ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for the ‘خدا سے تعلق’ Category

تلقین شاہ پڑھتے پڑھتے

تلقین شاہ پڑھتے پڑھتے کچھ ایسی لاینز آئیں جنھیں میں نے اپنی ڈایری میں لکھ دیا کتابیں چونکہ UET  کی لائبریری کی تھیں تو اسلیے وہ واپس کروایئ جاچکی ھیں تلقین شاہ سیریز کی ایک بھی کتاب میرے پاس نھیں ھے مگر میں نھایت مشکور ھوں UET  لاھور کی اُس اعلیٰ پایہ لائبریری کی جھاں یہ کتابیں موجود ھیں اور جھاں سے مجھے بھی انھیں پڑھنے کا شرف ملا ، وہ لاینز جو میں نے نوٹ کیں تھیں اب بھی ساتھ ھیں ، کتابیں لایبریری واپس لوٹ چکی ھیں مگر کچھ لایئنز چھوڑ گیئی ھیں جو مندرجہ زیل ھیں :
اقتباسات از  "تلقین شاہ”

  • "سلیمان: میڈم آپا جی میری مجبوری ھے میری لاچاری ھے میں اسکے حکم پر اور اسکی آرزؤں پر ناچتا رھوں گا اور اسطرح ورزش کرتا رھوں گا

ھدایت: لیکن کب تک میرے بھائی؟
سلیمان: اس وقت تک کہ جب تک مجھ میں زندگی ھے لایف ھے ، جمالیہ کی شادی ھوجائے گی اس کے بچے ھوجایئں گے وہ ھنسی خوشی اپنے گھر میں رھا کرے گی اور میں ورزش کرتا رھوں گا ،سمارٹ ھونے کی کوشش کرتا رھوں گا اور پھر ایک دن ایسا آئےگا مائی لارڈ سر ،پھر شام ھوجائے گی اندھیرا پھیل جائے گا ۔” 


  • "ھدایت: پتہ نھیں جی لیکن تکلیف میں ھوتے ھیں بیچارے، آدمی کی آرزؤں کا سلسلہ تو کبھی ختم ھی نھیں ھوتا جی میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دنیا دار آدمی کی آنکھ کو قناعت پُر کرسکتی ھے یا پھر قبر کی مٹی”


  • "ھدایت: حضرت علی کرم الله وجھہ سے پوچھا گیا کہ یا حضرت اگر ایک آدمی ایک کوٹھری میں بند ھو اور کھڑکی روشن دان اُس میں کوئی نہ ھو اور کوٹھری مُقفل ھو اس کوٹھری کے باھر ایک اور کمرہ ھو اور اسکے گرد ایک اور فصیل ھو اور یہ سب کچھ ایک قلعے میں بند ھو تو اس آدمی کا رزق کس راستے سے آئے گا حضرت علی نے فرمایا جس رستے سے اسکی موت آئے گی اسی راستے سے اسکا رزق آ جائے گا "


  • "ھدایت: میرے بابا جی فرمایا کرتے ھیں جی کہ دین اور دنیا میں بھت تھوڑا سا فرق ھے ، لطیف سا ، اگر دنیا کو الله تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اسکی منشا مطابق استعمال کیا جائے یہ کلیم دین ھے اور اگر اس دنیا کو زاتی ملکیت سمجھ اپنی منشا کے مطابق استعمال کیا جائے تو سب دنیا ھے ۔ دیکھیے جی دنیا کی تمام نعمتیں علم دولت ذھانت حسُن جاہ وجلال رسوخ و اقتدار وغیرہ  وغیرہ اگر اسکو الله کی امانت سمجھ کر اسکی منشاہ کے مطابق ان سے کام لیا جائے تو یہ دنیوی نعمتیں دین کا درجہ اختیا کرجاتی ھیں اور اگر انکو زاتی ملکیت سمجھ کر, جینے ،دولت یا حسن یا رعب داعب  زاتی ملکیت سمجھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا شروع کردیا جائے تو یہ سب دنیا ھے اور اسکا بکھیڑا لمبا ھے ۔“


  • "شاہ: ایھہ گناہ کیا ھُندا اے؟

 ھدایت: بابا جی فرماتے ھیں الله کے سوا کسی اور چیز میں مبتلا ھوجانے کا نام گناہ ھے ،خدا کی زات کے سوا اسکی صفات کے سوا کسی اور چیز میں گم ھوجانا گناہ ھے
شاہ: ناں تیرا کی خیال اے دنیا کا کوئی کم ای نہ کریئے پتھر ای نہ لگائے عملی زندگی ما اور خدا سے لو لگا کہ بیٹھا رھے انسان آسماناں کی طرف نگاہ کرکے؟
ھدایت: نہ جی نہ ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ سب کام کرے دنیا کے مادی زندگی کے لیکن اپنے آپ کو ان میں مبتلا نہ کرے مبتلا ھو تو صرف الله کی ذات میں
شاہ: ھم تاں خدا کی زات کے سوا ھر چیز میں مبتلا رھندے ایں
ھدایت: اور بزرگان دین اس چیز کو گناہ کھتے ھیں 

مصنف : اشفاق احمد

ایک محبت سو افسانے (Qurat-ul-ain)

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 1
Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 2

 ڈرامے کے ایک سین میں (پارٹ 2 کا آخری حصہ میں) بیٹا اپنے باپ سے کھتا ھے کہ اگر وہ سب نہ ھوسکا جس کی آپکو اُمید ھے یا جس کی آپکو آرزو ھے تو پھر آپ کیا کریں گے  باپ جواب دیتا ھے کہ ” پھر میں زندہ رھوں گا اور تب تک زندہ رھوں گا جب تک اسکا حکم ھے "

میں سوچ رھی ھوں کہ  اگر جب  تک   اُسکا حکم ھے تب تک زندہ رھنا ھے تو کیوں نہ جسطرح   اُسکا حکم ھے اُس طرح زندہ رھا جائے اگر  اُسکا ایک حکم ماننا ھے تو تمام حکم کیوں نھیں ؟ جب تک  اُسکا حکم ھے تب تک زندہ رھنے کی بجائے جس طرح زندہ رھنے کا اُسکا حکم ھے کیوں نہ اس طرح زندہ رھا جائے؟ 

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 3

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 4

Aik Muhabbat so Afsanay.Qurat ul ain part 5

 Drama :Qurat-ul-ain ( written by ashfaq ahmed)

عرش بریں کے رشتے

ابھی جو میں لکھنے جارھی ھوں یہ میرے لئے بھی اتنی ھی عجیب بات تھی جتنی آپ لوگوں کے لئے ھوگی،پچھلے کچھ مھینوں  سے میںھیر وارث شاہپڑھ رھی ھو وھی کتاب جس کتاب میں وارث شاہ نے ھیر اور رانجھے کے قصے کو شعروں کی شکل میں ڈھالا ھے۔ قصہ چلتے چلتے اس مقام پر پھنچتا ھے جھاں ھیر کے ماں باپ ھیر کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کھیڑوں کے ھاں کررھے ھیں مگر ھیر اس بات پر بضد ھے کہ وہ رانجھے کی منگیتر ھے اور نکاح نھیں کررھی قاضی صاحب ھیر کا نکاح پڑھانے کی کوشش کررھے ھیں مگر ھیر انکار کررھی ھے قاضی اسے سمجھا رھا ھے مگر ھیر اسےجواب دیتی ھے:"قلوب المومنین  عرش الله تعالٰی قاضی عرش خُدایئے داڈھا ناھیں
جیتھے رانجھے دے عشق مقام کیتا اوتھے کھیڑیاں دی کوئی واہ ناھیں
ایہ چڑھی گولیر میں عشق والی جیتھے ھور کوئی چاڑھ لاہ ناھیں
جس جیونے کاج ایمان ویچاں ایھاں کون جو انت فناہ ناھیں "

ترجمہ:
مومنوں کے دل الله کے عرش ھوتے ھیں ،اے قاضی خدا کے عرش کو ڈھانے کی کوشش مت کرو۔جس دل میں رانجھے کے عشق نے گھر بنا لیا ھےاس میں کھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نھیں ھے۔میں عشق کے بُرج پر چڑھ چکی ھوں اور یہ وہ جگہ ھے جھاں پر چڑھادیا جاتا ھے لیکن یھاں سے اُترنا ممکن نھیں ھے۔ جس جیون کے لیے میں ایمان بیچوں وہ بھی تو ختم ھوجائے گا ،یھاں کون ھے جس کو فناہ نھیں ھے۔
"قالو بلا دے دن  نکاح  بدھا رُوح   نبی دی  آپ  پڑھایائے
قطب ھو وکیل وچ آ بیٹھا حکم   رب   نے   آن    کرایائے
جبرایئل  میکایئل گواہ چارے عزرایئل اسرافیل بھی آیائے
اگلا توڑ کے ھور نکاح پڑھنا آکھ رب نے کدُوں فرمایائے"
ترجمہ:
ھم دونوں( ھیر اور رانجھاکا نکاح روز الست سے ھی باندھ دیا گیا تھا اور نبی پاک کی روح نے یہ نکاح خود پڑھایا تھا۔قطب اس میں وکیل بن کر بیٹھا تھا اور یہ حکم خداوندی سے ھوا تھا،چار گواہ کے طور پر وھاں جبرایئل ،میکایئل،عزرایئل اوراسرافیل فرشتے موجود تھے۔(اے قاضی) یہ بتا تو سھی کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا نکاح پڑھانے کا حکم خدا نے کب دیا ھے۔

"جیھڑے عشق دی آگ وے تاؤتتے تنھاں دوزخاں ناال کیھہ واسطہ ای
جنھاں اک دے   ناؤں  تے صدق بدھا   اُنھاں فکر اندیشڑا    کاسدا   ای
آخر صدق   یقین تے کم  پوسی   موت   چرغ   ایھہ   پتلا   ماس دا   ای
دوزخاں موریاں ملن بے صدق جھوٹھے جنھاں بان تکن آس پاس دی اے”

                                                                                                                                                        ترجمہ:
جو لوگ عشق کی آگ میں تپ رھے ھوں ان کا دوزخوں سے کیا واسطہ ھے۔جنھوں نے ایک کے نام کو صدق دل سے اختیار کیا ان کو کسی بات کی فکر نھیں ھے ۔آخر کار بات صدق یقین پر ھی ختم ھوگی کیونکہ گوشت کا یہ پُتلا تو موت کے شاھیں کا شکار ھوجائے گا ۔دوزخ میں سب سے پھلے وھی لوگ جایئں گے جو بے صدق اور جھوٹے ھوں گے اور جن کو دوسروں پر آسرا ھوگا۔             

 

(ھیر وارث شاہ)


ان اشعار میں وارث شاہ نے یہ عجیب منظر عشق کا بیان کیا ھے جس کے مطابق جو لوگ عشق کرتے ھیں ان کا نکاح پھلےسے ھی عرش پر ھوا ھوتا ھے ،آپ لوگ سمجھیں گے کہ یہ میں کتنی فرضی اور رومانوی بات کررھی ھوں مگر یہ میں نھیںیہ تو "وارث شاہجنھیں پنجابی زبان کا شیکسپیئر اور ایک عظیم ترین صوفی بزرگ سمجھا جاتا ھےوہ کھہ رھے ھیں،وارث شاہ نے ان اشعار میں محبت اور عشق کا ایک ایسا روپ پیش کیا ھے جس میں یہ تصور دیا گیا ھے کہ جو دو انسان عشق کرتے ھیں ان کا رشتہ خدا نے عرش پر ھی جوڑا ھوتا ھے ان کا نکاح پھلے سے پڑھا جاچکا ھوتا ھے اب اگر کوئی اس نکاح کو نہ مانے اور ان لوگوں کا نکاح کھیں اور کروا دے تو یہ ایسے ھی ھے کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا پڑھایا جائے ،یہ بھت ھی منفرد بات ھے آج کل کے دور میں ممکن نھیں ھے کہ لوگ ایسی بات کو سمجھے مگر چونکہ عشق کا تعلق وقت اور دور سےآزاد ھے اس لیے ایک سچا عاشق ھی اس حقیقت کو جان سکتا ھے کہ جس سے اس کو عشق ھے اسکا نکاح اس سے پڑھاجاچکا ھوتا ھے۔
 
قرآن کریم میں بھی اس بات کا زکر ھے کہ الله تعالیٰ نے تمام جانداروں کو جوڑوں میں پیدا کیا ھے۔
ادب میں بھی اس طرح کی باتیں بھری پڑی ھیں
قاضی عبدالغفار اپنی کتابلیلیٰ کے خطوطمیں لیلیٰ کو قلم سے لکھتے ھیں کہ
 "کہ ھر عورت کا ایک مرد ھوتا ھے اس دنیا میں جب اس کا مرد اسے مل جاتا ھے تب وہ جانتی ھے کہ جنت دنیا کا دوسرانام ھے اس دھوکے میں مت آؤ کہ ھر مرد ھر عورت کا مرد ھوسکتا ھے ۔ابھی تک یہ فطرت کا ایک راز ھے میں تو اکثر سوچا کرتی ھوں کہ قسام ازل خود جوڑے لگا لگا کر دنیا میں بھیجتا ھے ۔پھر دنیا والے اپنی حماقت سے اس تقسیم کو غلط کردیتےھیں  اور ساری دنیا کو ماتم خانہ بنا کر احمقوں کی طرح اپنی قسمت کا گلہ کرتے ھیں !“
ان سطروں میں بھی یھی واضح کیا گیا ھے کہ جوڑے خود ازل میں تخلیق کیے گیے ھیں یہ بات میں اپنے دوستوں کو سمجھانےکی بھت کوشش کرتی ھوں مگر ھمیشہ ناکام ھی ھوتی ھوں کیونکہ آج کل کا انسان ایسی باتوں کو پسند نھیں کرتا مگر میں بس اس بات کو  یھاں ختم کرتی ھوں کہ
عشق کرنے والے ھی سمجھ سکتے ھیں کہ منکوحہ محبت کیا ھوتی ھے یہ ایک ایسی محبت ھوتی ھے جس میں نکاح پھلے سےھی  یعنی ازل سے   ھوا ھوتا ھے!
سوال تو یہ ھے کہ دنیا میں سماج والے اس نکاح کو توڑ کر دوسرا نکاح کیوں کرواتے ھیں. ھیر کا پوچھا گیا سوال آج بھی صدیوں بعد بھی ویسے ھی سامنے کھڑا ھے کیا ازل سے جُڑا رشتہ دنیا میں توڑنا جایز ھے؟ 
مصنف :فریحہ فاروق

محبوب کبھی ایک نھیں ھوتا مگر محبوب کبھی بدلتا نھیں ھے!

جب میری عمر دس سال تھی ،میں بھت پریشان رھتی تھی ایک عجیب سی بےچینی بےقراری اور یہ احساس کے کچھ تو ادھورا ھے کچھ ایسا جو مجھے سمجھ میں نھیں آتا آخر کار تنگ آکر میں نے اپنے پاپا سے پوچھا "پاپا ھم دنیا میں کرنے کیا آتے ھیں؟“ پاپا نے جواب دیا "ھم دنیا میں محبت کرنے آتے ھیں “ یہ کیا بات ھوئی مجھے تو سمجھ نھیں آئی مگر پاپا کیونکہ سمجھانا جانتے ھیں اُنھوں نے سمجھایا کہ "دیکھو الله تعالیٰ حسن ھے ،اوراس نے تمام مخلوقات کو بنایا ھے،اور جب اس حسن کو ،نور کو ,فرشتوں نے جنات نے دیکھا تو وہ اُسی وقت خدا کی محبت میں گرفتار ھوگئے اور اس سے محبت  کرنے لگے  مگر پھر خدا نے سوچا کہ کیا کوئی ایسی مخلوق ھوگی جو میرے نور کو نہ دیکھے میرا دیدار نہ کرے مگر پھر بھی مجھ سے اتنی ھی محبت کرے یا ان فرشتوں سے بھی زیادہ ۔ تب خدا نے انسان کو تخلیق کیا ،انسان” ایک ایسی مخلوق جو خدا کو دیکھے بغیر اس سے محبت کرے” ،خدا نے اس انسان کو دنیا میں بھیج دیا کہ جاؤ اور یھاں جاکر یہ ثابت کرو کہ میری مخلوق ایسی بھی ھے جو بن دیکھے مجھ سے محبت کرتی ھے ِِِِھم صرف اس لیے اس دنیا میں آئے ھیں کہ "جو ھے مگر دکھائی نھیں دیتا اسکے لئے اور اسکی محبت کیلئے تمام عمر گزارے” ۔خدا نے ھمیں صرف ایک مقصد کیلیےپیدا کیا ھے محبت کے لیے اور شرط یہ ھے کہ اُسے دیکھے بنا اس سے محبت کرنی ھے،آپ اسے سن نھیں سکتے, دیکھ نھیں سکتے مگر مقصد حیات اسی کی محبت ھے.
اس ایک جواب نےمیری زندگی بدل دی اب زندگی میں بےچینی تو ختم ھوگیئ مگر جستجو شروع ھوگئی ،مقصد مل گیا محبت کا سفر مل گیا۔یہ زندگی کا وہ پھلا سبق تھا جو میں نے پوری زندگی کے لیے اپنے اندر گھول لیا۔
ایک انسان کی زندگی بدل گئی۔اب یہ سب بتانے کا مقصد کیا تھا ھم میں سے کون ھے جس کو اس عمر میں یہ سب باتیں نھیں معلوم ،یہ سب تو ھم جانتے ھیں مگر پھر بھی ھم میں سےبھت سے لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ محبت کرنے کیلئے دیکھنا اور آواز سننا ضروری ھے جس کو آپ نے دیکھا نہ ھو جس کی آواز نہ سنی ھو جس سے کبھی بات نہ کی ھو اس سے محبت نھیں کی جاسکتی مگر میں کھتی ھوں ، نھیں کی جاسکتی ھے خدا کو کس نے دیکھا ھے اس کی آواز کس نے سنی ھے ؟ مگر کیا ھم اس سے محبت نھیں کرتے ؟اگر محبت کے لیے یہ سب ضروری ھوتا توخدا نے کیوں انسانوں سے توقع کی کہ وہ اسے بن دیکھے ،بن ملے ،بن سُنے محبت کرے۔
محبت میں ملنے کی دیکھنے کی ،سننے کی دیدار کی شرط نھیں ھوتی انسان کو اس سے بھی محبت ھوسکتی ھے جسے اس نے کبھی نہ دیکھا ھو نہ سُنا ھو ،کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے انسان سے ھو یا خدا سے "محبت کا اصول نھیں بدلتا“ محبت کیلیے احساسات کی ضرورت ھوتی ھے جسے محسوس کیا جاسکتا ھے اس سے ھی محبت کی جاسکتی ھے۔یہ محبت کا عرفان ھے یھی انسان کے اشرف المخلوقات ھونے کی شرط ھے کہ اس خدا سے بےانتھاء محبت کرے جسے نہ تو کبھی دیکھا ھے نہ سُنا ھے اور نہ ھی ملاقات کی ھے ،مگر پھر بھی وہ ھم سے بات کرتا ھے اس نے ھمیں الفاظ دیئے ھیں دیدار نھیں دیا،اپنا کلام دیا ھے اس نے قرآن کی شکل میں اپنی بات ھم تک بھیجی ھے, وہ دکھائی نھیں دیتا پھر بھی ھم سے بات کرتا ھے .یھی محبت کی شرط ھوتی ھے یھی محبت کے اصول ھوتے ھیں ۔
محبت ھر حال میں ایک ھی جیسی ھوتی ھے اسکے اصول بدلتے نھیں ھیں مثال کے طور پر حسد کو لیجیے ,کھتے ھیں حسد اور جیلیسی محبت کا آغاز ھوتا ھے انسان یہ بات کبھی برداشت نھیں کرسکتا کہ جس سے وہ محبت کرے وہ کسی اور کو چاھے یا کوئی اور اسےچاھے ،مجھے کبھی محبت میں حسد کا خیال سمجھ نھیں آیا ۔آخر  حسد کیا ھوتی ھے? میں جس انسان سے محبت کرتی ھوں دنیا میں بےتھاشا انسان اسی خدا سے محبت کرتے ھیں تو کیا میں اس بات کی کوئی حسد کرسکتی ھوں ؟ یا جس سے میں محبت کرتی ھوں جو میرا خدا ھے میرا محبوب ھے وہ میرے ساتھ ساتھ باقی تمام انسانوں کو بھی محبت کرتا ھے ۔تو کیا میں یہ کھہ سکتی ھوں کہ الله تعالیٰ آپ تو صرف مجھ سے محبت کریں ۔نھیں ایسا نھیں ھوتا خدا سے محبت میں حسد کا تصور کبھی پیدا نھیں ھوتا مگر جب بات انسانوں سے محبت پر آتی ھے تو انسان سب سے پھلے یھی بات سوچتا ھے کہ جس سے میں محبت کرتا ھوں وہ کسی اور سے محبت نہ کرے اسکی تمام محبت صرف میرے نام ھوجائے.اسی کا نام حسد ھے اور یہ حسد ھی محبت کے اصول کے خلاف ھے ۔ایسا کیوں ھوتا ھے خدا سے محبت میں تو حسد کبھی نھیں آتی مگر انسانوں سے محبت میں یہ سب سے پیش پیش جذبہ ھوتا ھے۔اگر ھم خدا کی محبت سے بانٹ سکتے ھیں اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت کرسکتے ھیں تو انسانی محبتوں میں جزبہ کیوں پیدا نھیں ھوتا، کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے خدا سے ھو یا انسان سے اسکے اصول دونوں ھالتوں میں ایک ھی جیسے ھوتے ھیں اسکے احوال کسی شرط نھیں بدلتے۔ مجھے کبھی اس حسد کا احساس نھیں ھوا ھو بھی نھیں سکتا جو لوگ خدا سے محبت کرتے ھیں ان کی زندگی میں حسد نھیں ھوتی ،ھو ھی نھیں سکتی۔
ایک اور بات جو میں اکثر کھتی رھتی ھوں کہ محبوب ایک نھیں ھوتا ،محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں محبت صرف ایک نھیں ھوسکتی محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں لوگ کھتے ھیں محبوب تو صرف ایک ھی ھوتا ھے ایسا نھیں ھے یہ جملہ بھت نامکمل ھے اصلیت تو یہ جمل ھے کہ "محبوب کبھی بدلتا نھیں ھے“ اب وہ چاھے دو ھوں یا سو ،محبوب کبھی نھیں بدلتا،میں نے ھر طرح کے انسان سے محبت کرکے دیکھی ھے امیر غریب ،فنکار اداکار ،ریڑھی والے سے ،علم والے سے ،کردار والے سے میں نے سب کو محبوب بنا کر دیکھ لیا ھےمگر میرا محبوب نھیںبدلا,  وہ بدلتا ھی نھیں ھے .میں سب کے پیچھے اسی خدا سے محبت کرتی رھتی ھوں, میں چاھے کسی کو بھی محبوب بنا لو میں محبت پس پشت اسی خدا سے کرتی رھوں گی جسے میں نے دس برس کی عمر میں ھی اپنا محبوب بنا لیا تھا میرا محبوب کبھی نھیں بدلتا میں اسی سے محبت کرتی رھتی ھوں جس نے مجھے اس سے محبت کرنے کیلیے ھی تخلیق کیا ھے۔
محبت کو اصول تو اٹل ھیں انسان خود کو دھوکہ دے سکتا ھے مگر محبت کو دھوکہ نھیں دے سکتا جس سے محبت ھو اسے کبھی دھوکہ نھیں دے سکتا ،محبت کا اصول نھیں بدلتا ،آپ کا محبوب نھیں بدلتا آپ جس سے بھی محبت کرلو ان اصولوں کو نھیں بدل سکتے آپ اپنے محبوب کو نھیں بدل سکتے۔
آج کل کے دور میں ھم سب نے مل کے محبت کے پاک نام کو بھت زلیل کیا ھے ھر چیز میں ھم اسکا استعمال کرنے لگے ھیں کپڑوں سے ،کھانے سے جگہ سے ،کسی بھی چیز سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں ،اور سب سے زیادہ کسی انسان سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں کیا انسان سے محبت کرنا غلط بات ھے غلط تو نھیں ھے مگر آج کا انسان جب انسان سے محبت کرتا ھے تو اس میں توقعات کا زھر گھولتا ھے خواھشات کے سویٹر بنتا ھے اور ضرورتوں کی لمبی لسٹیں بناتا ھے، ان تمام خواھشات،توقعات اور ضرورتوں میں محبت کا حسن پامال ھوتا ھے.
یہ وہ محبت نھیں رھتی جس کے اصول تو خدائی اصول ھیں یہ تو مطلب پرست مفاد پرست اور موقع پرست محبت بن جاتی ھے اب یہ محبت صرف محبت نھیں رھتی یہ ایک "گھٹیا اور بازارو چیز” بن جاتی ھے جسے "خریدا اور بیچا "جاسکتا ھے اور اسی بازارو محبت کو اس دنیا میں سب سے زیادہ پروان چڑھایا گیا ھے اور اسی قسم کی محبت نے اصل انسانی محبت کو بدترین مقام پر پھنچایا ھے۔
انسان سے محبت کرنا کبھی غلط نھیں ھوتا نہ ھی خدا سے محبت مگر محبت کے اصول اٹل ھونے چاھیے ،تو پھر کیا محبت انسان سے ھو یا خدا سے اس میں کوئی فرق نھیں ھوتا ،نھیں ایسی بات بھی نھیں ھے ایک فرق ھوتا ھے خدا سے محبت کیا ھے علامہ اقبال کھتے ھیں
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو تیرے   عفو  بندہ نواز    میں
یہ تو انسان اور خدا کی محبت کا تعلق ھے یہ رشتہ خدا اور انسان کے درمیان ھوتا ھے انسان کے جرم خانہ خراب کو اماں ملتی ھے تو صرف خدا کی  "عفو بندہ نواز“ ،میں ھی ملتی ھے مگر انسان سے محبت کی صورت میں یہ شعر بدل جاتا ھے جب محبت انسان سے ھو جائے تو یہ کھنا پڑتا ھے کہ
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے عفوبندہ نواز  کو  تیرے  جرم  خانہ خراب  میں
انسان سے محبت کی صورت میں انسان کو خود ھی عفو بندہ نواز بننا پڑتا ھے .محبوب کے جرم خانہ خراب کو خود اماں دینی پڑتی ھے خدا سے محبت میں آپ خود ھر معافی کے طلبگار ھوتے ھو ھر گناہ کی توبہ کرسکتے ھو مگر انسان سے محبت میں آپ کو خود معاف کرنا پڑتا ھے ھر اماں خود دینی پڑتی ھے یہ بھت عجیب کشمکش سے بھرپور بات ھے اسکو بس ایسے سمجھ لیں کہ
"محبوب کی ھر غلطی ھر گناہ اور ھر برائی کو معاف کرکے اس سے محبت کی جائے ،تبھی انسان سے محبت ھوسکتی ھے.”
محبت ایک ایسی چیز ھے جسکی بنیاد میں الله تعالیٰ نے خود ھی دیدار کی شرط  نکال دی ھے اور خود اپنا ھی دیدار نھیں کروایا،آواز سننے کی شرط نکال دی ھے کبھی خود ھی نھیں بول کر بات کی ، حسد کی شرط نکال دی ھے کیونکہ سب سے برابر محبت کرنے والا ھے! بس شرط ھے تو اماں کی اور جو خدا سے محبت کرتا ھے وہ خود ھی عفو بندہ نواز بن جاتا ھے وہ نہ تو غصہ کرسکتا ھے نہ نفرت نہ انتقام لے سکتا ھے نہ بدلا، نہ افسوس کرسکتا ھے نہ ملال نہ کامیاب ھوسکتا ھے نہ ناکام بس جیسے بانو قدسیہ آپا کھتی ھیں
“یہ تو ڈاڈھے سنگ پریت ھے “ یہ سچ میں بھت داڈھے سنگ پریت ھے میرے سے پوچھ کر دیکھے۔۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

رام جی سے ملاقات

کل میں رام چندر جی سے ملی. میں نے رام جی سے پوچھا کہ رام جی آپ تو بھگوان ھیں اور آپ اس دنیا میں آئے ,اس کا حصہ بنے اور میں انسان بھی اسی دنیا میں آیا اور اس کا حصہ بنا ھوں مگر یہ کیسی ناانصافی ھے کہ جب بھگوان انسان بن کر اس دنیا میں آیا تو اسے صرف چودہ برس کا بن باس ملا اور ھمیں عام انسان ھوکر پوری زندگی کا بن باس مل گیا ھے یہ کیسی ناانصافی ھے بھگوان انسان بنا تو صرف چودہ برس اپنی ایودھیا سے دور رھا اور ھم ساری زندگی ھی اپنی ایودھیا کی حسرت میں گزار دیتے ھیں ۔ھمارے چودہ برس کیوں ختم نھیں ھوتے،ھمارا بن باس کیوں ختم نھیں ھوتا؟؟
پھر رام جی بولے کہ بالیکے! تمھیں کس نے کھہ دیا کہ میرابن باس  چودہ برس میں ختم ھوگیا تھا۔ میرا بن باس تو سالوں سے چل رھا ھے اور چلتا رھے گا۔
ھاں! بالیکا یہ بن باس پوری انسانیت کاٹ رھی ھے جس دن سے اُسے جنت سے نکالا گیا تھا اس دن سے ھم یہ بن باس کاٹ رھے ھیں. میں اپنی ایودھیا تو لوٹ آیا مگر بن باس ختم نھیں ھوا. بن باس تو اصل میں اُس روز ختم ھوگا جس روز ھم جھاں سے نکالے گئے تھے وھیں واپس لوٹیں گے،اور بن باس ختم ھونے کی اصل دیوالی تو انسان اُس روز منایں گے، جب وہ اپنی ایودھیا اپنی جنت جھاں سے وہ نکالا گیا تھا وھاں واپس لوٹے گا۔
رام جی کیا بھگوان بھی جنت میں جانے کے لیے ھم انسانوں کی طرح انتظار کر رھے ھیں ؟؟
کیوں نھیں بالیکے میں بھی تم لوگوں کے ساتھ ھی اپنی ایودھیا میں لوٹوں گا،مجھے بھی خدا نے ایک اھم کام دے کر بھیجا تھا. ھم صدیوں سے وہ کام کرھے ھیں،اسی کے حکم پر ھم نے لوگوں کو سھارے دینے کا کھیل رچایا ھے۔
رام جی کیا بھگوان سچ میں ججنت میںجا ییں گے؟؟
ھاں ضرور اگر انسان جایںگے تو ھم بھگوان بھی جایں گے کیونکہ بھگوان 
سے   انسان تک کا صفر طے کرتے ھوئے ھم نے بھی اہنی منزل جنت ھی بنا لی ھے، بالیکے انسان سے بھگوان بننے کا صفر تو بھت جلدی طے ھوجاتا ھے
مگر بھگوان سے دوبارہ انسان بننا اور بنواس کاٹ کر اپنی ایودھیا میں ھمیشہ کے لیے جانے کا سفر بھت کٹھن ھے یہ بنواس تو بھت ھی لمبا ھے
written by:
Fareeha Farooq.
 

Abnormality and Adventure

I was so much depressed to think about that "What is the difference between abnormality and adventure”. I thought ,a lot but couldn’t got the point then finally I met Allama Iqbal and asked the same question ,”What’s the difference between abnormality and adventure”
Allama Iqbal answered
میں نے ہزاروں سال فطرت سے ہم نشینی اختیار کی
میں اس کے ساتھ پیوست ہو گیا اور اپنے آپ کو فنا کر دیا
لیکن میری تمام تر سرگزشت ان حروف پر مشتمل ہے

 میں تراشتا ہوں، پوجتا ہوں اور توڑ دیتا ہوں
thanks to Allama Iqbal, I got the answer of my question.
what is Adventure?
 میں تراشتا ہوں، پوجتا ہوں
"I carve, I worship” 
that’s the adventure of man
What is abnormality??
اور توڑ دیتا ہوں
"and I destroy ” 
that’s the abnormality,true answer of abnormality… and this abnormaity is a Crown ;true Crown on the head of Humanbeing.written by :
Fareeha Farooq. 

ٹیگ بادل