ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

ماریہ  (دوست) نے مجھ سے سوال پوچھا” آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا” میں بھی سوچ میں پڑ گیئ کہ آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا. مرزا غالب کے بارے میں میں صرف اتنا ھی جانتی ھوں جتنا گلزار صاحب کی بنائی ھوئی ڈرامہ سیریز "مرزا اسد الله خاں غالب” میں دکھایا گیا ھے. ایک بات تو ظاھر ھوتی ھے مرزا غالب کی شاعری سے کہ انھیں کوئی بھت بڑا غم تھا ایسے ھی کسی کے شعروں میں اتنا درد ،غم اور الم نھیں آجاتا. مگر سوال تو بھیئ یہ ھے کہ آخر غالب کو غم تھا کیا؟
اب غیر سنجیدہ گفتگو جو ھم دونوں میں ھمیشہ جاری رھتی ھے اُس سے ھم نے نتیجے اخذ کرنے شروع کردیے کہ غالب کو آخر کیا غم تھا ۔

 
1۔ غالب کو ھوسکتا ھے یہ غم تھا کہ پنشن رُکی ھوئی تھی, ھاں ھاں ! یہ ھوگا غم ،مگر غالب کو پیسوں کا غم تھا ،پیسوں کہ غم میں کوئی کیسے لکھ سکتا ھے؟

دل ھی تو ھے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ جائے کیوں!

اتنا بڑا انسان اور پیسوں کے غم میں شاعری نہ نہ نہ یہ تو صرف مزاق تھا!
2۔ غالب کو شاید بچپن میں شادی ھوجانے کا غم تھا! یہ بھی بے تُکی بات لگتی ھے اُس دور میں یھی رواج تھا اس میں ایسی کیا غم کی بات تھی کہ دیوان لکھے جاتے ۔

3۔ غالب کو شاید اولاد نہ ھونے کا غم تھا ! یہ غم ویسے تو جایز ھے بھت بڑا غم تھا, جب سات اولادیں ھونے کے باوجود ایک بھی زندہ نہ بچے تو آدمی کو غم ھی ھوسکتا ھے مایوسی دل پر چھائی رہ سکتی ھے ,اس کا حال غالب کے چند اشعار میں معلوم بھی ھوتا ھے مگر صرف یھی ایک غم ۔۔۔
بچے ھوتے بھی تو غالب کو لکھنے نہ دیتے, سات بچے کھاں فراغت دیتے لکھنے کی !

4۔غالب کو  اس دور کے”حآلات حاضرہ” کا غم تھا یعنی اُس دور کہ سیاسی اور ریاستی بدنظمیوں اور شکستہ حالیوں کا غم تھا ! مگر اس غم میں بھی کوئی ایسا شعر تھوڑی نہ لکھ دیتا ھے!

یہ نہ تھی ھماری قسمت کہ وصال یار ھوتا
 اگر اور جیتے رھتے یھی انتطار ھوتا!

5۔ ھوسکتا ھے مرزا غالب کو شراب اور جواء تو پسند تھے مگر اسلام میں یہ منع ھیں اس بات کا غم ھو! کہ آخر کیوں منع ھیں اس لیے انھوں نے کھا تھا!

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
 شرم تم کو کیوں کر نھیں آتی!

مگر یہ بات بھی اتنا بڑا غم نھیں ھے کہ انسان غالب جیسا شاعر بن جائے !

6۔غالب کو عشق کا غم تھا! غالب کو کسی سے عشق ھوگیا تھا جیسے ھوسکتا ھے مرزا غالب کو نواب جان سے ھی عشق ھوگیا تھا اور یہ غم ان کی غزلوں اور شاعری میں چھلکتا تھا!  مگر جھاں تک گلزار نے ڈرامے میں دکھایا ھے تو صررتحال مختلف ھے۔ غالب کو نھیں بلکہ نواب جان کو غالب سے عشق ھوگیا تھا، پھر غالب کو غم کیا تھا؟

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
 کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

7۔ غالب کو کیا غم تھا؟  
غالب کو غم تھا کہ وہ مشھور نہ ھو پائے, اپنے جیتے جی انھیں اس طرح کی مقبولیت نہ ملی جس کے وہ حقدار تھے اور اتنے بڑے شاعر ھونے کہ باوجود غالب کو ایسی تنگ دستی کی زندگی گزارنی پڑرھی تھی۔

ھر ایک بات پہ کھتے ھو تم کہ تو کیا ھے
تمھی کھو یہ انداز گفتگو کیا ھے!

مگر غالب کو کیا صرف شھرت پانے کی چاھت تھی جو پوری نہ ھونے کا غم ان کی زندگی تھا شاعری تھا !
نہ نہ نہ! غالب کو یہ بھی اتنا کوئی بڑا اور واحد غم نہ تھا!
سوال پھر وھی کا وھی ھے کہ اتنا بڑا شاعر مایوسی کا شاعر ،درد کا شاعر ،غم کا شاعر ،غم شدت کی انتھا بیان کرنے والے مرزا غالب کو کیا غم تھا؟ سوال پھر وھی کا وھی ھے،اصل میں مرزا غالب کو یہ سب غم تھے مگر کوئی ایسا غم تھا جو ان سب غموں سے مقدم تھا! وہ کیا غم تھا اس کا حل اگلی بلاگ پوسٹ میں نکالیں گے. ابھی مزید لکھنے کا  ٹایم نھیں ھے۔۔ اگلی پوسٹ تک آپ بھی زرا سوچیں ھمارے انتھائی پسندیدہ اور مشھور مرزا غالب کو درحقیقت کیا غم ھو سکتا تھا !

(written by : Fareeha Farooq)
Advertisements

Comments on: "آخر مرزا غالب کو غم کیا تھا؟" (2)

  1. maria not a goood one an incomplete one rather I ll say a funny one!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: