ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for فروری, 2012

"ا" سے احتجاج ،A for activist B for Ban

لڑکا: اسلام علیکم
مالک: وعلیکم سلام کیسا حال اے، کیا کررھے ھوندے او اج کل؟
لڑکا : کچھ نھیں  صاحب جی بس سکول ھی جارھا ھوں
مالک: اچھا اک گل تے بتاؤ یہ "ا” سے کیا ھوندا اے تمھارے قاعدہ ماں؟
لڑکا: "ا”سے انار صاحب جی
مالک: لے ایھہ کی گل ھوئی "ا” سے انار ایھہ تاں قدیم تعلیم اے جدید تعلیم وچ "ا” سے احتجاج پڑھایا جاندا اے
لڑکا: نھیں  صاحب جی ھمیں تو "ا” سے انار ھی پڑھایا گیا ھے
مالک: ویکھیا ایھہ ای تے رونا اے تھاڈے قدیم اُردو میڈیم سکولاں دا کدی بچیاں نوں جدید تعلیم طرف آن ھی نھیں دیندے ، ھُن میں ای تینوں پڑھاواں گا ٹھیک اے؟
لڑکا: جی  صاحب جی
مالک: چلو فیر اج توں "ا” سے احتجاج پڑھنا اے تے A for activist B for Ban پڑھنا اے
لڑکا: B for Ban  صاحب جی؟؟
مالک: ھاں میں جو کھندا پیا ھوں  پڑھو اُچی آواز نال پڑھو ، ھور اُچی شاباش ھور اُچی آواز نال شاباش شاباش
لڑکا : "ا” سے احتجاج ،A for activist B for Ban،  "ا” سے احتجاج ،
A for activist B for Ban
نوکر: اے Boy کون ھے تم؟ ھمارے گھر میں کیا فضول شور مچا رھا ھے ؟ سر who is this ؟
کتنا Noise create  کر رھا ھے Noise pollution
مالک: ارے میں تاں ایھنوں پڑھاندا پیا آں جدید تعلیم سے ، دور حاضر کی تعلیم سے متعارف کروا ریا آں
تاکہ کل نوں ایھہ وی ملکی ترقی دا حصہ بن سکے
نوکر: مگر سر آپ دیکھ نھیں رھے یہ کیا احتجاج احتجاج ، Ban  Ban  بولنے لگا ھوا ھے
مالک: ھاں تے ایھہ ای تے جدید تعلیم اے سارے ترقی یافتہ تے ترقی پزیر ملکاں وچ ایھدا ای دور دورہ اے ۔ بیوقوف  ایھہ کم کرن دا نیئں احتجاج کرن دا دور اے  پھلے تاں کوئی چیز Ban  کرایئ جاندی اے فیر اوہ کیوں بین ھوگیئ اوھدے اُتے احتجاج کریا جاندا اے فیر احتجاج کرنا ای Ban   کردتا جاندا اے ، فیر احتجاج کیوں Ban  کردتا گیا ایھدے اُتے احتجاج کیتا جاندا اے ، ایس لیی جدوں تک اسی اپنے بچیاں نوں احتجاج دی تعلیم ای نیئں دے سکاں گے تے کیس طرح ملک ترقی کرے گا ؟
نوکر: Wow sir wow آپ تو ھمیشہ سے دی گریٹ ھیں سر جی, پڑھو بچے یھی سبق پڑھو ملک کی ترقی اسی میں ھے تم پڑھواُونچی آوازمیں  پڑھو 

لڑکا : "ا” سے احتجاج

،A for activist B for Ban، "ا” سے احتجاج ،A for Apple  B for Ban  

مالک: اج کل کیھڑا Ban  ان اے میرا مطلب اے کیس چیز پے احتجاج چل رھیا اے ملک میں؟
نوکر: وہ سر جی آج کل شیزان کا Ban  ، ھاٹ ایشو بنا ھوا ھے سبھی لوگ سبھی جدید اور انسان پرست ھمدرد لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رھے ھیں
مالک: کیھڑی شیزان ؟ اوہ جو لاھور ما فیکٹری آ اوہ؟
نوکر: جی سر وھی شیزان بیکری سر اتنی اچھی بیکری سر ، سُنا ھے لاھور بار کونسل نے قرارداد منظور کی ھے کہ شیزان کے جوس اور بوتلوں پر Ban  لگا دیا جائے کیونکہ یہ احمدی فرقے کے لوگوں کی کمپنی ھے اور اس کے تحت پیسے کما کر وہ امیر ھورھے ھیں انکا مذھب مذید سٹرانگ ھورھا ھے۔
مالک: ھائے ھائے کتنا ظلم ھوریا اے انسانیت پر اس Ban  پر تو ضرور احتجاج ھونا چاھیے۔
 پرانا نوکر: اسلام علیکم سب کو
(سب : وعلیکم سلام)
 پرانا نوکر: بھت باتیں چل رھی ھیں میرے آقا
لڑکا : "ا” سے احتجاج ،A for activist B for Ban 
 پرانا نوکر: یہ کیا پڑھ رھے ھو بچے یہ غلط سبق ھے "ا” سے انار پڑھا جاتا ھے
مالک: لو آگیا ایک اور قدیم پینڈو ارے بھائی یہ جدید تعلیم اے اس ما ایسے ھی پڑھایا جاتا اے دیکھنا انشاالله بڑھا ھوکر یہ Activist بنے گا۔
نوکر: سر آپ تو شیزان کے بارے میں بات کر رھے تھے۔
 پرانا نوکر: جی آقا میں نے بھی سُنا ھے اس بارے میں، سُنا ھے پنجاب یونیورسٹی میں کسی بھی کینٹین پر شیزان نھیں ملتی۔
مالک: ھاں بس ویکھ لیو ایس ملک دا حال الله کی نعمتوں پر بھی کوئی Ban لگاندا اے جوس بھی کوئی Ban  کرن والی چیز اے ۔
نوکر: سر اصل میں یہ ساری سازش ھے Conspiracy  سر احمدیوں کے عقیدے پر Ban لگانے کی  ، جوس تو صرف بھانہ ھے سر
مالک: ھاں کرلو گل ھُن ھور کسی چیز تے Ban  نہ لگیا تے جوس تے لگادیا ، مسلمان احمدیاں دا جوس نہ خریدے اے حرام اے ، مگر مسلمان I phone , blackberry , Honda , civic, laptop , computer سب خریدے McDonald , pizza Hut , KFC  کھایے  Levis دی جینز پائے ، ساری غیر مسلماں دی چیزاں خریدے اوھناں نوں خریدن واسطے مسلمان مریا جاندا پیا اے ، ھندوستان دی فلماں تے سینماں میں Ban   نہ ھویئاں تے اک جوس Ban  کرکے اسلام دا جھنڈا فتح کرن لگ پیے ، ھے ایھہ کوئی عقل والی گل. ھُن لگدا اے کسے اخبار وچ مسلمان معاشرے دے ایس double standard  دا لمبا تے اوکھا مضمون لکھنا پیے گا.
نوکر: Yes sir yes  آپ must لکھیں اسی طرح تو لوگوں کو knowledge آئے گا شعور پیدا ھوگا sensibility اُجاگر ھوگی۔
مالک: بھائی خالی مضمون لکھن تاں کچھ نھیں ھوگا اساں لوکاں نوں احتجاج وی کرنا چاھیدا اے ۔ اوھی سب تو موثر ھتکنڈا اے اج کل دے دور رچ
نوکر: Yes sir yes وہ بھی ھورھا ھے my friend told me  سوشل میڈیا میں بھت احتجاج ھورھا ھے لوگوں نے اپنی  profile picture  کی جگہ شیزان کی تصویر لگا لی ھے ھر طرف شیزان شیزان ھورھا ھے پڑھے لکھے ترقی پسند لوگ اسے خوب پروموٹ کررھے ھیں
مالک: واہ واہ دل خوش کردتا ، ایھہ ھُندی اے پڑھیاں لکھیاں والی گل ، لبرل سوچ ، انسانیت سے محبت ، آزادی حقوق سے محبت ، ایسئ لوگاں کی وجہ سے معاشرے ما تھوڑی بھلائی بچی رہ گیئ اے  چل بھائی  تو بھی ھمارے ساتھ اس نیک کام میں شامل ھو جا اساں سب ملکر احتجاج کراں گے

 پرانا نوکر: نھیں میرے آقا میں آپ کے ساتھ ملکر احتجاج نھیں کر سکتا آپ بھی مت کریں
مالک: ایھہ دیکھو چھوٹا آدمی توبہ توبہ چھوٹی سوچ کا پینڈو ، اقلیتاں دا دشمن ، مساوات دا دشمن ، شرم تا ناں آندی تینوں ایسے مشورے دیندے ۔
پرانا نوکر: نھیں میرے آقا  میں اقلیتوں کا دشمن نھیں ھوں ، نہ ھی مساوات ، برابری اور انسانیت کا مگر آپ مجھے ایک بات کا جواب دیں کیا جب فرانس میں حجاب پر Ban  ھوا تھا تو کیا آپ نے اس پر احتجاج کیا تھا ؟آخر فرانس میں بھی تو مسلمان اقلیت ھی تھے وہ بھی تو ایک مذھبی حملہ تھا جیسے یہ احمدیوں پر مذھبی حملہ تھا ویسے ھی وہ مسلمانوں کے مذھب پر ایک دوسرے مذھب کے اکثریتی ملک میں زیادتی تھی ، مسلم اقلیت کی شناخت پر حملہ تھا کیا آپ نے اس پر احتجاج کیا تھا؟
مالک: لو کر لو گل  ایھہ وی کوئی گل سی احتجاج کرن دی بلکہ میں تاں ایس Ban  دے حق وچ مضمون لکھیا سی کہ کھنی Enlightened moderation  اے کھینا روشن قدم اے عورتاں نوں آزادی ملے گی برقعے جیئے عذاب تو اوھناں
دی جان چھُٹے گی ایس قدم نال عورتاں نوں آزادی ملے گی میں کیوں اوھدا احتجاج کرداں پھرا ، کسے چنگے Ban  دا احتجاج نھیں کردے کھوتے انساناں
پرانا نوکر: نھیں میرے آقا ، سرکار آپ کیسے کھہ سکتے ھیں کہ وہ غلط نھیں تھا مسلمانوں کو اقلیت سمجھ کر اگر انکی
آزادی کو سلب کیا گیا تو وہ بھی غلط قدم تھا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو انسان کو اتنی آزادی دینی چاھیے تھی کہ وہ جو چاھے پھنے چاھے وہ حجاب ھی کیوں نہ ھو آپ کو اس پر بھی مضمون لکھنا چاھیے تھا اس پر بھی احتجاج کرنا چاھیے تھا کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے حجاب پھننا چاھتا ھے تو اُسے یہ آزادی ضرور ملنی چاھیے، مسلمانوں کے ساتھ کچھ غلط ھونے پر اگر یہ بڑے لوگ احتجاج نھیں کرتے تو غیرمسلموں یا اقلیتوں کے ساتھ غلط ھونے پر کیوں اتنا احتجاج کرتے ھیں ؟
نوکر: سر سنیں کتنی بیک ورڈ باتیں کررھا ھے ِ
پرانا نوکر: میں یہ نھیں کھہ رھا کہ شیزان پر Ban  لگانا صحیح ھے یہ یقینا غلط ھے ظلم ھے مگر مسلمانوں کے ساتھ جب فرانس میں  ظلم ھوا ان کے حجاب پر Ban  لگایا گیا کہ حجاب نھیں اُوڑھنا تو وہ ھی غلط تھا اس پر بھی احتجاج کرتے مگر وہ کیونکہ ایک شدت پسندی سمجھی جاتی کہ برقعے کو پروموٹ کررھے ھیں تو اُس پر کوئی بھی آواز نھیں اُٹھاتا
مالک: چُپ کرا ایھنوں چُپ کرا کیھہ بک بک کری جا ریا اے چُپ کر تو چھوٹے انسان تُجھے کیا خبر مذھبی آزادی کیا ھوتی ھے؟ مذھب کو پھناوے سے جوڑنے والے ، انسان جو مرضی پاوے دل مسلمان ھونا چاھیدا اے
نوکر: wow sir wow سر کتنی بڑی بات کی ھے آپ نے آپ کتنے روشن خیال ھیں اور یہ

 پرانا نوکر: نھیں آقا ایسی بات نھیں ھے
مالک: تو چُپ کر تُو چھوٹا آدمی تجھے کچھ نھیں پتہ مذھبی آزادی کا ، چل شاباش نکل ایتھو چل ، چھڈ کے آؤ ایھنوں ، چھوٹا آدمی چلو چلو
پرانا نوکر: جی میرے آقا آپ کی جیسے مرضی میں چلا جاتا ھوں
مالک: دروازہ گھُٹ کے بند کرلیئں کدھرے دوبارہ نہ آجائے


(نوٹ اشفاق احمد صاحب سے کان پکڑ کر معافی مانگتے ھوئے میں یہ پوسٹ پوسٹ کررھی ھوں )

Advertisements

تلقین شاہ پڑھتے پڑھتے

تلقین شاہ پڑھتے پڑھتے کچھ ایسی لاینز آئیں جنھیں میں نے اپنی ڈایری میں لکھ دیا کتابیں چونکہ UET  کی لائبریری کی تھیں تو اسلیے وہ واپس کروایئ جاچکی ھیں تلقین شاہ سیریز کی ایک بھی کتاب میرے پاس نھیں ھے مگر میں نھایت مشکور ھوں UET  لاھور کی اُس اعلیٰ پایہ لائبریری کی جھاں یہ کتابیں موجود ھیں اور جھاں سے مجھے بھی انھیں پڑھنے کا شرف ملا ، وہ لاینز جو میں نے نوٹ کیں تھیں اب بھی ساتھ ھیں ، کتابیں لایبریری واپس لوٹ چکی ھیں مگر کچھ لایئنز چھوڑ گیئی ھیں جو مندرجہ زیل ھیں :
اقتباسات از  "تلقین شاہ”

  • "سلیمان: میڈم آپا جی میری مجبوری ھے میری لاچاری ھے میں اسکے حکم پر اور اسکی آرزؤں پر ناچتا رھوں گا اور اسطرح ورزش کرتا رھوں گا

ھدایت: لیکن کب تک میرے بھائی؟
سلیمان: اس وقت تک کہ جب تک مجھ میں زندگی ھے لایف ھے ، جمالیہ کی شادی ھوجائے گی اس کے بچے ھوجایئں گے وہ ھنسی خوشی اپنے گھر میں رھا کرے گی اور میں ورزش کرتا رھوں گا ،سمارٹ ھونے کی کوشش کرتا رھوں گا اور پھر ایک دن ایسا آئےگا مائی لارڈ سر ،پھر شام ھوجائے گی اندھیرا پھیل جائے گا ۔” 


  • "ھدایت: پتہ نھیں جی لیکن تکلیف میں ھوتے ھیں بیچارے، آدمی کی آرزؤں کا سلسلہ تو کبھی ختم ھی نھیں ھوتا جی میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دنیا دار آدمی کی آنکھ کو قناعت پُر کرسکتی ھے یا پھر قبر کی مٹی”


  • "ھدایت: حضرت علی کرم الله وجھہ سے پوچھا گیا کہ یا حضرت اگر ایک آدمی ایک کوٹھری میں بند ھو اور کھڑکی روشن دان اُس میں کوئی نہ ھو اور کوٹھری مُقفل ھو اس کوٹھری کے باھر ایک اور کمرہ ھو اور اسکے گرد ایک اور فصیل ھو اور یہ سب کچھ ایک قلعے میں بند ھو تو اس آدمی کا رزق کس راستے سے آئے گا حضرت علی نے فرمایا جس رستے سے اسکی موت آئے گی اسی راستے سے اسکا رزق آ جائے گا "


  • "ھدایت: میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دین اور دنیا میں بھت تھوڑا سا فرق ھے ، لطیف سا ، اگر دنیا کو الله تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اسکی منشا مطابق استعمال کیا جائے یہ کلیم دین ھے اور اگر اس دنیا کو زاتی ملکیت سمجھ اپنی منشا کے مطابق استعمال کیا جائے تو سب دنیا ھے ۔ دیکھیے جی دنیا کی تمام نعمتیں علم دولت ذھانت حسُن جاہ وجلال رسوخ و اقتدار وغیرہ  وغیرہ اگر اسکو الله کی امانت سمجھ کر اسکی منشاہ کے مطابق ان سے کام لیا جائے تو یہ دنیوی نعمتیں دین کا درجہ اختیا کرجاتی ھیں اور اگر انکو زاتی ملکیت سمجھ کر, جینے ،دولت یا حسن یا رعب داعب  زاتی ملکیت سمجھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا شروع کردیا جائے تو یہ سب دنیا ھے اور اسکا بکھیڑا لمبا ھے ۔“


  • "شاہ: ایھہ گناہ کیا ھُندا اے؟

 ھدایت: بابا جی فرماتے ھیں الله کے سوا کسی اور چیز میں مبتلا ھوجانے کا نام گناہ ھے ،خدا کی زات کے سوا اسکی صفات کے سوا کسی اور چیز میں گم ھوجانا گناہ ھے
شاہ: ناں تیرا کی خیال اے دنیا کا کوئی کم ای نہ کریئے پتھر ای نہ لگائے عملی زندگی ما اور خدا سے لو لگا کہ بیٹھا رھے انسان آسماناں کی طرف نگاہ کرکے؟
ھدایت: نہ جی نہ ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ سب کام کرے دنیا کے مادی زندگی کے لیکن اپنے آپ کو ان میں مبتلا نہ کرے مبتلا ھو تو صرف الله کی ذات میں
شاہ: ھم تاں خدا کی زات کے سوا ھر چیز میں مبتلا رھندے ایں
ھدایت: اور بزرگان دین اس چیز کو گناہ کھتے ھیں 

مصنف : اشفاق احمد

ٹیگ بادل