دینی پڑتی ھے خدا سے محبت میں آپ خود ھر معافی کے طلبگار ھوتے ھو ھر گناہ کی توبہ کرسکتے ھو مگر انسان سے محبت میں آپ کو خود معاف کرنا پڑتا ھے ھر اماں خود دینی پڑتی ھے یہ بھت عجیب کشمکش سے بھرپور بات ھے اسکو بس ایسے سمجھ لیں کہ
"محبوب کی ھر غلطی ھر گناہ اور ھر برائی کو معاف کرکے اس سے محبت کی جائے ،تبھی انسان سے محبت ھوسکتی ھے.”
محبت ایک ایسی چیز ھے جسکی بنیاد میں الله تعالیٰ نے خود ھی دیدار کی شرط  نکال دی ھے اور خود اپنا ھی دیدار نھیں کروایا،آواز سننے کی شرط نکال دی ھے کبھی خود ھی نھیں بول کر بات کی ، حسد کی شرط نکال دی ھے کیونکہ سب سے برابر محبت کرنے والا ھے! بس شرط ھے تو اماں کی اور جو خدا سے محبت کرتا ھے وہ خود ھی عفو بندہ نواز بن جاتا ھے وہ نہ تو غصہ کرسکتا ھے نہ نفرت نہ انتقام لے سکتا ھے نہ بدلا، نہ افسوس کرسکتا ھے نہ ملال نہ کامیاب ھوسکتا ھے نہ ناکام بس جیسے بانو قدسیہ آپا کھتی ھیں
“یہ تو ڈاڈھے سنگ پریت ھے “ یہ سچ میں بھت داڈھے سنگ پریت ھے میرے سے پوچھ کر دیکھے۔۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

Advertisements

ٹیگ بادل