ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

Archive for the ‘ھم اور معاشرہ’ Category

وہ کربلا کی رات تھی

 13 اگست 2011 رات کے 12 بجے کے بعد 14 اگست شروع ھوگئی تھی پورے شھر کے لوگ سڑکوں پر آذادی کے جشن کا مجمع لگائے بیٹھے تھے. مال روڈ پر, اسمبلی ھال تک لوگوں کی نہ ختم ھونے والی بھیڑ تھی ،کچھ آزادی کا جشن منانے اور کچھ صرف انجوائے کرنے کی غرض سے سڑکوں پہ نکلے ھوئے تھے 14 اگست شروع ھوگیا تھا اور 14 رمضان بھی تھا روزے رکھے جارھے تھے ۔ لکشمی چوک جو لاھور کا ایک بھت مشھور کھانوں کا مرکز سمجھا جاتا ھے ،وھاں سڑک کے کنارے  فٹ پاتھ پر رات کو بھت مشھور کشمیری دال چاول بکتے ھیں لوگ بھت دور دور سے یھاں دال چاول کھانے آتے ھیں کیونکہ لاھور میں بھت کم ایسی جگھیں ھیں جھاں دال چاول کوئی سوغات سمجھ کر کھائی یا بیچی جاتی ھوں

Lakshami chowk


فٹ پاتھ پر کرسیوں اور میزوں کی قطار لگی ھوتی ھے لوگ رات گئے تک اپنی کاروں سایکلوں موٹر سایئکلوں پر یھاں آتے رھتے ھیں اس کے سامنے پوری سڑک پ
ر بھت سے ھوٹل ھیں جھاں ٹکہ ٹک، چانپیں ،توا قیمہ ،گوشت کڑاھی ، گردے کپورے ، سیخ کباب ، تکے اور اس طرح کے بھت سے کھانوں کی نہ ختم ھونے والی لسٹ ,کے کھانے بکتے ھیں ھوٹل کے نام لینا اب ضروری نھیں ھیں کیونکہ ان کی پبلیسٹی نھیں کرنی ۔اب پورے منظر میں ،میں کھاں ھوں ؟

میں ایک سولہ سالہ لڑکا ھوں ،سڑکوں پر پڑے کوڑا کرکٹ سے کاغذ اُٹھا کر اپنی بوری میں ڈال لینے والا ،آج میں بھت بھوکا تھا صبح سے کچھ بھی کھا نے کو نہ ملا تھا بھوک سے حالت بُری تھی ۔آج سڑکوں پر رش بھت زیادہ تھا کیونکہ میرے ملک کے آزاد ھونے کا جشن ازادی  منایا جارھا تھا اور رمضان کی وجہ سے سحری تک دوکانیں بھی سجی رھنی تھیں میں بھوک سے نڈھال تھا اور ایک تنگ تاریک گلی سے نکلا اور اس سڑک پر آگیا جھاں کشمیری دال چاول بیچنے والے کی کرسیاں  لگی ھوتی ھیں۔ کچھ بھلے لوگ بیٹھے دال چاول کھا رھے تھے ، یہ ضرور میری مدد کریں گے اس سے پھلے بھی کچھ لوگوں سے کھانا مانگ چکا تھا مگر کسی نے مدد نہ کی تھی ، یہ مگر اچھے لوگ لگ رھے تھے ایک لڑکی تھی اپنے والد  کے ساتھ اور بچے بھی تھے سب رشتہ دار ھوں گے. میں صاحب کے پاس گیا بولا ” سر صبح سے بھوکا ھوں ایک پلیٹ چاول خرید دیں ” لڑکی نے میری طرف درد بھری نظروں سے دیکھا ، صاحب نے انکار کردیا لفظوں کا استعمال تو نھیں کیا مگر ھاتھ سے اشارہ کردیا کہ جاؤ ۔ لڑکی نے اپنے ھاتھ دیکھے کوئی بٹوا ساتھ نہ لائی تھی ،چاھتی تھی کہ اپنے والد سے اصرار کرے کہ لڑکے کو پیسے دیں دے ,بھوکا ھے سچ میں ، میں نے آواز سے اندازہ لگا لیا ھے ۔  مگر بیچاری لڑکی گونگی تھی بول نھیں سکتی تھی میرا دکھ سمجھ گئی اور خاموش مجھے دیکھنے لگی ۔

میں نے سوچا خیر ھے یہ نھیں تو کوئی اور سھی میں نے سامنے دیکھا سفید رنگ کی کار کھڑی تھی میرے بالکل پاس کوئی لاکھوں کی کار ھوگی کار میں فرنٹ سیٹ پر ایک آدمی اور ساتھ اسکی بیوی بیٹھی تھی پچھلی سیٹ پر ایک دس سال کی بچی جو یقینی طور پر انکی بیٹی معلوم ھوتی تھی ، اچھے کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ تھے ۔ میں انھیں دیکھنے لگا کہ سامنے سے ویٹر انکی ٹرے لے آیا انھوں نے ٹرے تھامی سب نے اپنی پلیٹوں سے چمچ نکال کرٹرے میں رکھ دئیے یہ کیا تھا میں نے سوچا پھر عورت نے کار کے ایک خانے میں سے پلاسٹک کے چمچ نکالے اور اور اس چمچ سے وہ کھانے لگے ۔ اچھا! اب میں سمجھ گیا کہ یہ بھت سمجھدار لوگ ھیں انھیں معلوم ھے کہ باھر کے چمچ سے نھیں کھانا چاھیے جراثیم ھوتے ھیں ،اپنی صحت کی حفاظت کرنی چاھیے صفائی کا خیال رکھنا چاھیے یہ اتنے سمجھدار ھیں تو میری مجبوری بھی سمجھیں گے. میں ان کے پاس بڑھنے لگا کہ کھانے کو کچھ مانگوں اُنھوں نے جیسے ھی مجھے اپنی طرف آتے دیکھا اچانک سے اپنی گا
ڑی کے شیشے اوپر چڑھا لئے اور میں اپنی کوڑا چُننے والی بوری اُٹھائے حیرت سے اُنھیں دیکھنے لگا .سامنے بیٹھی گونگی لڑکی بھی مجھے دیکھ رھی تھی ۔میں نے آھستہ آھستہ پیچھے قدم اُٹھائے لڑکی ابھی بھی مجھے دیکھ رھی تھی. آگے بیٹھے ھوئے کسی بھی انسان کے منہ لگنے کی ھمت نہ رھی تھی اب ، دو انکار اور ان کار والوں نے تو سُنا تک نھیں کہ میں کھنا کیا چاھتا ھوں ۔
میں بھت دکھی ھو گیا بھوک بھی ایک دم سے بھول گیئ دماغ ، حس اور جسم کا آپس میں تعلق ھی ختم ھوگیا تھا. کیا ان سب کو کوئی فرق نھیں پڑتا کہ ایک انسان بھوکا ھے اور ان سے مدد مانگ رھا ھے ۔ یہ سمجھ رھے تھے کہ میں بھیک مانگ رھا ھوں مگر میں تو کوڑے سے کاغذ چُنتا ھوں میری بوری بھی میرے ساتھ ھے. میں تو محنت کرنے والا ھوں میں نے تو صرف کھانا مانگا تھا  پیسے تو نھیں مانگے تھے, انھوں نے سوچا ھوگا ایسی جگھوں پر ھر منٹ میں ایک فقیر مانگنے آجا تا ھے ان سب انسانوں کو سمجھ ھی نہ آسکی کہ میں بھوکا ھوں ان روزہ رکھنے والوں کو آزادی کا جشن منانے والوں کو کوئی غرض نھیں تھی میری مدد کرنے سے ۔
یہ کیسی بےبسی ھے ایک مجبور بھوکا انسان اور دوسرے اسکی بات بھی سنُنا گوارہ نھیں کرتے اپنے گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھا لیتے ھیں ۔ اس رات نے مجھے عجیب طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا .میں بھوکا تھا اور لگتا تھا کوئی بھی ایسا نھیں جو میری بات کا یقین کرے یا میری مدد کرے ۔ یہ لاھور تو نھیں تھا یہ تو کربلا تھا جھاں سب کے پاس کھانے کو کچھ نہ کچھ تھا مگر میرے لئے خوراک کا ایک زرہ بھی نہ تھا تمام یذیدیوں نے کھانے پر اپنی حکمرانی کر رکھی تھی کیا یہ چودہ اگست کا پاکستان تھا؟ کیا یہ اسلام کا سب سے مبارک مھینہ رمضان تھا؟ یہ تو صرف کربلا تھا جھاں ایک مجبور انسان تھا اور اسکی بھوک تھی ، کھیں کھانا نہ ملا تھا مجھ کو !

آج ٩ محرم الحرام ھے پورے لاھور میں جگہ جگہ مجالس ھورھی ھیں سبیلیں سجی ھیں ،لوگ پانی شربت دودھ بانٹ رھے ھیں حلیم اور بریانی کی دیگیں بانٹی جارھی ھیں آج تو یہ لاھور ھی ھے. آج یہ کربلا نھیں ھے. آج شھر میں سب کے پاس کھانے کو کچھ نہ کچھ ضرور ھے. نواں محرم ھے اور یہ کربلا نھیں ھے لاھور ھے میں بھوکا بھی نھیں ھوں ۔ میں تو بھوکا چودہ اگست ، چودہ رمضان کو تھا  اس دن آخر کیوں یہ شھر کربلا بن گیا تھا؟ اس دن کیوں شھر والے یزید لگتے تھےِ ؟ یہ میری بھوک اور مجبوری کو کیوں نھیں سمجھتے تھے؟ میں بھوکا تھا اور وہ کربلا کی رات تھی۔
( مصنف : فریحہ فاروق)

٩ محرم الحرام

ھم اور شھد کی مکھیاں

انسان اور شھد کی مکھیاں دونوں سماج بنا کر رھتے ھیں۔دونوں اس سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتے ھیں۔جب شھد کی مکھیاں کام کرتی ھیں تو وہ سب کارکن ،ورکر کھلاتی ھیں مگر جب انسان اپنے سماج کو قایم رکھنے کیلیے کام کرتا ھے تو کوئی َ نائی َ ََََقصائی ََ، حلوائیَ،دھوبی َ کمھارَ،تانگے والاَ، جمع دارَ، ریڑھی والا َ، ۔بن جاتا ھے ھم یہ کیوں نھیں کھتے ورکر ،کارکن صرف آخر ھم سب ایک ھی چھتے کے لیے ھی تو کام کر رھے ھیں ھم سب کارکن مکھیاں ھی تو ھیں کیا جانور ھم سے زیادہ مھذب ھیں۔ کارکن مکھیاں ایک کام نھیں کرتی کوئی چھتے کی صفائی کرتی ھے کوئی چھتے کو گرم رکھتا ھے کوئی شھد بناتے ھیں۔انسان بھی تو اسی چھتے کے لیے مختلف کام کرتا ھے تو آخر وہ کیوں صرف کارکن نھیں کھلاتا اُ سے صرف ورکر کا خطاب کیوں نھیں دیا جاتا۔

written by: Fareeha Farooq

اب مجھے کسی انقلاب کا نھیں , ایک "طوفان نوح" کا انتظار ھے

اب مجھے کسی انقلاب کا انتظار نھیں ھے اب مجھے صرف ایک طوفان نوح کا انتظار ھے .اب مجھے کوئی ایسا انقلاب نھیں چاھیے جو قلب کو بدل دے اب تو مجھے صرف اور صرف ایک طوفان کا انتظار ھے "طوفان نوح” کا ۔ یہ دنیا اس قابل رھی ھی نھیں کہ اسے بدلا جا سکے اس میں انقلاب لایا جائے یا اسے دوبارہ بنایا جائے یہ دنیا تو اب صرف تباھی اور بربادی کے قابل ھے ۔اب ایک ایسا طوفان نوح آئے گا جو اس دنیا کی ھر برائی اور ھر زیادتی کو برباد کردے گا ،یہ نظام اب کسی انقلاب کے قابل نھیں ھے یہ اب برباد ھی ھوجانا چاھیے.
الله تعالیٰ یہ جو دنیا ھے مجھے اچھی نھیں لگتی اسکی کی کوئی سیاسی بحث ،فکری مسئلہ ،مذھبی بندش،معاشرتی اصلاح ،معاشی فقدان اور اخلاقی گراوٹ مجھے پسند نھیں ھے  .مجھے ان سب میں کوئی دلچسپی ھی نھیں ھے مجھے تو بس اب ان سب کے فنا ھونے کا انتظار ھے اب تو بس ایک طوفان نوح آئے گا اور یہ سب کچھ تباہ ھوجائے گا سب برباد ھوجائے گا .یہ طوفان ناگزیر ھے اسے اب آنا ھی ھوگا دھرتی یہ بوجھ اور نھیں سھہ سکتی انسان اس جبر کو مزید برداشت نھیں کرسکتا ۔مجھے اب بس طوفان نوح کا انتظار ھے جب یہ سب ختم ھوجائے گا اور صرف ایک کشتی نوح باقی بچے گی ,جس پر تمام مومن سوار ھوں گے وہ کم تو بھت ھوں گے اور میں بھی ان میں شامل نھیں ھوں مگر صرف وہ مُٹھی بھر لوگ ھی اس کشتی میں سوار کئے جایئں گے۔
باقی تمام زر،تمام اسلحہ ،تمام عمارتیں ، اور تمام امارتیں اس طوفان کی نزر کردی جائے گی نہ کوئی ملک بچے گا نہ کوئی سرحد بچے گی نہ کوئی دشمن اور نہ کوئی دوست بچے گا ،نہ کوئی امیر بچے گا اور نہ ھی کوئی غریب بچے گا ،نہ ھی ماحولیاتی آلودگی رھے گی نہ ھی یہ معاشرے کے مسائل یہ سب میرے طوفان نوح میں بھہ جایئں گے ۔دعا کریں یہ بھت جلد ھی آجائے اب مجھ میں صبر باقی نھیں ھے ۔ کیا کشتی نوح تیار ھوگئی ھے ؟ بس اب اسی کی دیر ھے ،کوئی خدائی مدد آئے گی کوئی ایسا معجزہ ھوگا کہ ایک نوح کو کشتی بنانی آجائے گی اور پھر جیسے ھی یہ کشتی نوح مکمل ھوگی یہ طوفان آجائے گا یہ انجام دور نھیں ھے یہ سب اب بس ھونے ھی والا ھے ۔کچھ دن اور رکنا پڑے گا مگر مجھ میں یہ صبر نھیں ھے الٰھی یہ جلد از جلد ھوجائے ۔
ان سب انقلابیوں کی محنتیں رایئگاں ھی جایئں گی ان کا تمام فلاحی کام افسوس مٹی میں ھی ملنا ھے ۔کسی محبت اور نفرت کا کوئی مقدر نھیں ھے یہ غربت بڑھتی ھی جائے گی ان ناکامیوں نے ایسے ھی ترقی کرنی ھے  ۔غیر فھم اور غیر شعوری انسانی رویئے ایسے ھی پروان چڑھیں گے لالچ اور حوس کا بازار ایسے ھی گرم رھے گا  انسان کے اندر کا حیوان ایسے ھی اُچھل اُچھل کر باھر آتا رھے گا حتیٰ کہ وہ دن نہ آجائے جب میرا طوفان نوح آئے گا اور ان سب کو برباد کرجائے گا ،اتنا اتنا پانی ھوگا کہ یہ سب ڈوب جائیں گے ،یہ سوپر پاورز یہ جنگیں لڑنے والے ،یہ دھشت پھیلانے والے یہ معصوم مرنے والے یہ سب ظلم ڈھانے والے ،یہ سب ظلم سھنے والے یہ خؤد کو برباد کرنے والے اور خود کو سولی پر چڑھانے والے یہ سب فنا ھوجائے گے ۔اس طوفان کو آنے تو دو اس طوفان میں اب بس دیر ھی کتنی ھے۔۔۔

دنیا میں کوئی بڑا واقعہ ھوجائے  کتنی بھی سنسنی خیز خبریں آرھی ھوں کتنے ھی معاشرتی جرائم بڑھ رھے ھوں کتنی ھی نیئ ایجادیں ھورھی ھوں ترقی کی سیڑھیاں چڑھی جارھی ھوں ان سب چھوٹی یا بڑی باتوں سے مجھے کوئی فرق نھیں پڑتا کیونکہ میں ان سب کا مقدر جان گیئ ھوں اور وہ فنا ھے یہ سب اب تبدیل نھیں ھوگا یہ سب تو اب فنا ھوگا ۔ تنوع یا diversity اب اس عروج پر پھنچ گئی ھے جھاں یہ بدصورتی کی انتھا پر پھنچ گئی ھے اب اس diversity کو ایک چیز چاھیے اور وہ ھے "تباھی” اب اس نے تباہ ھونا ھے،یہ سب تو آخری لمحے کے ڈھونگ اس سب کو بچانے کے میں تو اس منزل پر پھنچ گیئ ھوں جھاں میں نے اس سیارے "زمین” کو چھوڑنے کا ارادہ مصمم کرلیا ھے.اب بس یہ دنیا چھو ٹنے والی ھے یہ ختم ھونے والی ھے ۔کشتی نوح کون لوگ بنا رھے ھیں, وہ کون ھیں جو اس پر سوار ھوں گے, وہ کون ھے جو طوفان نوح تھمنے کے بعد اس نیئ جنم لی ھوئی دھرتی پر پاؤں رکھے گے .میں یہ سب نھیں جانتی مگر کوئی جانے یا نہ جانے ،مانے یا نہ مانے, دیکھیے یہ سب ھونے تو والا ھے ۔مجھے یقین ھوگیا ھے کہ الله تعالیٰ نے ارادہ کرلیا ھے. انسانی پھیلائی ھوئی تمام گندگی کو دھونے کا الله تعالیٰ نے اب اتنا پانی برسانا ھے کہ ان سب کو دھو دینا ھے اپنی دھرتی کو غُسل دینا ھے اس زمین کو پاک کرنا ھے. اب یہ اور آلایش برداشت نھیں کرسکتی لوگ اسے گرین ھاؤس ایفیکٹ کا نام دیں گے کھیں گے کہ دیکھو گلیشرز پگھل رھے ھیں مگر میں نے اسے طوفان نوح کا نام دیا ھے ۔ یہ نااُمیدی کی انتھا نھیں ھے یہ مایوسی کی بات نھیں ھے یھی تو اصل انقلاب ھے ,یہ فنا یہ بربادی یہ طوفان نوح ھی اصل انقلاب ھے اس کے بعد ھی خوشی کی اصل خوشبو آئے گی اصل خوشی اس خواھش کے پورا ھونے سے ھوگی مجھے ۔الله تعالیٰ میری کوئی خواھش پوری نھ ھومگر یہ ایک خواھش پوری ھوجائے ۔مجھے دنیا میں کسی خوشی کی خواھش نھیں ھے صرف اس ایک خوشی کی خواھش ھے کہ یہ طوفان نوح جلدی آجائے ،یہی دنیا ھے تو ایسی دنیا برباد ھی ھوجائے الله تعالیٰ اب اور صبر نھیں ھوتا کل ھی آجائے پلک جھپکتے ھی آجائے یہ طوفان ۔یہ ایسی دنیا فناھی ھوجانی چاھیے۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

فرانس میں نقاب کرنے پر پابندی

فرانس میں نقاب کرنے پر پابندی لگ گئی ھے اب وھاں گھر سے باھر نکلنے پر کوئی مسلمان عورت حجاب نھیں کرسکتی۔ منہ اور سر کو ڈھانپنا ایک جرم سمجھا جائے گا اور جو بھی یہ جرم سرزد کرے گا اس پر جرمانہ عایئد کیا جائے گا یہ بات ھم سب پر بھت بڑا صدمہ بن کر ٹوٹی ھے اسلام پر ایک اور حملہ ! مغرب کی ایک اور سازش ،اسلام کا پھر سے استحصال ! مغرب نے انسان کو آزادی صحافت ،آزادی نسواں ،آزادی اظھار اور ھر طرح کی آزادی دینے کا بیڑہ اُٹھایا ھے تو پھر آزادی مذھب کیوں نھیں؟یہ سب صورتحال ھم سب برصغیر کے مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں پر بھت گریزاں گزری ھے۔
اسلام جو ھماری جینز کا تو نھیں مگر جین میوٹیشن کا حصہ ضرور ھے اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی اور وہ بھی دیار غیر میں ھم کیسے برداشت کرسکتے ھیں ؟ ھم تو اس حجاب کی بھت عزت کرتے ھیں اس کے بھت بڑے علمبردار ھیں ،ھمارے یھاں بھی تو خواتین پردہ کرتی ھیں ،لاھور کی سڑکوں پر برقعہ پوش خواتین بآسانی نظر آجاتی ھیں ،اندازہ لگائے تو ھر 50 میں سے دو خواتین لازمی حجاب کرتی ھیں مگر بھت مرتبہ میں نے اپنے شھر کی سڑکوں پر کچھ عجیب نظارے دیکھے ھیں خواتین جنھوں نے کالے برقعے زیب تن کئے ھوتےھیں ،چھرے پر مکمل نقاب ،آنکھیں بھی مشکل سے نظر آرھی ھوتی ھیں ،موٹر سایکل پر اپنے خاوند یا جو کوئی بھی ھوسکتا ھے،کچھ اس ڈھنگ سے بیٹھی ھوتی ھیں کہ حیرت ھوتی ھے ،“پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے“

میں نے ایسے بے شمارسڑکوں پر نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھے ھیں، زرا تصور کیجیے کالے برقعے میں ملبوس لڑکی ھاتھوں تک پر Gloves چرھائے ھوئے صرف آنکھیں کالے پردے سے جھانک رھی ھیں اور یہ محترمہ اپنے پارٹنر کے ساتھ کچھ ایسے موٹر سایئکل پر بیٹھی ھوئی ھیں جیسے کوئی لڑکی cow boy dress پھن کر Holly wood کی فلم کا سین عکس بند کروارھی ھو نقاب پوش لڑکی نے اپنے پارٹنر کو جکڑ کر اس کی کمر کے گرد اپنی بازؤں کا حصار بنایا ھوتا ھے جیسے کسی بایئک پر نھیں بلکہ 180 km |h کی سپیڈ سے چلنے والی Roller coaster ride پر سوار ھو اور اگر کبھی اپنے سر کا بوجھ برداشت نہ ھورھا ھو تو وہ بھی اپنے پارٹنر کے کندھے پر رکھنا پڑجاتاھے ۔دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ھوتا ھے کہ ھوا بھی کچھ کرلے درمیان سے گزر نھیں سکتی۔ ایسے سین بلاشبہ اور بھی بھت سی خواتین جو حجاب نھیں کرتی ھماری سڑکوں پر سرعام عکس بند کروارھی ھوتی ھیں مگر جب ایک برقعہ پوش خاتون جس کا ظاھر پردے کی پاسداری کا غماز دیتا ھے،اس طرحکے سین سرعام عکس بند کرواتی ھیں تو صرف ایک سوال میرے دماغ میں جنم لیتا ھے کہ آخر
“نقاب یا پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے چھرے کا یا بےحیائی کا ؟ جسم کا یا روح کا؟“
اگر ھم یہ سب دنیا کو دکھا سکتے ھیں تو آخر ایک چھرہ چھپانے میں کونسی اسلام کی سرفرازی ھورھی ھے ۔بلاشبہ اس طرح کی حرکات برقعہ یا حجاب اوڑھ کر کرنا “برقعے“ کی بھی بےحرمتی ھیں ،کیونکہ اگر ھم لوگ بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے تو کسی ظاھری چیز کا پردہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ھے۔
ھم نے برقعے کو بھی فیشن کی جگہ دی اس کو پرکشش بنانے کےلیے ذیبایش و آرایش سے آراستہ کیا اور اب ھمارے بازاروں میں ایسے برقعے دستیاب ھیں جن کا مقصد پردہ نھیں بلکہ “ زیبایش اور فیشن سے بھرپو پردہ ھے“ 
۔ برقعے کا تو بھت احترام ھے یہ تو بھت بڑی زمہ داری ھے اگر آپ اس زمہ داری کو اُٹھا کر بھی اس کو صحیح طریقے سے نھیں نبھا رھے تو یہ بھی اس کی بےحرمتی ھی ھے برقعہ نہ پھننے والا اس کی عزت کرے نہ کرے اس کی بےعزتی نھیں  misuse نھیں کرسکتا اس کا  misuse صرف وھی کرسکتا ھے جو اس کی ذمہ داری اُٹھاتا ھے ،یہ فرانس میں کیوں Ban ھوا اسے تو یھاں ان لوگوں کے لیے Ban ھوناچاھیے جو چھرے کا پردہ تو کرتے ھیں مگر بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے ،جو سر سے پاؤں تک حجاب کرکے عریاں حرکات سرعام کرنے کا حجاب نھیں کرتے ۔۔
میں پھر پوچھتی ھوں یہ کیسی جگہ ھے جھاں حسن کا پردہ ھوتا ھے ،چھرے کا پردہ ھوتا ھے ،احساسات کا پردہ ھوتا ھے،جزبات کا پردہ ھوتا ھے لیکن "بےحیائی” کا پردہ کیوں  نھیں ھوتا!!!!!

تمام برقعہ پوش بھنوں سے انتھائی معذرت کے ساتھ

written by : Fareeha Farooq. 

بدنیک انسان

میں نیک انسان ھوں 
میں بد انسان ھوں
مجھ سے ملیں میں بدنیک انسان ھوں
آپ سوچ رھے ھوں گے یہ کیا نیا مرکب ھے بدنیک انسان مگر یھی حقیقت ھے، امتحانی تحقیقات اور تجربات کی روشنی میں مجھے یہ خیال وارد ھوا ھے کہ نہ تو میں نیک انسان ھوں اور نہ ھی بُرا یا بد انسان ،میں تو صرف ایک بدنیک انسان ھوں ۔میرا مسلہ کچھ اسطرح ھے کہ میں نیکی کو تو بھت حسین اور دل پسند سمجھتا ھوں لیکن مجھے برائی سے بھی کبھی کوئی ایسی کوفت نھیں ھوئی میں نے اچھائی اور برائی دونوں کو ھی زندگی میں قبول کرلیا ھے اب نہ تو اچھائی بُری لگتی ھے اور نہ ھی بُرائی میں موئی برائی نظر آتی ھے۔
یہ تو ھم سب جانتے ھیں کہ اچھائی اور برائی دونوں ھی Theory of Relativityکو followکرتے ھیں اگر کوئی مریخ سے زمیں کا نظارہ کرے تو شاید اسے یھاں زمین کا برا کام بھی اچھا معلوم ھو کیونکہ مریخ کا رھنے والا اس کام سے محفوظ ھوگا مگر دنیا میں رھنے والے کے لیے وہ کام برا ھی ھوگا کیونکہ وہ اس برائی سے خود کو غیرمحفوظ غیرتصور کرے گا۔اسی طرح پوری دنیا میں عجب اچھائی برائی کا کھیل چل رھا ھے۔
گالی دینا ایک بُرا کام ھے یہ ھم سب جانتے ھیں مگر یھی گالی کوئی کسی کرپٹ سیاستدان کو دے تو لوگ تالی ماریں گے اور آپ کی گالی کا بھی استقبال کریں گے ۔کیوں کیا اب یہ برائی نھیں رھتی؟
کسی بڑے ترقی یافتہ ملک میں جا کر رھنے کا خواب دیکھنے والے اسے بھت اچھا ملک سمجھنے والے ،اسے دنیا کی جنت سمجھنے والےلوگ اس ملک کی ھلکی پھلکی اجارہ داری پر ایسے آوازیں بلند کرتے ھیں جیسے اس سے برا کوئی اور ملک ھو نھیں سکتا ۔کیا یہ وھی اچھا ملک نھیں ھے جس کے خواب آپ سجاتے ھیں ؟ معاملہ سنجیدہ ھوگیا ھے ۔۔۔چھوڑے اسے۔
ھاں تو میں کھہ رھا تھا بدنیک آدمی،جو کہ میں خود بھی ھوںاور بھی بھت سے ھوں گے ھمارے معاشرے میں مگر لوگ تو یا صرف نیک یا بد انسان سمجھ پاتے ھیں ،ھم بیچارے تو یہ دونوں ھی نھیں ھوتے ۔ھم اچھا کام کرنے کی طرف راغب تو ھوتے ھیں مگر ھمارے اچھے
کام بھی ھماری طرح برائی کی طرف راغب ھوجاتے ھیں ۔ھم کوئی نیک کام بھی کرے تو اس کا نتیجہ برائی پر ختم ھوتا ھے یا یہ کھیے کہ ھماری نیکی پر ھی برائی چھائی ھوتی ھے اور ھماری نیکی معصوم ھمیشہ برائی کے ماتحت ھی رھتی ھے ۔ھماری زندگیوں میں اچھائی برائی ،نیکی اور بدی کی ایسی جنگ چلی ھے کہ ھم بدنیک لوگ آخر تنگ آکر کھتے ھیں کہ کچھ نھیں ھوتا”پیار اور جنگ میں سب جایز ھے“ اب یہ طے کرنا مشکل ھے کہ زندگی کو جنگ سمجھ کر یہ کھتے ھیں کہ موت کو پیار ،بنا کر۔مگر نتیجہ ھمیشہ ھار ھی ھوتا ھے ۔

مجھے نیک لوگ کبھی سمجھ میں نھیں آئے ،میں ھمیشہ نیک لوگوں سے دور بھاگتا آیا ھوں کیونکہ نیک لوگ ھمیشہ اپنی نیکی سے مجھے ایک احساس شرمندگی کی دلدل میں ڈبو دیتے ھیں یہ لوگ ھماری برائی پر تنقید کرکے ھمیں کبھی طعنہ دینے سے نھیں چونکتے اور برے لوگوں سے اصل کے برے لوگوں سے بھی مجھے ڈر لگتا ھے کیونکہ یہ بعض اوقت اپنی برائی کے نشے میں یہ بھی بھول جاتے ھیں کہ وہ انسان ھیں یا حیوان ۔ھمیں تو بد نیک انسانوں کی صحبت ھی اچھی لگتی ھے ھم نے دوست بھی ایسے ھی بنائے ھیں جو زندگی کو ایسے گزارے کے نہ تو اچھائی کی اھمیت کا اندازہ ھوسکے اور نہ ھی برائی کے نقصان کا۔مگر کیا ھر اچھائی نیکی ھوتی ھے ؟ اور کیا ھر غلطی گناہ ھوتی ھے ؟ کیا غلطی کرنا ھی برائی ھوتی ھے ؟
غلطیاں انسان سے ھی ھوتی ھیں اور شاید حساس انسان سے ھوتی ھیں کیونکہ جو لوگ جتنے زیادہ حساس ھوتے ھیں وہ اتنی زیادہ غلطیاں کرتے ھیں ۔پریکٹیکل اور سمجھدار انسان کبھی غلطیاں نھیں کرتایہ تو emotional اور sensitive لوگوں کی معراج ھے ھم بدنیک اور حساس لوگ جب بھی کوئی نیکی کرنے لگتے ھیں تو فطرتا کوئی نہ کوئی غلطی سرانجام دے دیتے ھیں اور وہ غلطی ھماری نیکی کو بدی کے رخ موڑ دیتی ھے غلطی برائی کی ماں بن کر ابھرتی ھے اور ساری نیکی کنویں میں گر جاتی ھے ،ایک اور بات یاد آرھی ھے کہ "اعمال کا دارومدار نیت پر ھوتا ھے “ آخر ان بدنیک یعنی اچھائی اور برائی کے کمپاؤنڈ کاموں کا دارومدار کس پر ھوتا ھے ؟کیا ھماری نیت ھی خراب ھوتی ھے ؟ معلوم نھیں نیت تو نیکی کی ھی ھوتی ھے
مگر اعمال غلط ھوجاتے ھیں ،یہ کیا عجیب ڈرامائی فکر ھے ؟ نیکی بدی اعمال نیت ،مگر ایک بات تو یقینی ھے کہ آپ نیکی کرے یا برائی ،نیک انسان ھوں یا بد انسان یا پھر بدنیک انسان ،انسان غلطی ضرور کرتا ھے اور لوگ ھماری غلطیوں پر ھمیں اچھا،برا مانپتے ھیں ھماری اچھائی ،برائی پر نھیں ۔لوگوں کے پاس شاید وہ آلہ ھی نھیں جو جو نیکی اور بدی کے ساتھ غلطی کی بھی پھچان کر سکے ،پھر شاید ھم اپنے آپ کو بدنیک انسان سمجھنا چھوڑ دیں "غلط انسان” سمجنا شروع کردیں پھر میں لکھ رھا ھوں گا “میں غلط انسان“ کیونکہ غلطی تو ھم سب سے ھوتی ھے
اب شاید میں کھہ سکتا ھوں کہ” میں نیک انسان جو کرنے تو نیکی جاتا ھےاور پھر غلطی سرزد کردیتا ھے اور لوگ اس غلطی کو بدی سمجھ لیتے ھیں اور میری نیکی بدی میں بدل جاتی ھے اور میری غلطیاں مجھے بدنیک انسان بنا دیتی ھیں “
افسوس اب ھمیں اسی سماج میں رھنا پڑے گا جھاں نیکی اور بدی کے درمیان تو لکیر کھینچ دی گیئ ھے مگر برائی اور غلطی کے درمیان کوئی فرق نھیں سمجھا جاتا،یھاں لوگ غلط انسان کو غلطی سدھارنے کا موقع نھیں دیتے بلکہ اسے بدانسان بنا کر معاشرے سے علیحدہ تصور کرنے لگتے ھیں یھاں برائی کو سمجھنے والے اور اھمیت دینے والے اور سزا دینے والے تو ھزاروں ھیں مگر افسوس غلطیوں کو سمجھنے والے ان پریکٹیکل انسانوں میں نھیں ملتے ۔ان کی ڈکشنری میں غلطی اور برائی کے ایک ھی معنی پائے جاتے ھیں مگر ھم حساس لوگ ان کی بدولت اپنی غلطیوں کو نھیں دھراتے اس لیے ھم ان سب پریکٹیکل انسانوں کا شکریہ ادا کرتے ھیں ۔۔۔شکریہ
مصنف: فریحہ فاروق

ٹیگ بادل