ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for اگست, 2011

ھم اور شھد کی مکھیاں

انسان اور شھد کی مکھیاں دونوں سماج بنا کر رھتے ھیں۔دونوں اس سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتے ھیں۔جب شھد کی مکھیاں کام کرتی ھیں تو وہ سب کارکن ،ورکر کھلاتی ھیں مگر جب انسان اپنے سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتا ھے تو کوئی َ نائی َ ََََقصائی ََ، حلوائیَ،دھوبی َ کمھارَ،تانگے والاَ، جمع دارَ، ریڑھی والا َ، ۔بن جاتا ھے ھم یہ کیوں نھیں کھتے ورکر ،کارکن صرف آخر ھم سب ایک ھی چھتے کے لیے ھی تو کام کر رھے ھیں ھم سب کارکن مکھیاں ھی تو ھیں کیا جانور ھم سے زیادہ مھذب ھیں۔ کارکن مکھیاں ایک کام نھیں کرتی کوئی چھتے کی صفائی کرتی ھے کوئی چھتے کو گرم رکھتا ھے کوئی شھد بناتے ھیں۔انسان بھی تو اسی چھتے کے لیے مختلف کام کرتا ھے تو آخر وہ کیوں صرف کارکن نھیں کھلاتا اُ سے صرف ورکر کا خطاب کیوں نھیں دیا جاتا۔

written by: Fareeha Farooq

مرزا غالب کو غم تھا کہ

سوال تو یہ تھا کہ مرزا غالب کو غم کیا تھا اور میں نے پچھلی پوسٹ میں غالب کی زندگی میں غم تلاش کرنے کی کوشش بھی بھت کی مگر میں خود کو مطمیئن نھیں کرپائی کیونکہ شاعر کی زندگی میں غم تلاش نھیں کرتے غم تو اسکی فطرت میں ھوتا ھے اور اُسے اسکی فطرت میں ھی تلاشا جاسکتا ھے غالب کی فطرت میں غم تھا .شاعر اپنی زندگی پر شاعری نھیں کرتا بلکہ شاعر تو اپنی فطرت پہ شاعری کرتا ھے جیسی اسکی نیچر ھوتی ھے ویسی ھی شاعر کی شاعری ھوتی ھے مگر غالب کی فطرت میں غم کھاں سے آیا ؟ یہ سوال کا جواب خود غالب نے عرض کیا ھے کہ

ھزاروں خواھیشیں ایسی کہ ھر خواھش پہ دم نکلے
بھت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے


غالب کو کیا غم تھا؟ تو جناب غالب کو”خواھش” کاغم تھا دنیا میں کیا خواھش سے بڑا بھی کوئی غم ھوتا ھے، انسان جو خواھش کرتا ھے! اسکی فطرت ھی ایسی ھوتی ھے خواھشیں کرنا اور جب وہ پوری نھیں ھوتی تو ،تو اسکا دم نکل جاتا ھے,خواھش کے پوری نہ ھونے کے غم سے. غالب کو بھی یھی غم تھا شاید ، شاید نھیں یقینی ط
ور پر غالب کو بھی خواھش کا غم تھا ، خواھشیں کرنے کا غم انکے پورا نہ ھونے کا غم۔
کچھ دن پھلے بانو آپا نے اپنے ایک انٹرویو میں کھا تھا کہ غالب نااُمیدی کا شاعر ھے وہ مایوسی کے بغیر نھیں لکھ سکتے مگر مجھے ایسا نھیں لگتا ، میرے خیال میں غالب "خواھش” کا شاعر تھا وہ خواھش کے بغیر نھیں لکھ سکتا تھا!
خواھش سمجھنے میں بھت مشکل چیز ھے بسا اوقات ھم اپنی ضرورتوں کو خواھش سمجھ لیتے ھیں مگر خواھش ضرورت سے مقدم ھوتی ھے ضرورتیں چیزوں سے جُڑی ھوتی ھیں جبکہ خواھشیں انسانوں سے جُڑی ھوتی ھیں ،اور انسانوں سے غم جُڑا ھوتا ھے۔ غالب کے غم کو سمجھنے کیلیے اس
کرب کو محسوس کرنا ضروری ھے جو اُس خواھش سے پیدا ھوتا ھے جو کسی انسان سے یا انسانیت سے تعلق رکھتی ھے۔اگر آپ اس غم کو سمجھ سکیں تو ھی غالب کو غم کے سمجھ پایئں گے، غالب کا غم خواھش کا غم ۔ ھم میں سے بھت سے لوگ یہ خیال کرتے ھیں کہ شاید انسان کو کچھ غلط ھونے پر ھی غم ھوتا ھے کہ بھلا یہ کیوں ھوا؟ ایسے کیوں ھوا ,میرے ساتھ ھی کیوں ھوا! مگر ایسا لازمی نھیں ھے .بعض اوقات انسان کو اس بات کا بھی غم ھوتا ھے کہ کچھ اچھا کیوں نھیں ھوا, جیسے میں نے خواھش کی ایسے کیوں نھیں ھوا، خواھش تو بڑی بُری بلا ھے یہ تو بھت درد و غم دیتی ھے انسان کو بلکہ غالب تو کھتے ھیں کہ یہ دم ھی نکال لیتی ھے. .
 صرف شب غم بری بلا نھیں ھے شدت خواھش بھی بھت بُری بلا ھے!
(written by :Fareeha Farooq)

آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا؟

ماریہ  (دوست) نے مجھ سے سوال پوچھا” آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا” میں بھی سوچ میں پڑ گیئ کہ آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا. مرزا غالب کے بارے میں میں صرف اتنا ھی جانتی ھوں جتنا گلزار صاحب کی بنائی ھوئی ڈرامہ سیریز "مرزا اسد الله خاں غالب” میں دکھایا گیا ھے. ایک بات تو ظاھر ھوتی ھے مرزا غالب کی شاعری سے کہ انھیں کوئی بھت بڑا غم تھا ایسے ھی کسی کے شعروں میں اتنا درد ،غم اور الم نھیں آجاتا. مگر سوال تو بھیئ یہ ھے کہ آخر غالب کو غم تھا کیا؟
اب غیر سنجیدہ گفتگو جو ھم دونوں میں ھمیشہ جاری رھتی ھے اُس سے ھم نے نتیجے اخذ کرنے شروع کردیے کہ غالب کو آخر کیا غم تھا ۔

 
1۔ غالب کو ھوسکتا ھے یہ غم تھا کہ پنشن رُکی ھوئی تھی, ھاں ھاں ! یہ ھوگا غم ،مگر غالب کو پیسوں کا غم تھا ،پیسوں کہ غم میں کوئی کیسے لکھ سکتا ھے؟

دل ھی تو ھے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ جائے کیوں!

اتنا بڑا انسان اور پیسوں کے غم میں شاعری نہ نہ نہ یہ تو صرف مزاق تھا!
2۔ غالب کو شاید بچپن میں شادی ھوجانے کا غم تھا! یہ بھی بے تُکی بات لگتی ھے اُس دور میں یھی رواج تھا اس میں ایسی کیا غم کی بات تھی کہ دیوان لکھے جاتے ۔

3۔ غالب کو شاید اولاد نہ ھونے کا غم تھا ! یہ غم ویسے تو جایز ھے بھت بڑا غم تھا, جب سات اولادیں ھونے کے باوجود ایک بھی زندہ نہ بچے تو آدمی کو غم ھی ھوسکتا ھے مایوسی دل پر چھائی رہ سکتی ھے ,اس کا حال غالب کے چند اشعار میں معلوم بھی ھوتا ھے مگر صرف یھی ایک غم ۔۔۔
بچے ھوتے بھی تو غالب کو لکھنے نہ دیتے, سات بچے کھاں فراغت دیتے لکھنے کی !

4۔غالب کو  اس دور کے”حآلات حاضرہ” کا غم تھا یعنی اُس دور کہ سیاسی اور ریاستی بدنظمیوں اور شکستہ حالیوں کا غم تھا ! مگر اس غم میں بھی کوئی ایسا شعر تھوڑی نہ لکھ دیتا ھے!

یہ نہ تھی ھماری قسمت کہ وصال یار ھوتا
 اگر اور جیتے رھتے یھی انتطار ھوتا!

5۔ ھوسکتا ھے مرزا غالب کو شراب اور جواء تو پسند تھے مگر اسلام میں یہ منع ھیں اس بات کا غم ھو! کہ آخر کیوں منع ھیں اس لیے انھوں نے کھا تھا!

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
 شرم تم کو کیوں کر نھیں آتی!

مگر یہ بات بھی اتنا بڑا غم نھیں ھے کہ انسان غالب جیسا شاعر بن جائے !

6۔غالب کو عشق کا غم تھا! غالب کو کسی سے عشق ھوگیا تھا جیسے ھوسکتا ھے مرزا غالب کو نواب جان سے ھی عشق ھوگیا تھا اور یہ غم ان کی غزلوں اور شاعری میں چھلکتا تھا!  مگر جھاں تک گلزار نے ڈرامے میں دکھایا ھے تو صررتحال مختلف ھے۔ غالب کو نھیں بلکہ نواب جان کو غالب سے عشق ھوگیا تھا، پھر غالب کو غم کیا تھا؟

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
 کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

7۔ غالب کو کیا غم تھا؟  
غالب کو غم تھا کہ وہ مشھور نہ ھو پائے, اپنے جیتے جی انھیں اس طرح کی مقبولیت نہ ملی جس کے وہ حقدار تھے اور اتنے بڑے شاعر ھونے کہ باوجود غالب کو ایسی تنگ دستی کی زندگی گزارنی پڑرھی تھی۔

ھر ایک بات پہ کھتے ھو تم کہ تو کیا ھے
تمھی کھو یہ انداز گفتگو کیا ھے!

مگر غالب کو کیا صرف شھرت پانے کی چاھت تھی جو پوری نہ ھونے کا غم ان کی زندگی تھا شاعری تھا !
نہ نہ نہ! غالب کو یہ بھی اتنا کوئی بڑا اور واحد غم نہ تھا!
سوال پھر وھی کا وھی ھے کہ اتنا بڑا شاعر مایوسی کا شاعر ،درد کا شاعر ،غم کا شاعر ،غم شدت کی انتھا بیان کرنے والے مرزا غالب کو کیا غم تھا؟ سوال پھر وھی کا وھی ھے،اصل میں مرزا غالب کو یہ سب غم تھے مگر کوئی ایسا غم تھا جو ان سب غموں سے مقدم تھا! وہ کیا غم تھا اس کا حل اگلی بلاگ پوسٹ میں نکالیں گے. ابھی مزید لکھنے کا  ٹایم نھیں ھے۔۔ اگلی پوسٹ تک آپ بھی زرا سوچیں ھمارے انتھائی پسندیدہ اور مشھور مرزا غالب کو درحقیقت کیا غم ھو سکتا تھا !

(written by : Fareeha Farooq)

ٹیگ بادل