ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for the ‘کبھی ھم بھی شاعری کرتے تھے’ Category

میں کچھ کھونے سے نھیں ڈرتا ———میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں

اندھیری چاندنی راتوںمیں
میری آنکھوں کے تاروں میں
جو میں نے رات کاٹی ھے
جو میری شب کی اُداسی ھے

وہ میرے ساتھ رھتی ھے
میں نے عمر بھر جو پالی ھے
وہ گھری اک اداسی ھے
وہ میری جان کی ھی پیاسی ھے


میں ان چاندنی راتوں میں
تارے گننے سے نھیں ڈرتا
میں اس شب کی اُداسی میں
تنھا راتیں کاٹنے سے تو نھیں ڈرتا

میں تنھا ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں

سنھرے دن کے اُجالوں میں
میرے خوابوں خیالوں میں
وہ اک تصویر ٹانگی ھے
جو حد سے زیادہ ھی پیاری ھے

کہ میرے خوابوں میں جو رھتی ھے
جو مجھ سے ھر روز کھتی ھے
کہ جو میرے دل کی ڈالی ھے
یہ کیوں ھر پل مرجھائی سی رھتی ھے

میں اس کے کھلنے سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ بھی ھونے سے نھیں ڈرتا
میںتجھے کھونے سے ڈرتا ھوں



یہ جو دنیا کی بھیڑوں میں
ان لوگوں کی قطاروں میں
جو میں نے وقت کاٹاھے
وہ سب بس اک سناٹا ھے
یہ اک خاموش سناٹا 
جو بھت شور کرتا ھے
جو میرے ساتھ رہ کر بھی 
مجھ سے پھلے گزرتا ھے
میرے اس خاموش جیون میں
جو لفظوں سے ھی خالی ھے
اس بے داغ سے من میں
جو پھیلی اک سیاھی ھے

میں ان خاموش سناٹوں میں
شور کرنے سے نھیں ڈرتا
میں اس بےداغ سے من کو 

سیاہ کرنے سے نھیں ڈرتا

 میں اس بھیڑ میں تنھا 
اکیلے چلنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے اداس ماضی میں
میرے بےحال حالوں میں
جو دھندلی مستقبل کی تصویریں ھیں
جو آدھی ٹیڑھی سی لکیریں ھیں
میرے اداس ماضی میں
جو میں نے جھوٹ بولے ھیں
میرے بےحال ‘حال میں
جو میں نے سچ سنایئں ھیں
میں ان ماضی کے کھلونوں سے
اک جھوٹا تماشا روز کھیلنے سے نھیں ڈرتا
میں اپنے حال کے کُھرے میں
تیری روشنی کرنے سے نھیں ڈرتا
میں سچ سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
یہ جو میری جان جاتی ھے
یوں جب تیری یاد آتی ھے
میری آنکھوں کی جھیلوں میں
جو یہ نمکین پانی ھے
میں یوں رونے سے تو نھیں ڈرتا
میں تجھے یاد کرنے سے نھیں ڈرتا
میں ایسے جینے سے نھیں ڈرتا
میں روز مرنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
میں جس کو پا نھیں سکتا
جو میرا ھو نھیں سکتا
میں اس کا ھونے سے تو نھیں ڈرتا
میں اسے کھونے سے ڈرتا ھوں

وہ جسے پایا نھیں میں نے
میں اسی کو کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے پاس بھی نھیں ھے
جو میرا ھی نھیں ھے

 

میں اسے پانے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ کھونے سے نھیں ڈرتا
 میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
فریحہ فاروق
Advertisements

کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے

                          کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
زندگی کی سولی پر چڑھنے سے پھلے
جذباتوں کی گنگا میں بھنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
جوانی کی سیڑھی پر پر چڑھنے سے پھلے
بڑھاپے میں منہ کے بل گرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے ھنستے تھے
محبت کی راھوں میں رُلنے سے پھلے
خوابوں کی گلیوں میں گھُلنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے لگتے تھے
مجبوریوں کی چکی میں پسنے سے پھلے
زمہ داریوں کے بوجھ میں پھنسنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے کھلتے تھے
گناھوں کے بھنور میں اُلجھنے سے پھلے
نیکیوں کے سمندر میں اُبھرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے لگتے تھے
غلطیوں کے بوجھ تلے دھنسنے سے پھلے
روز روز زندگی میں مرنے سے پھلے
کبھی سوچا ھے تم نے ھم کیسے دیکھتے تھے
دیکھا ھے ھم ایسے دیکھتے تھے
سوچا ھے ھم ایسے لگتے تھے
جانا ھے ھم ایسے ھنستے تھے

Written by: Fareeha Farooq 

A poem dedicated to Amrita pritam

Amrita Pritam need no introduction she is one of the finest writer of our southasian region but the real life story of her is so delicate as a flower .she was so innocent and a loving lady that no one can understand her if one doesn’t have a sensitive heart.In her middle ages she was in love with a young man Inderjeet Singh ,people couldn’t understand that mismatch,a long stretch of age and a distance between them was a big hurdle for Amrita to cover up. she was living near Dehli and Inderjeet who was also named as "Imroz” was struggling in Mumbai to become an Actor. the age difference and the distance of places both were increasing day by day but poor Amrita was flourishing in the love of  Inderjeet.If you people, wish to know more about their story than please read the book "محبت نامے ” by Amrita Pritam.here I am presenting a poem which I wrote after reading that book and its dedicated to Amrita Pritam ,hope it will depict her true anddivine feelings here.
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
سارا جگ جوگی دے جوگا اے
جوگی بس میرے جوگا اے
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
اوہ جوگی جگ وچ وسدا اے     
پر جگ ساڈے تے ھسدا اے
اے کیھوں جیی جوگن اے
جیھڑی اک جوگی دے جوگی اے
سارا جگ جوگی دے جوگا اے
پر جوگی بس  جوگن دے جوگا اے
جوگی میں ءلم بھلایا اے
جوگی  میں ءشق گنوایا اے
جوگی میں تینوں پایا وے
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
سارا جگ جوگی دے جوگا اے
جوگی بس میرے جوگا اے
میری کلایئاں جوگی دے جوگی اے
میری مانگ جوگی دے جوگی اے
میرا حسن جوگی دے جوگا اے
میرا رو رو جوگی دے جوگا اے
ایھہ ھور کسی دےجوگا نیں
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
جوگی ایھہ سنجو گ دا لیکھا اے
جوگی تو ھتھ دی ریکھا اے
پر جوگی جگ نے ھنسنا اے
اساں نال کیویں وسناں اے
جوگی اے جگ نا سمجھ پاوے گا
کہ میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
جوگی ءمراں دا لنگناں اے
اساں رک کے کیتھے رکھنا اے
پر ایھہ سنجوگ دا لیکھا اے
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
جوگن میں تیرے جوگا آں
میں ھور کسے دے جوگا نیں
سارا جگ میرے جوگا اے
پر میں بس تیرے جوگا آں
جگ نوں میں چپ کراں دا گا
سب نوں میں بھول بھولا داں گا
میں تینوں بھول نہ پاواں گا
میں بس تیرے ای جوگا آں
میں ھور کسے دے جوگا نیں
میں اک جوگی دے جوگی آں
میں ھور کسے دے جوگی نیں
سارا جگ جوگی دے جوگا اے
جوگی بس میرے جوگا اے

میں اک جوگی دے جوگی آں

ٹیگ بادل