ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for the ‘میرے افکار’ Category

میں نے نرگسیت کو دیکھا ھے

محبت تو معلوم نھیں کیا ھوتی ھے مگر یہ نرگسیت "اپنی زات سے محبت” ھوتی ھے۔حالانکہ میں یہ تو نھیں بتا سکتی کہ محبت کیا ھوتی ھے کیونکہ یہ میں جانتی ھی نھیں ،میں نے یہ دیکھی ھی نھیں مگر مجھے یہ معلوم ھے کہ نرگسیت کیا ھوتی ھے؟ انتھائی عجیب بات ھے کہ مجھے محبت کے معنی تو معلوم نھیں ھیں محبت کو سمجھنے سے میں قاصر ھوں لیکن مجھے نرگسیت کے معنی معلوم ھیں "اپنی ذات سے محبت” کو سمجھنے سے میں کبھی قاصر نھیں رھی۔
نرگسیت ایک ایسی محبت کی قسم ھے جو سب سے زیادہ عام ھے مگر سب سے زیادہ خطرناک بھی ھے کیونکہ نرگسیت ایسی ذاتی محبت ھوتی ھے جو انسان کو ھلاک کردیتی ھے اس میں ھلاکت کے اثرات بھرپور حد تک موجود ھوتے ھیں ۔ھم سب دنیا والے محبت کا پرچار کرتے ھیں اس کی خوبیاں بیان کرتے ھیں اس کو انسان اور دنیا  کے لیے رحمت تصور کرتے ھیں مگر محبت اور نرگسیت میں زمین آسمان کا فرق ھے ۔نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جسے کوئی انسان بھی اچھا تصور نھیں کرسکتا یہ ایسی محبت ھے جو مفاد پرستی کی دیوی ھوتی ھے، دنیا میں تمام قسم کی محبتوں کا فن “دینا“ یا “عطا “ کرنا ھے مگر نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جس کا مقصد صرف اور صرف چھیننا ھوتا ھے یہ محبت خود پسندی ،زاتی مفاد ، خود غرضی اور لالچ کی بھینٹ چڑھی ھوتی ھے یہ محبت خلوص سے خالی اور غرور سے بھرپور ھوتی ھے۔نرگسیت ایک ایسی بیماری ھے جو ھمارے ارد گرد کے لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ھے۔

ایڈز کی طرح اس بیماری کا علاج یا تو ممکن نھیں یا انتھائی دشوار اور ھماری پھنچ سے باھر نظر آرھا ھے۔اگر ھم اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں تو ھر سطح پر یہ نرگسیت عروج پر پھنچی ھوئی ھے وہ ھماری اپنی زات ھو یا ھمارے دوست یا رشتہ دار ھر ایک اس بیماری میں مبتلا نظر آتا ھےھم اپنی نرگسیت کا اظھار کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ھیں "کھیں میں فیل نہ ھوجاؤ ” ،کھیں میری بستی نہ ھوجائے“ "کھیں میرے ڈریس کا ڈیزاین کوئی چوری نہ کرلے“ ،“کھیں میرے نوٹس کوئی اور نھ پڑھ لے“ یہ سب باتیں ھمارے لاشعور میں پل رھی نرگسیت کی زبان ھوتی ھیں ۔۔
کیا خود سے محبت کرنا اتنی بُری چیز ھے ؟کیا یہ اتنی خطرناک بیماری ھے جو ھماری ذات کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پھنچارھی ھے؟
نرگسیت یعنی ھلاک کردینے والی محبت خطرناک چیز ھے ھماری خود پسندی اور زاتی محبت کی شکل کبھی بھی تعمیری نھیں رھی بلکہ تخریبی رنگ سے آمیزہ ھے، ھم اپنی ذاتی محبت سے خود کو تعمیر نھیں بلکہ اپنی تخریب کررھے ھیں ۔نرگسیت کا مرض انسان کو جو Symptoms عطا کرتا ھے ان میں سب سے اھم anxiety ,depression اور نااُمیدی ھیں یہ انسان کو مایوسیوں کی دلدل میں ڈبوتی اور حسد کی کھائی میں دھکا مار دیتی ھے۔نرگسیت کا مریض انسان کبھی اپنی ھار برداشت نھیں کرتا اور کبھی جیتنے کی اصل کوشش بھی نھیں کرتا۔
میں خود بھی نرگسیت کی شکار ھوں ،اس کا شدید احساس مجھے اس وقت ھوا جب جاپان میں حالیہ زلزلوں سے تباھی اور بربادی سے مشکل سے ھی شاید میرے جذبات اور زندگی پر کوئی فرق پڑا ،پاکسان میں سیلاب آیا تھا تو ھماری راتوں کی نیندیں اُڑ گیئ تھیں ایسا افسوس اور عزم اپنے اندر محسوس ھوا تھا جو پھلے کبھی نھیں ھوا تھا مگر جاپان میں زلزلہ آنے پر اتنی الم ناک داستان پر شاید ھی میری ایک بھی دن کی زندگی متاثر ھوئی ھو،ایک پل بھی میں اُن کے دکھ میں شریک نھیں ھوئی کیا یہ نرگسیت نھیں ھے کیا مجھے اپنے لوگوں کا ھی خیال تھا؟کیا یہ محبت تمام انسانوں کے لیے نھیں ھونی چاھیے تھی؟ یہ کیسی محبت ھے جو آفاقی انسانیت سے نھیں ھے۔
یہ تو سب بڑی باتیں ھیں یھاں تو کوئی عاشق بھی محبوب سے نھیں بلکہ خود سے ھی محبت سے سرشار ھوتا ھے،آج کے دور کا عاشق محبوب کی آنکھوں سے محبت نھیں کرتا بلکہ اپنی ان آنکھوں سے محبت کرتا ھے جن سے وہ محبوب کی آنکھوں کو دیکھتا ھے،وہ محبوب کی عقل و شعور سے متاثر نھیں ھوتا بلکہ اپنی اس صلاحیت سے متاثر ھوتا ھے جس نے اس نے محبوب کی عقل و شعور کو پھچانا ھوتا ھے ۔محبوب کی خوشی کا نام لیکر آج کا عاشق صرف اور صرف اپنی خوشی سے محبت کررھا ھوتا ھے۔
یہ نرگسیت کبھی ختم نھیں ھوتی اس سے پیچھا چھڑوانا اتنا آسان کام نھیں ھے اس سے پیچھا چھڑوانے کے لیے خلوص کی ضرورت ھوتی ھےاس کے لیے قربانی کی ضرورت ھوتی ھے ،اس کے لیے بے غرضی کی ضرورت ھوتی ھے۔اس لیے ھم تو کھیں گے کہ ھر محبت بھی اچھی نھیں ھوتی نرگسیت ایک ایسی قسم محبت ھے جو بالکل اچھی نھیں ھوتی ۔اب شاید میں یقین سے کھہ سکتی ھوں کہ
"میں نے محبت نھیں دیکھی”
"میں نے نرگسیت تو دیکھی ھے”
Written By :
Fareeha Farooq. 
Advertisements

Time dilation

میرے اندر ایک بھت ھی عجیب Time dilation ھےمیرے اندر کا وقت اتنی تیزی سے نھیں گزرتا جتنی تیزی سے وقت باھر کی دنیا میں گزرتا ھے ۔باھر کی دنیا میں وقت کی تیزی میرے اندر کی دنیا کی سست رفتاری سے بالکل مختلف ھے۔میں ان لوگوں میں سے نھیں جو وقت کے ساتھ چلتے ھیں بلکہ میں تو پیچھے رہ جاتی ھوں اور وقت، باھر کا وقت چھلانگیں لگاتا خرگوش بن کر دوڑتا جاتا ھے مجھے ھمیشہ سے محسوس ھوتا ھے کہ ٹایم دو طرح کے ھوتے ھیں ایک ٹایم وہ ھوتا ھے جو آپ کی بیرونی دنیا میں چلتا ھے اور دوسرا وہ جو آپ کی اندرونی دنیا کا ھوتا ھے۔بعض لوگوں کے اس اندرونی اور بیرونی ٹایم میں بھت Synchronization ھوتا ھے جس رفتار سے وقت اندر گزرتا ھے اسی رفتار سے باھر گزرتا ھے مگر میرے اندر کی دنیا میں وقت کی زبردست dilation ھے۔
اب دیکھیے جیسے پاکستان میں ھر روز بھت سے بم دھماکے ھوتے ھیں ،ھماری باھر کی دنیا میں یہ دھماکے ھوتے رھتے ھیں لوگ ان کا سوگ مناتے ھیں بھول جاتے ھیں پھر اگلے دھماکے کا سوگ منانے لگ جاتے ھیں مگ میرا وقت آگے نھیں بڑھتا میں ابھی بھی اس پھلے دھماکے کا سوگ منا رھی ھوں جو اس دن ١٢ربیع لاول کو کراچی میں ایک میلاد میں بم دھماکہ ھوا تھا میں ابھی تک اس چھوٹے حافظ قرآن بچے کا سوگ منارھی ھوں جو اس دھماکے میں شھید ھوا تھا، اسکا بستہ اس کی کتابیں اس کے کھلونے ،میں تو ابھی تک یھی سوگ نھیں مکمل کرپائی۔لوگ روز روز نیے نیے دھماکوں کی باتیں کرتے ھیں ان کے سوگ مناتے ھیں مگر میں کھتی ھوں رکو! ابھی میرا پھلا سوگ ختم نھیں ھوا ابھی مجھے اس زخم پر مرھم رکھنے دو پھر اگلا زخم لگانا،مگر باھر کا وقت رکتا ھی نھیں یہ آگے آگے دوڑتا رھتا ھے اور پھر میرے اندر کا ٹایم وھیں کھڑا رہ جاتا ھے۔

باھر کی دنیا میں حکومتیں بھت تیزی سے بدلتی رھتی ھیں لوگ اقتدار سنبھالتے اور چھوڑتے رھتے ھیں مگر مجھے اس تیزی کی بھی سمجھ نھیں آتی،جامعہ حفضہ کا جو معاملہ ھوا اس سے میری روح کانپ گیئ مجھے اس حکمران سے جس نے یہ سب تماشہ رچایابھت شدید غصہ آیا افسوس ھوا،مایوسی ھوئی مگر ابھی میں یہ غم وغصہ ھی سمجھ نھیں پائی تھی کہ باھر کی دنیا میں اتنا کچھ بدل گیا اب لوگوں نے موجودہ حکومت کی نااھلیوں،پالیسیوں،مھنگائی کے رونے اور کرپشن پر حکومت کی برایئاں شروع کردی ھیں میں پھر کھتی رہ گیئ رکو! مجھے تو ابھی جامعہ حفضہ کی ناانصافی ھی نھیں بھولی، وہ داستان ھی سمجھ میں نھیں آئی اس پرانی حکومت کا ھی احتساب نھیں ھوسکا میں آگے نھیں بڑھوں گی مگر کسی نے نھیں سنی میں پھر پیچھے رہ گیئ ھوں اور سب آگے اور آگے نکل گیا ھے مجھے آمر کی حکومت کی ھی برایئاں سمجھ میں نھیں آئی کہ بیرونی وقت جمھوریت کی سیج بھی کراس کرگیا۔مگر میرے اندر کی Time dilation کے باعث میں کبھی بھی موجودہ حالات کا اندازہ ھی نھیں لگا پائی۔
 
پاکستان میں سیلاب آگیا ایک نئی زندگی کی جنگ شروع ھوگیئ،لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ پناہ لینی پڑی اس میں سے میرا ایک بھائی جو اپنے خاندان کے ساتھ کویٹہ پناہ لینے آیا تھا اس نے اپنے علاقے سے کویٹہ آنے کیلیے آمدورفت پر ھی اپنی ساری زندگی کی پونجی جو نوے ھزار تھی وہ خرچ کردی تھی،اور پھر اس نے جب پوچھا تھا کہ کیا سیلاب آنے سے کرائے اتنے بڑھ جاتے ھیں ؟ اپنے ھی ملک میں کچھ میلوں کا سفر طے کرنے کیلیے کیا زندگی بھر کی کمائی دینی پڑتی ھے؟یہ کون لوگ تھے جنھوں نے ایک خاندان سے ھزاروں روپے صرف امدادی کیمپ تک پھنچانے کے لیے لیے؟
 
ان کے ساتھ یہ سب کیوں ھوا آخر ان کے آنسوؤں کا کیا مطلب ھے،ان کے نقصان کی تلافی کیسے ھوگی میں ابھی انھی سب سوالوں میں اٹکی ھوئی ھوں جبکہ باھر کی دنیا میں بھت کچھ بدل گیا،بےتھاشا گھروں ،زمینوں ،سڑکوں کا نقصان ھوا ھمارا ناجانے کیا کیا اُ جڑ گیا اور میں آگے ھی نھیں بڑھ پائی،ابھی یہ سب میں کیسے سمجھ سکتی ھوں مجھے تو یہ ھی نھیں معلوم ھوسکا کہ ایسی کون سی حفاظت تھی جو ایک خاندان کو دینے لیے اتنا زیادہ معاوضہ ھتھیایا گیا ، میں تو ابھی اپنے ایک ھی خاندان کا سوگ نھیں منا پائی، ابھی میرا ایک دکھ ھی ختم نھیں ھوا لوگوں نے ناجانے ان ھزاروں خاندانوں کے دکھ کیسے برداشت کئے ھیں ،ان کے سکون کیسے تلاش کیے ھیں میں تو ابھی آگے ھی نھیں بڑھی میرا ٹایم تو ابھی بھت آھستہ گزرتا ھے۔
باھر کی دنیا کا وقت چھلانگیں لگاتا پھر بھت آگے آگیا مگر میرے اندر کا سست رفتار وقت ابھی بھت آھستہ گزرھا ھے ،میرے اندر ابھی پرانے غموں سے آگے بڑھنے کی ھمت نھیں ھے،یہ میری عجیب نامناسب فطرت ھے مگرمیں اس قابل نھیں ھوںکہ اپنی اندر کی دنیا کے ٹایم کو جلدی دھکا مار لوں ۔ باھر کی دنیا میں کھانی اپنے انجام کو پھنچ جاتی ھے مگر میرے اندر کی دنیا میں وقت کی اتنی فراغت ھےکہ میں کھانی کی پھلی لاین ھی اتنی دیر میں پڑھتی ھوں جتنی دیر میں باھر کی دنیا پوری کھانی ھی ختم کرلیتی ھے ۔۔۔









تمام یکطرفہ محبت کرنے والوں کے نام۔۔۔………..یکطرفہ محبت کیا ھوتی ھے؟


کبھی پتھر سے محبت کی ھے کبھی پتھر کی پوجا کی ھے کبھی پتھر پر اعتقاد کیا ھے
مگر پتھر سے محبت کرنے سے کیا فرق پڑتا ھے ؟پتھر پر تو کبھی کوئی اثر نھیں ھوتا ۔
مگر وہ انسان جو پتھر سے محبت کرتا ھے اس پر ضرور پڑتا ھے میرے اکثر دوست مجھ سے پوچھتے ھیں کہ یکطرفہ محبت کیا ھوتی ھے ؟ میں کھتی ھوں یہ پتھر سے محبت ھوتی ھے جو لوگ انسان سے نھیں پتھر سے محبت کرتے ھیں وھی یکطرفہ محبت کرتے ھیں۔پھر وہ پوچھتے ھیں کہ کیا یکطرفہ محبت کا کوئی فایدہ ھوتا ھے ؟
تو میں کھتی ھوں کہ پتھر کو تو شاید کوئی فایدہ نھیں ھوتا مگر محبت کرنے والے کو ضرور ھوتا ھوگا۔تو وہ پھر پوچھتے ھیں کہ کیا ایسے فایدے کا کوئی فائدہ ھوتا ھے؟
میں کھتی ھوں ھاں نھیں ھوتا مگر استعمال ضرور ھوتا ھے ۔آپ اس پتھر کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرلیتے ھو۔آپ سمجھتے ھو کہ شاید پتھر نے مجھے استعمال کیا ھے مگر درحقیقت آپ پتھر کو استعمال کر رھے ھوتے ھو بیچارا پتھر تو بغیر جانے بوجھے کے وہ کس کی ،کسطرح مدد کررھا ھے ،مدد کرتا اور استعمال ھوتا ھے ۔
دوست پوچھتے ھیں کہ کیا یکطرفہ محبت میں توقعات باندھنی چاھیے ؟
تو میں جواب دیتی ھوں نھیں پتھر سے آپ کوئی توقع نھیں کرسکتے وہ تو بیچارہ پتھر ھے وہ کیا کرسکتا ھے آپ کے لیے نہ تو وہ بول سکتا ھے اور نہ عمل کرسکتا ھے تو پھر ھماری توقعات کھاں پوری کرسکتا ھے۔
ھاں مگر تم جو یکطرفہ محبت کرتے ھو تم پتھر نھیں ھوتے تم تو چل پھر سکتے ھو بول سکتے ھو بشر ھو تم اپنی توقعات پوری کرسکتے ھو۔
دوست پوچھتے ھیں اس کا کیا مطلب ھوا میں اپنی توقعات پوری کرسکتا ھوں ؟
میں جواب دیتی ھوں ،دیکھو یکطرفہ محبت میں محبت اپنے آپ سے تو نھیں کی جاتی مگر توقعات اپنے آپ سے ھی لگائی جاتی ھیں یکطرفہ محبت کا اصول ھے کہ آپ پتھر سے نھیں اپنے آپ سے توقعات جوڑو۔ یہ محبت پتھر کا نھیں آپ کا امتحان ھوتی ھے تمھیں خود امتحان بنانا خود اس کو سمجھنا اور خود اس امتحان کو نبھانا ھوتا ھے۔
دوست کھتے ھیں کہ یہ کتنی عجیب بات ھیں کہ محبت تو کسی اور سے کروں اور توقعات خود سے.
میں پھر کھتی ھوں بس دوست یہ ایسی ھی عجیب پٹری ھے ۔پتھر کی محبت آسان نھیں ھوتی یہ سب محبتوں میں سب سے کٹھن اور تپسیا سے بھرپور محبت ھے اس میں بظاھر تو کچھ حاصل نھیں ھوتا مگر احساس محرومی ختم ھوجاتا ھے ۔
دوست کھتے ھیں کیسا احساس محرومی ؟
میں جواب دیتی ھوں
یھی کہ ھم نے کبھی محبت نھیں کی، کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے یکطرفہ کیوں نہ ھو۔چاھے توقع اپنی زات سے ھی کیوں نہ جڑی ھو ، چاھے ھر امتحان ھر ارادہ اکیلا آپ کا ھی کیوں نہ ھو،مگر پھر بھی محبت محبت ھوتی ھے چاھے یکطرفہ ھو چاھے پتھر سے ھو۔
تمام یکطرفہ محبت کرنے والوں کے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Written by:
Fareeha Farooq. 

کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا


کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا کچھ ناموں کو صرف نام ھی رھنا چاھیے۔ان کا وجود کبھی حقیقت نھیں بننا چاھیے کیونکہ نام اور حقیقت دونوں ایک نھیں ھوتے۔کردار کیا ھوتا ھے کیا نام اور کردار ایک ھی حقیقت کو عیاں کرتے ھیں ؟ وجود اور نام کا آپس میں کیا تعلق ھوتا ھے؟
وہ نام جن کا وجود نھیں ھوتا ھونا بھی نھیں چاھیےنام کے بھت سھارے ھوتے ھیںمگر وجود کے سھارے نھیں ملتے۔اگر ان ناموں کا وجود سامنے آجائے تو نام کا یقین حقیقت سے دور اور وجود حقیقت کے پاس آجاتاھے مگر نام حقیقت نھیں وجود حقیقت ھوتا ھے۔نام سب سے بڑی حقیقت کی ضد ھوتی ھے۔ دنیا ناموں کے سھارے کبھی نھیں سمجھتی ۔وجود کے دھوکے تو سمجھ لیتی ھے مگر ناموں کے اعتقاد کو نھیں جان پاتی۔
اس لیے کچھ ناموں کے وجود نھیں ھوتے مگر خوفناک حقیقت اس وقت منظر عام پر آتی ھے جب وہ نام جن کا وجود نھیں ھوتا کسی وجود کا نام بن جاتے ھیں ۔وجود نام کا بوجھ اُٹھائے ھوئے سامنے آجاتا ھے مگر نام ؟ ھمارے ناموں کا تو وجود نھیں ھوتا ھونا بھی نھیں چاھیے ھم برداشت نھیں کرسکتے اس وجود کو،ھمیں تو صرف نام کی ضرورت ھوتی ھے۔
اسی طرح کچھ مذاھب کا خدا نھیں ھوتا ۔یہ مذاھب تو بھت اچھے ھوتے ھیں ان کی عبادت میں بھت سرور ھوتا ھے مگر ان مذاھب میں خدا نھیں ھوتا اور اگر خدا آجائے تو؟ نھیں کچھ مذھب بغیر خدا کے ھی قایم رھتے ھیں ۔ان میں خدا کی ضرورت نھیں ھوتی اس میں کوئے سزا جزا نھیں ھوتی۔یہ مذھب آزادی کا پیکر ھوتا ھے اس میں ھر پنچھی آزاد ھوتا ھے،مذھب کی قید موجود ھوتی ھے مگر خدا کی بندش نھیں ھوتی اور اگر ان مذاھب کا خدا پیدا ھوجائے ؟پھر ؟اگر ان مزاھب کا خدا آجائے پھر؟ پھر؟ ھم کیا کر یں گے ھمیں تو صرف مذاھب کی ضرورت تھی خدا کی نھیں ۔ان مذاھب میں خدا نھیں آنا چاھیے اگر خدا کا ساتھ مل گیا تو ھم کیا کریں گے،کیونکہ کچھ مذاھب کے خدا نھیں ھوتے ۔سچ میں بالکل نھیں ھوتے اور اگر کھیں سے وجود میں آجائے تو ؟ نھیں
کچھ مذاھب کے خدا نھیں ھوتے،
کچھ ناموں کا وجود نھیں ھوتا،
(نامکل)

Writter: fareeha farooq. 

میں نے محبت نھیں دیکھی

میں نے پھولوں کو دیکھا ھےمیں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے سورج کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے بادل کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے شبنم کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی
میں نے قسمت کو دیکھا ھے میں نے محبت نھیں دیکھی

 
یہ شکوہ ھے مجھے اپنے اردگرد کے ماحول سے جھاں سب کچھ تو نطر آتا ھے مگر محبت نطر نھیں آتی ھے. محبت کو دیکھنے کی سچی حیرت میرے دل میں موجود تھی. وہ محبت جو وارث شاہ نے دیکھی تھی ،ھیر رانجھے میں ۔ وارث شاہ پر بھت حیرت ھوتی ھے مجھے آخر ان کے پاس ایسی کونسی نطر تھی جس سے انھیں دونوں کی محبت نطر آ گیئ میری آنکھ سے تو ایسی کوئی چیز نطر نھیں آتی۔
میرے اردگرد بھت سے لوگ ھیں چیزیں ھیں قدرت ھے مگر محبت کا فقدان ھے۔میں نے بھت سے لوگوں کو محبت کا دٰءویٰ تو کرتے دیکھا ھے مگر محبت کو نھیں دیکھا۔
لوگوں کویہ کھتے سنا ھے کہ مجھے اس کھانے سے محبت ھے اس رنگ سے محبت ھے اس انسان سے محبت ھے اس کپڑے سے محبت ھے مگر میں نے پھر بھی کبھی محبت نھیں دیکھی۔
 فلموں میں ،گانوں میں کھانیوں میں تو محبت نطر آھی جاتی ھے مگر زندگی میں محبت نطر نھیں آئی اب مجھے یقین ھوگیا ھے محبت نھیں ھوتی اگر ھوتی تو نطر آجا تی ۔ضرورت ھی سب سے بڑی چیز ھےبئض دفئہ لوگ ضرورت کو محبت بنا لیتے ھیں اور بئض محبت کو ضرورت ۔مگر نطریہ ضرورت پھر بھی حاوی رھتا ھے۔ محبت چاھے ملک سے ھو یا مزھب سے میں نے محبت کبھی نھیں دیکھی ۔میرے اردگرد ایسے ھی لوگ بستے ھیں جنھوں نے میری طرح محبت نھیں دیکھی اگر دیکھی ھوتی تو شاید اس پر ءمل کر لیتے .میں نے محبت نھیں دیکھی وارث شاہ نے ھی دیکھی تھی میں نے تو نھیں جانا بلھےشاہ کو ھی پتہ ھوگا.اس نے تو شیخ ءنا یت سے کی تھی. اس لیےً وہ جانتا ھوگا میں تو یھی سوچتی ھوں محبت کیسی ھوتی ھوگی. کیا یہ پھولوں جیسی ھوتی ھوگی جس میں رنگ اور خشبو کے سا تھ کا نٹے بھی ھوتے ھیں ۔کیا یہ سورج جیسی ھوتی ھوگی جو چمکتی ھے تو اس کی چمک سے کوئی بچ نھیں سکتا.
 جو ھر مردہ چیز میں بھی اپنی توانائی پھونک دیتی ھے ۔کیا محبت بادلوں جیسی ھوتی ھے جو دور سے بھت ھی خوبصورت اور پرکشش ھوتے ھیں جن کو پاس جا کر چھونے کا دل کرتا ھے .مگر پاس جا کر بھی انھیں آپ چھو نھیں سکتے , محسوس کرسکتے ھیں. کیا محبت شبنم جیسی ھوتی ھوگی جو ایک دم سے خود بخود وجود میں آجاتی ھے اور خود بخود غائب بھی ھوجاتی ھے.جو خوبصورتی کی ءلا مت تو ھوتی ھے مگر حقیقت میں بھت سادہ سا پانی کا قطرہ ھوتی ھے
اور یہ
شبنم  بن کر پھول کو چار چاند لگا دیتی ھے۔ مجھے نھیں پتا محبت کیسی ھوتی ھوگی شاید یہ شبنم جیسی ھوتی ھوگی
میں نے کبھی نھیں دیکھی محبت ۔ محبت کیسی ھوتی ھوگی شاید قسمت جیسی ھوتی ھوگی میں نے محبت تو نھیں دیکھی مگر میں نے قسمت کو دیکھا ھے قسمت بدلتی نھیں ھے جو بدل جائے وہ قسمت نھیں ھوتی محبت بھی شاید ایسی ھی ھوتی ھوگی یہ بھی قسمت جیسی ھوتی ھوگی, محبت بھی بدلتی نھیں ھوگی یہ بھی اٹل ھوتی ھوگی, ھوسکتا ھے۔ میں یقین سے نھیں کھہ سکتی کیونکہ میں نے کبھی محبت نھیں دیکھی ۔ھاں مگر میں نے ماں کو دیکھا ھے اس کی جبلت کو دیکھا ھے کیا محبت ماں جیسی ھوتی ھے.
کیا ماں کی جبلت جیسی ھوتی ھے محبت ۔ کیا ماں جیسی ھوتی ھے محبت۔ پتا نھیں میں نے تو محبت نھیں دیکھی مگر میں نے ماں کو دیکھا ھے.میں نے پھولوں کو دیکھا ھے. میں نے سورج کو دیکھا ھے .میں نے بادل کو دیکھا ھے. میں نے شبنم کو دیکھا ھے. میں نے قسمت کو دیکھا ھے ۔ میں نے محبت تو نھیں دیکھی مگر ان سب کو دیکھا ھے. جسے آج تک نھیں دیکھا اسی کو سب میں دیکھا ھے۔ اسی کو سب میں ڈھونڈاھے۔ مگر میں نے محبت نھیں دیکھی میں نے سچ میں کبھی محبت نھیں دیکھی ۔
فریحہ فاروق کے نام

ٹیگ بادل