ایسی تحاریر جن میں تخلیقیت اور سادگی کے ساتھ سجمھ کا عنصر حاوی ھو۔

عرش بریں کے رشتے

ابھی جو میں لکھنے جارھی ھوں یہ میرے لئے بھی اتنی ھی عجیب بات تھی جتنی آپ لوگوں کے لئے ھوگی،پچھلے کچھ مھینوں  سے میںھیر وارث شاہپڑھ رھی ھو وھی کتاب جس کتاب میں وارث شاہ نے ھیر اور رانجھے کے قصے کو شعروں کی شکل میں ڈھالا ھے۔ قصہ چلتے چلتے اس مقام پر پھنچتا ھے جھاں ھیر کے ماں باپ ھیر کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کھیڑوں کے ھاں کررھے ھیں مگر ھیر اس بات پر بضد ھے کہ وہ رانجھے کی منگیتر ھے اور نکاح نھیں کررھی قاضی صاحب ھیر کا نکاح پڑھانے کی کوشش کررھے ھیں مگر ھیر انکار کررھی ھے قاضی اسے سمجھا رھا ھے مگر ھیر اسےجواب دیتی ھے:"قلوب المومنین  عرش الله تعالٰی قاضی عرش خُدایئے داڈھا ناھیں
جیتھے رانجھے دے عشق مقام کیتا اوتھے کھیڑیاں دی کوئی واہ ناھیں
ایہ چڑھی گولیر میں عشق والی جیتھے ھور کوئی چاڑھ لاہ ناھیں
جس جیونے کاج ایمان ویچاں ایھاں کون جو انت فناہ ناھیں "

ترجمہ:
مومنوں کے دل الله کے عرش ھوتے ھیں ،اے قاضی خدا کے عرش کو ڈھانے کی کوشش مت کرو۔جس دل میں رانجھے کے عشق نے گھر بنا لیا ھےاس میں کھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نھیں ھے۔میں عشق کے بُرج پر چڑھ چکی ھوں اور یہ وہ جگہ ھے جھاں پر چڑھادیا جاتا ھے لیکن یھاں سے اُترنا ممکن نھیں ھے۔ جس جیون کے لیے میں ایمان بیچوں وہ بھی تو ختم ھوجائے گا ،یھاں کون ھے جس کو فناہ نھیں ھے۔
"قالو بلا دے دن  نکاح  بدھا رُوح   نبی دی  آپ  پڑھایائے
قطب ھو وکیل وچ آ بیٹھا حکم   رب   نے   آن    کرایائے
جبرایئل  میکایئل گواہ چارے عزرایئل اسرافیل بھی آیائے
اگلا توڑ کے ھور نکاح پڑھنا آکھ رب نے کدُوں فرمایائے"
ترجمہ:
ھم دونوں( ھیر اور رانجھاکا نکاح روز الست سے ھی باندھ دیا گیا تھا اور نبی پاک کی روح نے یہ نکاح خود پڑھایا تھا۔قطب اس میں وکیل بن کر بیٹھا تھا اور یہ حکم خداوندی سے ھوا تھا،چار گواہ کے طور پر وھاں جبرایئل ،میکایئل،عزرایئل اوراسرافیل فرشتے موجود تھے۔(اے قاضی) یہ بتا تو سھی کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا نکاح پڑھانے کا حکم خدا نے کب دیا ھے۔

"جیھڑے عشق دی آگ وے تاؤتتے تنھاں دوزخاں ناال کیھہ واسطہ ای
جنھاں اک دے   ناؤں  تے صدق بدھا   اُنھاں فکر اندیشڑا    کاسدا   ای
آخر صدق   یقین تے کم  پوسی   موت   چرغ   ایھہ   پتلا   ماس دا   ای
دوزخاں موریاں ملن بے صدق جھوٹھے جنھاں بان تکن آس پاس دی اے”

                                                                                                                                                        ترجمہ:
جو لوگ عشق کی آگ میں تپ رھے ھوں ان کا دوزخوں سے کیا واسطہ ھے۔جنھوں نے ایک کے نام کو صدق دل سے اختیار کیا ان کو کسی بات کی فکر نھیں ھے ۔آخر کار بات صدق یقین پر ھی ختم ھوگی کیونکہ گوشت کا یہ پُتلا تو موت کے شاھیں کا شکار ھوجائے گا ۔دوزخ میں سب سے پھلے وھی لوگ جایئں گے جو بے صدق اور جھوٹے ھوں گے اور جن کو دوسروں پر آسرا ھوگا۔             

 

(ھیر وارث شاہ)


ان اشعار میں وارث شاہ نے یہ عجیب منظر عشق کا بیان کیا ھے جس کے مطابق جو لوگ عشق کرتے ھیں ان کا نکاح پھلےسے ھی عرش پر ھوا ھوتا ھے ،آپ لوگ سمجھیں گے کہ یہ میں کتنی فرضی اور رومانوی بات کررھی ھوں مگر یہ میں نھیںیہ تو "وارث شاہجنھیں پنجابی زبان کا شیکسپیئر اور ایک عظیم ترین صوفی بزرگ سمجھا جاتا ھےوہ کھہ رھے ھیں،وارث شاہ نے ان اشعار میں محبت اور عشق کا ایک ایسا روپ پیش کیا ھے جس میں یہ تصور دیا گیا ھے کہ جو دو انسان عشق کرتے ھیں ان کا رشتہ خدا نے عرش پر ھی جوڑا ھوتا ھے ان کا نکاح پھلے سے پڑھا جاچکا ھوتا ھے اب اگر کوئی اس نکاح کو نہ مانے اور ان لوگوں کا نکاح کھیں اور کروا دے تو یہ ایسے ھی ھے کہ پھلا نکاح توڑ کر دوسرا پڑھایا جائے ،یہ بھت ھی منفرد بات ھے آج کل کے دور میں ممکن نھیں ھے کہ لوگ ایسی بات کو سمجھے مگر چونکہ عشق کا تعلق وقت اور دور سےآزاد ھے اس لیے ایک سچا عاشق ھی اس حقیقت کو جان سکتا ھے کہ جس سے اس کو عشق ھے اسکا نکاح اس سے پڑھاجاچکا ھوتا ھے۔
 
قرآن کریم میں بھی اس بات کا زکر ھے کہ الله تعالیٰ نے تمام جانداروں کو جوڑوں میں پیدا کیا ھے۔
ادب میں بھی اس طرح کی باتیں بھری پڑی ھیں
قاضی عبدالغفار اپنی کتابلیلیٰ کے خطوطمیں لیلیٰ کو قلم سے لکھتے ھیں کہ
 "کہ ھر عورت کا ایک مرد ھوتا ھے اس دنیا میں جب اس کا مرد اسے مل جاتا ھے تب وہ جانتی ھے کہ جنت دنیا کا دوسرانام ھے اس دھوکے میں مت آؤ کہ ھر مرد ھر عورت کا مرد ھوسکتا ھے ۔ابھی تک یہ فطرت کا ایک راز ھے میں تو اکثر سوچا کرتی ھوں کہ قسام ازل خود جوڑے لگا لگا کر دنیا میں بھیجتا ھے ۔پھر دنیا والے اپنی حماقت سے اس تقسیم کو غلط کردیتےھیں  اور ساری دنیا کو ماتم خانہ بنا کر احمقوں کی طرح اپنی قسمت کا گلہ کرتے ھیں !“
ان سطروں میں بھی یھی واضح کیا گیا ھے کہ جوڑے خود ازل میں تخلیق کیے گیے ھیں یہ بات میں اپنے دوستوں کو سمجھانےکی بھت کوشش کرتی ھوں مگر ھمیشہ ناکام ھی ھوتی ھوں کیونکہ آج کل کا انسان ایسی باتوں کو پسند نھیں کرتا مگر میں بس اس بات کو  یھاں ختم کرتی ھوں کہ
عشق کرنے والے ھی سمجھ سکتے ھیں کہ منکوحہ محبت کیا ھوتی ھے یہ ایک ایسی محبت ھوتی ھے جس میں نکاح پھلے سےھی  یعنی ازل سے   ھوا ھوتا ھے!
سوال تو یہ ھے کہ دنیا میں سماج والے اس نکاح کو توڑ کر دوسرا نکاح کیوں کرواتے ھیں. ھیر کا پوچھا گیا سوال آج بھی صدیوں بعد بھی ویسے ھی سامنے کھڑا ھے کیا ازل سے جُڑا رشتہ دنیا میں توڑنا جایز ھے؟ 
مصنف :فریحہ فاروق
Advertisements
اندھیری چاندنی راتوںمیں
میری آنکھوں کے تاروں میں
جو میں نے رات کاٹی ھے
جو میری شب کی اُداسی ھے

وہ میرے ساتھ رھتی ھے
میں نے عمر بھر جو پالی ھے
وہ گھری اک اداسی ھے
وہ میری جان کی ھی پیاسی ھے


میں ان چاندنی راتوں میں
تارے گننے سے نھیں ڈرتا
میں اس شب کی اُداسی میں
تنھا راتیں کاٹنے سے تو نھیں ڈرتا

میں تنھا ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں

سنھرے دن کے اُجالوں میں
میرے خوابوں خیالوں میں
وہ اک تصویر ٹانگی ھے
جو حد سے زیادہ ھی پیاری ھے

کہ میرے خوابوں میں جو رھتی ھے
جو مجھ سے ھر روز کھتی ھے
کہ جو میرے دل کی ڈالی ھے
یہ کیوں ھر پل مرجھائی سی رھتی ھے

میں اس کے کھلنے سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ بھی ھونے سے نھیں ڈرتا
میںتجھے کھونے سے ڈرتا ھوں



یہ جو دنیا کی بھیڑوں میں
ان لوگوں کی قطاروں میں
جو میں نے وقت کاٹاھے
وہ سب بس اک سناٹا ھے
یہ اک خاموش سناٹا 
جو بھت شور کرتا ھے
جو میرے ساتھ رہ کر بھی 
مجھ سے پھلے گزرتا ھے
میرے اس خاموش جیون میں
جو لفظوں سے ھی خالی ھے
اس بے داغ سے من میں
جو پھیلی اک سیاھی ھے

میں ان خاموش سناٹوں میں
شور کرنے سے نھیں ڈرتا
میں اس بےداغ سے من کو 

سیاہ کرنے سے نھیں ڈرتا

 میں اس بھیڑ میں تنھا 
اکیلے چلنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے اداس ماضی میں
میرے بےحال حالوں میں
جو دھندلی مستقبل کی تصویریں ھیں
جو آدھی ٹیڑھی سی لکیریں ھیں
میرے اداس ماضی میں
جو میں نے جھوٹ بولے ھیں
میرے بےحال ‘حال میں
جو میں نے سچ سنایئں ھیں
میں ان ماضی کے کھلونوں سے
اک جھوٹا تماشا روز کھیلنے سے نھیں ڈرتا
میں اپنے حال کے کُھرے میں
تیری روشنی کرنے سے نھیں ڈرتا
میں سچ سے تو نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
یہ جو میری جان جاتی ھے
یوں جب تیری یاد آتی ھے
میری آنکھوں کی جھیلوں میں
جو یہ نمکین پانی ھے
میں یوں رونے سے تو نھیں ڈرتا
میں تجھے یاد کرنے سے نھیں ڈرتا
میں ایسے جینے سے نھیں ڈرتا
میں روز مرنے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
میں جس کو پا نھیں سکتا
جو میرا ھو نھیں سکتا
میں اس کا ھونے سے تو نھیں ڈرتا
میں اسے کھونے سے ڈرتا ھوں

وہ جسے پایا نھیں میں نے
میں اسی کو کھونے سے ڈرتا ھوں
جو میرے پاس بھی نھیں ھے
جو میرا ھی نھیں ھے

 

میں اسے پانے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ ھونے سے نھیں ڈرتا
میں کچھ کھونے سے نھیں ڈرتا
 میں تجھے کھونے سے ڈرتا ھوں
فریحہ فاروق
اب مجھے کسی انقلاب کا انتظار نھیں ھے اب مجھے صرف ایک طوفان نوح کا انتظار ھے .اب مجھے کوئی ایسا انقلاب نھیں چاھیے جو قلب کو بدل دے اب تو مجھے صرف اور صرف ایک طوفان کا انتظار ھے "طوفان نوح” کا ۔ یہ دنیا اس قابل رھی ھی نھیں کہ اسے بدلا جا سکے اس میں انقلاب لایا جائے یا اسے دوبارہ بنایا جائے یہ دنیا تو اب صرف تباھی اور بربادی کے قابل ھے ۔اب ایک ایسا طوفان نوح آئے گا جو اس دنیا کی ھر برائی اور ھر زیادتی کو برباد کردے گا ،یہ نظام اب کسی انقلاب کے قابل نھیں ھے یہ اب برباد ھی ھوجانا چاھیے.
الله تعالیٰ یہ جو دنیا ھے مجھے اچھی نھیں لگتی اسکی کی کوئی سیاسی بحث ،فکری مسئلہ ،مذھبی بندش،معاشرتی اصلاح ،معاشی فقدان اور اخلاقی گراوٹ مجھے پسند نھیں ھے  .مجھے ان سب میں کوئی دلچسپی ھی نھیں ھے مجھے تو بس اب ان سب کے فنا ھونے کا انتظار ھے اب تو بس ایک طوفان نوح آئے گا اور یہ سب کچھ تباہ ھوجائے گا سب برباد ھوجائے گا .یہ طوفان ناگزیر ھے اسے اب آنا ھی ھوگا دھرتی یہ بوجھ اور نھیں سھہ سکتی انسان اس جبر کو مزید برداشت نھیں کرسکتا ۔مجھے اب بس طوفان نوح کا انتظار ھے جب یہ سب ختم ھوجائے گا اور صرف ایک کشتی نوح باقی بچے گی ,جس پر تمام مومن سوار ھوں گے وہ کم تو بھت ھوں گے اور میں بھی ان میں شامل نھیں ھوں مگر صرف وہ مُٹھی بھر لوگ ھی اس کشتی میں سوار کئے جایئں گے۔
باقی تمام زر،تمام اسلحہ ،تمام عمارتیں ، اور تمام امارتیں اس طوفان کی نزر کردی جائے گی نہ کوئی ملک بچے گا نہ کوئی سرحد بچے گی نہ کوئی دشمن اور نہ کوئی دوست بچے گا ،نہ کوئی امیر بچے گا اور نہ ھی کوئی غریب بچے گا ،نہ ھی ماحولیاتی آلودگی رھے گی نہ ھی یہ معاشرے کے مسائل یہ سب میرے طوفان نوح میں بھہ جایئں گے ۔دعا کریں یہ بھت جلد ھی آجائے اب مجھ میں صبر باقی نھیں ھے ۔ کیا کشتی نوح تیار ھوگئی ھے ؟ بس اب اسی کی دیر ھے ،کوئی خدائی مدد آئے گی کوئی ایسا معجزہ ھوگا کہ ایک نوح کو کشتی بنانی آجائے گی اور پھر جیسے ھی یہ کشتی نوح مکمل ھوگی یہ طوفان آجائے گا یہ انجام دور نھیں ھے یہ سب اب بس ھونے ھی والا ھے ۔کچھ دن اور رکنا پڑے گا مگر مجھ میں یہ صبر نھیں ھے الٰھی یہ جلد از جلد ھوجائے ۔
ان سب انقلابیوں کی محنتیں رایئگاں ھی جایئں گی ان کا تمام فلاحی کام افسوس مٹی میں ھی ملنا ھے ۔کسی محبت اور نفرت کا کوئی مقدر نھیں ھے یہ غربت بڑھتی ھی جائے گی ان ناکامیوں نے ایسے ھی ترقی کرنی ھے  ۔غیر فھم اور غیر شعوری انسانی رویئے ایسے ھی پروان چڑھیں گے لالچ اور حوس کا بازار ایسے ھی گرم رھے گا  انسان کے اندر کا حیوان ایسے ھی اُچھل اُچھل کر باھر آتا رھے گا حتیٰ کہ وہ دن نہ آجائے جب میرا طوفان نوح آئے گا اور ان سب کو برباد کرجائے گا ،اتنا اتنا پانی ھوگا کہ یہ سب ڈوب جائیں گے ،یہ سوپر پاورز یہ جنگیں لڑنے والے ،یہ دھشت پھیلانے والے یہ معصوم مرنے والے یہ سب ظلم ڈھانے والے ،یہ سب ظلم سھنے والے یہ خؤد کو برباد کرنے والے اور خود کو سولی پر چڑھانے والے یہ سب فنا ھوجائے گے ۔اس طوفان کو آنے تو دو اس طوفان میں اب بس دیر ھی کتنی ھے۔۔۔

دنیا میں کوئی بڑا واقعہ ھوجائے  کتنی بھی سنسنی خیز خبریں آرھی ھوں کتنے ھی معاشرتی جرائم بڑھ رھے ھوں کتنی ھی نیئ ایجادیں ھورھی ھوں ترقی کی سیڑھیاں چڑھی جارھی ھوں ان سب چھوٹی یا بڑی باتوں سے مجھے کوئی فرق نھیں پڑتا کیونکہ میں ان سب کا مقدر جان گیئ ھوں اور وہ فنا ھے یہ سب اب تبدیل نھیں ھوگا یہ سب تو اب فنا ھوگا ۔ تنوع یا diversity اب اس عروج پر پھنچ گئی ھے جھاں یہ بدصورتی کی انتھا پر پھنچ گئی ھے اب اس diversity کو ایک چیز چاھیے اور وہ ھے "تباھی” اب اس نے تباہ ھونا ھے،یہ سب تو آخری لمحے کے ڈھونگ اس سب کو بچانے کے میں تو اس منزل پر پھنچ گیئ ھوں جھاں میں نے اس سیارے "زمین” کو چھوڑنے کا ارادہ مصمم کرلیا ھے.اب بس یہ دنیا چھو ٹنے والی ھے یہ ختم ھونے والی ھے ۔کشتی نوح کون لوگ بنا رھے ھیں, وہ کون ھیں جو اس پر سوار ھوں گے, وہ کون ھے جو طوفان نوح تھمنے کے بعد اس نیئ جنم لی ھوئی دھرتی پر پاؤں رکھے گے .میں یہ سب نھیں جانتی مگر کوئی جانے یا نہ جانے ،مانے یا نہ مانے, دیکھیے یہ سب ھونے تو والا ھے ۔مجھے یقین ھوگیا ھے کہ الله تعالیٰ نے ارادہ کرلیا ھے. انسانی پھیلائی ھوئی تمام گندگی کو دھونے کا الله تعالیٰ نے اب اتنا پانی برسانا ھے کہ ان سب کو دھو دینا ھے اپنی دھرتی کو غُسل دینا ھے اس زمین کو پاک کرنا ھے. اب یہ اور آلایش برداشت نھیں کرسکتی لوگ اسے گرین ھاؤس ایفیکٹ کا نام دیں گے کھیں گے کہ دیکھو گلیشرز پگھل رھے ھیں مگر میں نے اسے طوفان نوح کا نام دیا ھے ۔ یہ نااُمیدی کی انتھا نھیں ھے یہ مایوسی کی بات نھیں ھے یھی تو اصل انقلاب ھے ,یہ فنا یہ بربادی یہ طوفان نوح ھی اصل انقلاب ھے اس کے بعد ھی خوشی کی اصل خوشبو آئے گی اصل خوشی اس خواھش کے پورا ھونے سے ھوگی مجھے ۔الله تعالیٰ میری کوئی خواھش پوری نھ ھومگر یہ ایک خواھش پوری ھوجائے ۔مجھے دنیا میں کسی خوشی کی خواھش نھیں ھے صرف اس ایک خوشی کی خواھش ھے کہ یہ طوفان نوح جلدی آجائے ،یہی دنیا ھے تو ایسی دنیا برباد ھی ھوجائے الله تعالیٰ اب اور صبر نھیں ھوتا کل ھی آجائے پلک جھپکتے ھی آجائے یہ طوفان ۔یہ ایسی دنیا فناھی ھوجانی چاھیے۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

جب میری عمر دس سال تھی ،میں بھت پریشان رھتی تھی ایک عجیب سی بےچینی بےقراری اور یہ احساس کے کچھ تو ادھورا ھے کچھ ایسا جو مجھے سمجھ میں نھیں آتا آخر کار تنگ آکر میں نے اپنے پاپا سے پوچھا "پاپا ھم دنیا میں کرنے کیا آتے ھیں؟“ پاپا نے جواب دیا "ھم دنیا میں محبت کرنے آتے ھیں “ یہ کیا بات ھوئی مجھے تو سمجھ نھیں آئی مگر پاپا کیونکہ سمجھانا جانتے ھیں اُنھوں نے سمجھایا کہ "دیکھو الله تعالیٰ حسن ھے ،اوراس نے تمام مخلوقات کو بنایا ھے،اور جب اس حسن کو ،نور کو ,فرشتوں نے جنات نے دیکھا تو وہ اُسی وقت خدا کی محبت میں گرفتار ھوگئے اور اس سے محبت  کرنے لگے  مگر پھر خدا نے سوچا کہ کیا کوئی ایسی مخلوق ھوگی جو میرے نور کو نہ دیکھے میرا دیدار نہ کرے مگر پھر بھی مجھ سے اتنی ھی محبت کرے یا ان فرشتوں سے بھی زیادہ ۔ تب خدا نے انسان کو تخلیق کیا ،انسان” ایک ایسی مخلوق جو خدا کو دیکھے بغیر اس سے محبت کرے” ،خدا نے اس انسان کو دنیا میں بھیج دیا کہ جاؤ اور یھاں جاکر یہ ثابت کرو کہ میری مخلوق ایسی بھی ھے جو بن دیکھے مجھ سے محبت کرتی ھے ِِِِھم صرف اس لیے اس دنیا میں آئے ھیں کہ "جو ھے مگر دکھائی نھیں دیتا اسکے لئے اور اسکی محبت کیلئے تمام عمر گزارے” ۔خدا نے ھمیں صرف ایک مقصد کیلیےپیدا کیا ھے محبت کے لیے اور شرط یہ ھے کہ اُسے دیکھے بنا اس سے محبت کرنی ھے،آپ اسے سن نھیں سکتے, دیکھ نھیں سکتے مگر مقصد حیات اسی کی محبت ھے.
اس ایک جواب نےمیری زندگی بدل دی اب زندگی میں بےچینی تو ختم ھوگیئ مگر جستجو شروع ھوگئی ،مقصد مل گیا محبت کا سفر مل گیا۔یہ زندگی کا وہ پھلا سبق تھا جو میں نے پوری زندگی کے لیے اپنے اندر گھول لیا۔
ایک انسان کی زندگی بدل گئی۔اب یہ سب بتانے کا مقصد کیا تھا ھم میں سے کون ھے جس کو اس عمر میں یہ سب باتیں نھیں معلوم ،یہ سب تو ھم جانتے ھیں مگر پھر بھی ھم میں سےبھت سے لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ محبت کرنے کیلئے دیکھنا اور آواز سننا ضروری ھے جس کو آپ نے دیکھا نہ ھو جس کی آواز نہ سنی ھو جس سے کبھی بات نہ کی ھو اس سے محبت نھیں کی جاسکتی مگر میں کھتی ھوں ، نھیں کی جاسکتی ھے خدا کو کس نے دیکھا ھے اس کی آواز کس نے سنی ھے ؟ مگر کیا ھم اس سے محبت نھیں کرتے ؟اگر محبت کے لیے یہ سب ضروری ھوتا توخدا نے کیوں انسانوں سے توقع کی کہ وہ اسے بن دیکھے ،بن ملے ،بن سُنے محبت کرے۔
محبت میں ملنے کی دیکھنے کی ،سننے کی دیدار کی شرط نھیں ھوتی انسان کو اس سے بھی محبت ھوسکتی ھے جسے اس نے کبھی نہ دیکھا ھو نہ سُنا ھو ،کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے انسان سے ھو یا خدا سے "محبت کا اصول نھیں بدلتا“ محبت کیلیے احساسات کی ضرورت ھوتی ھے جسے محسوس کیا جاسکتا ھے اس سے ھی محبت کی جاسکتی ھے۔یہ محبت کا عرفان ھے یھی انسان کے اشرف المخلوقات ھونے کی شرط ھے کہ اس خدا سے بےانتھاء محبت کرے جسے نہ تو کبھی دیکھا ھے نہ سُنا ھے اور نہ ھی ملاقات کی ھے ،مگر پھر بھی وہ ھم سے بات کرتا ھے اس نے ھمیں الفاظ دیئے ھیں دیدار نھیں دیا،اپنا کلام دیا ھے اس نے قرآن کی شکل میں اپنی بات ھم تک بھیجی ھے, وہ دکھائی نھیں دیتا پھر بھی ھم سے بات کرتا ھے .یھی محبت کی شرط ھوتی ھے یھی محبت کے اصول ھوتے ھیں ۔
محبت ھر حال میں ایک ھی جیسی ھوتی ھے اسکے اصول بدلتے نھیں ھیں مثال کے طور پر حسد کو لیجیے ,کھتے ھیں حسد اور جیلیسی محبت کا آغاز ھوتا ھے انسان یہ بات کبھی برداشت نھیں کرسکتا کہ جس سے وہ محبت کرے وہ کسی اور کو چاھے یا کوئی اور اسےچاھے ،مجھے کبھی محبت میں حسد کا خیال سمجھ نھیں آیا ۔آخر  حسد کیا ھوتی ھے? میں جس انسان سے محبت کرتی ھوں دنیا میں بےتھاشا انسان اسی خدا سے محبت کرتے ھیں تو کیا میں اس بات کی کوئی حسد کرسکتی ھوں ؟ یا جس سے میں محبت کرتی ھوں جو میرا خدا ھے میرا محبوب ھے وہ میرے ساتھ ساتھ باقی تمام انسانوں کو بھی محبت کرتا ھے ۔تو کیا میں یہ کھہ سکتی ھوں کہ الله تعالیٰ آپ تو صرف مجھ سے محبت کریں ۔نھیں ایسا نھیں ھوتا خدا سے محبت میں حسد کا تصور کبھی پیدا نھیں ھوتا مگر جب بات انسانوں سے محبت پر آتی ھے تو انسان سب سے پھلے یھی بات سوچتا ھے کہ جس سے میں محبت کرتا ھوں وہ کسی اور سے محبت نہ کرے اسکی تمام محبت صرف میرے نام ھوجائے.اسی کا نام حسد ھے اور یہ حسد ھی محبت کے اصول کے خلاف ھے ۔ایسا کیوں ھوتا ھے خدا سے محبت میں تو حسد کبھی نھیں آتی مگر انسانوں سے محبت میں یہ سب سے پیش پیش جذبہ ھوتا ھے۔اگر ھم خدا کی محبت سے بانٹ سکتے ھیں اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت کرسکتے ھیں تو انسانی محبتوں میں جزبہ کیوں پیدا نھیں ھوتا، کیونکہ محبت تو محبت ھوتی ھے چاھے خدا سے ھو یا انسان سے اسکے اصول دونوں ھالتوں میں ایک ھی جیسے ھوتے ھیں اسکے احوال کسی شرط نھیں بدلتے۔ مجھے کبھی اس حسد کا احساس نھیں ھوا ھو بھی نھیں سکتا جو لوگ خدا سے محبت کرتے ھیں ان کی زندگی میں حسد نھیں ھوتی ،ھو ھی نھیں سکتی۔
ایک اور بات جو میں اکثر کھتی رھتی ھوں کہ محبوب ایک نھیں ھوتا ،محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں محبت صرف ایک نھیں ھوسکتی محبوب ایک سے زیادہ بھی ھوتے ھیں لوگ کھتے ھیں محبوب تو صرف ایک ھی ھوتا ھے ایسا نھیں ھے یہ جملہ بھت نامکمل ھے اصلیت تو یہ جمل ھے کہ "محبوب کبھی بدلتا نھیں ھے“ اب وہ چاھے دو ھوں یا سو ،محبوب کبھی نھیں بدلتا،میں نے ھر طرح کے انسان سے محبت کرکے دیکھی ھے امیر غریب ،فنکار اداکار ،ریڑھی والے سے ،علم والے سے ،کردار والے سے میں نے سب کو محبوب بنا کر دیکھ لیا ھےمگر میرا محبوب نھیںبدلا,  وہ بدلتا ھی نھیں ھے .میں سب کے پیچھے اسی خدا سے محبت کرتی رھتی ھوں, میں چاھے کسی کو بھی محبوب بنا لو میں محبت پس پشت اسی خدا سے کرتی رھوں گی جسے میں نے دس برس کی عمر میں ھی اپنا محبوب بنا لیا تھا میرا محبوب کبھی نھیں بدلتا میں اسی سے محبت کرتی رھتی ھوں جس نے مجھے اس سے محبت کرنے کیلیے ھی تخلیق کیا ھے۔
محبت کو اصول تو اٹل ھیں انسان خود کو دھوکہ دے سکتا ھے مگر محبت کو دھوکہ نھیں دے سکتا جس سے محبت ھو اسے کبھی دھوکہ نھیں دے سکتا ،محبت کا اصول نھیں بدلتا ،آپ کا محبوب نھیں بدلتا آپ جس سے بھی محبت کرلو ان اصولوں کو نھیں بدل سکتے آپ اپنے محبوب کو نھیں بدل سکتے۔
آج کل کے دور میں ھم سب نے مل کے محبت کے پاک نام کو بھت زلیل کیا ھے ھر چیز میں ھم اسکا استعمال کرنے لگے ھیں کپڑوں سے ،کھانے سے جگہ سے ،کسی بھی چیز سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں ،اور سب سے زیادہ کسی انسان سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں کیا انسان سے محبت کرنا غلط بات ھے غلط تو نھیں ھے مگر آج کا انسان جب انسان سے محبت کرتا ھے تو اس میں توقعات کا زھر گھولتا ھے خواھشات کے سویٹر بنتا ھے اور ضرورتوں کی لمبی لسٹیں بناتا ھے، ان تمام خواھشات،توقعات اور ضرورتوں میں محبت کا حسن پامال ھوتا ھے.
یہ وہ محبت نھیں رھتی جس کے اصول تو خدائی اصول ھیں یہ تو مطلب پرست مفاد پرست اور موقع پرست محبت بن جاتی ھے اب یہ محبت صرف محبت نھیں رھتی یہ ایک "گھٹیا اور بازارو چیز” بن جاتی ھے جسے "خریدا اور بیچا "جاسکتا ھے اور اسی بازارو محبت کو اس دنیا میں سب سے زیادہ پروان چڑھایا گیا ھے اور اسی قسم کی محبت نے اصل انسانی محبت کو بدترین مقام پر پھنچایا ھے۔
انسان سے محبت کرنا کبھی غلط نھیں ھوتا نہ ھی خدا سے محبت مگر محبت کے اصول اٹل ھونے چاھیے ،تو پھر کیا محبت انسان سے ھو یا خدا سے اس میں کوئی فرق نھیں ھوتا ،نھیں ایسی بات بھی نھیں ھے ایک فرق ھوتا ھے خدا سے محبت کیا ھے علامہ اقبال کھتے ھیں
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو تیرے   عفو  بندہ نواز    میں
یہ تو انسان اور خدا کی محبت کا تعلق ھے یہ رشتہ خدا اور انسان کے درمیان ھوتا ھے انسان کے جرم خانہ خراب کو اماں ملتی ھے تو صرف خدا کی  "عفو بندہ نواز“ ،میں ھی ملتی ھے مگر انسان سے محبت کی صورت میں یہ شعر بدل جاتا ھے جب محبت انسان سے ھو جائے تو یہ کھنا پڑتا ھے کہ
نہ کھیں جھاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کھاں ملی
میرے عفوبندہ نواز  کو  تیرے  جرم  خانہ خراب  میں
انسان سے محبت کی صورت میں انسان کو خود ھی عفو بندہ نواز بننا پڑتا ھے .محبوب کے جرم خانہ خراب کو خود اماں دینی پڑتی ھے خدا سے محبت میں آپ خود ھر معافی کے طلبگار ھوتے ھو ھر گناہ کی توبہ کرسکتے ھو مگر انسان سے محبت میں آپ کو خود معاف کرنا پڑتا ھے ھر اماں خود دینی پڑتی ھے یہ بھت عجیب کشمکش سے بھرپور بات ھے اسکو بس ایسے سمجھ لیں کہ
"محبوب کی ھر غلطی ھر گناہ اور ھر برائی کو معاف کرکے اس سے محبت کی جائے ،تبھی انسان سے محبت ھوسکتی ھے.”
محبت ایک ایسی چیز ھے جسکی بنیاد میں الله تعالیٰ نے خود ھی دیدار کی شرط  نکال دی ھے اور خود اپنا ھی دیدار نھیں کروایا،آواز سننے کی شرط نکال دی ھے کبھی خود ھی نھیں بول کر بات کی ، حسد کی شرط نکال دی ھے کیونکہ سب سے برابر محبت کرنے والا ھے! بس شرط ھے تو اماں کی اور جو خدا سے محبت کرتا ھے وہ خود ھی عفو بندہ نواز بن جاتا ھے وہ نہ تو غصہ کرسکتا ھے نہ نفرت نہ انتقام لے سکتا ھے نہ بدلا، نہ افسوس کرسکتا ھے نہ ملال نہ کامیاب ھوسکتا ھے نہ ناکام بس جیسے بانو قدسیہ آپا کھتی ھیں
“یہ تو ڈاڈھے سنگ پریت ھے “ یہ سچ میں بھت داڈھے سنگ پریت ھے میرے سے پوچھ کر دیکھے۔۔۔۔مصنف :فریحہ فاروق

فرانس میں نقاب کرنے پر پابندی لگ گئی ھے اب وھاں گھر سے باھر نکلنے پر کوئی مسلمان عورت حجاب نھیں کرسکتی۔ منہ اور سر کو ڈھانپنا ایک جرم سمجھا جائے گا اور جو بھی یہ جرم سرزد کرے گا اس پر جرمانہ عایئد کیا جائے گا یہ بات ھم سب پر بھت بڑا صدمہ بن کر ٹوٹی ھے اسلام پر ایک اور حملہ ! مغرب کی ایک اور سازش ،اسلام کا پھر سے استحصال ! مغرب نے انسان کو آزادی صحافت ،آزادی نسواں ،آزادی اظھار اور ھر طرح کی آزادی دینے کا بیڑہ اُٹھایا ھے تو پھر آزادی مذھب کیوں نھیں؟یہ سب صورتحال ھم سب برصغیر کے مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں پر بھت گریزاں گزری ھے۔
اسلام جو ھماری جینز کا تو نھیں مگر جین میوٹیشن کا حصہ ضرور ھے اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی اور وہ بھی دیار غیر میں ھم کیسے برداشت کرسکتے ھیں ؟ ھم تو اس حجاب کی بھت عزت کرتے ھیں اس کے بھت بڑے علمبردار ھیں ،ھمارے یھاں بھی تو خواتین پردہ کرتی ھیں ،لاھور کی سڑکوں پر برقعہ پوش خواتین بآسانی نظر آجاتی ھیں ،اندازہ لگائے تو ھر 50 میں سے دو خواتین لازمی حجاب کرتی ھیں مگر بھت مرتبہ میں نے اپنے شھر کی سڑکوں پر کچھ عجیب نظارے دیکھے ھیں خواتین جنھوں نے کالے برقعے زیب تن کئے ھوتےھیں ،چھرے پر مکمل نقاب ،آنکھیں بھی مشکل سے نظر آرھی ھوتی ھیں ،موٹر سایکل پر اپنے خاوند یا جو کوئی بھی ھوسکتا ھے،کچھ اس ڈھنگ سے بیٹھی ھوتی ھیں کہ حیرت ھوتی ھے ،“پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے“

میں نے ایسے بے شمارسڑکوں پر نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھے ھیں، زرا تصور کیجیے کالے برقعے میں ملبوس لڑکی ھاتھوں تک پر Gloves چرھائے ھوئے صرف آنکھیں کالے پردے سے جھانک رھی ھیں اور یہ محترمہ اپنے پارٹنر کے ساتھ کچھ ایسے موٹر سایئکل پر بیٹھی ھوئی ھیں جیسے کوئی لڑکی cow boy dress پھن کر Holly wood کی فلم کا سین عکس بند کروارھی ھو نقاب پوش لڑکی نے اپنے پارٹنر کو جکڑ کر اس کی کمر کے گرد اپنی بازؤں کا حصار بنایا ھوتا ھے جیسے کسی بایئک پر نھیں بلکہ 180 km |h کی سپیڈ سے چلنے والی Roller coaster ride پر سوار ھو اور اگر کبھی اپنے سر کا بوجھ برداشت نہ ھورھا ھو تو وہ بھی اپنے پارٹنر کے کندھے پر رکھنا پڑجاتاھے ۔دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ھوتا ھے کہ ھوا بھی کچھ کرلے درمیان سے گزر نھیں سکتی۔ ایسے سین بلاشبہ اور بھی بھت سی خواتین جو حجاب نھیں کرتی ھماری سڑکوں پر سرعام عکس بند کروارھی ھوتی ھیں مگر جب ایک برقعہ پوش خاتون جس کا ظاھر پردے کی پاسداری کا غماز دیتا ھے،اس طرحکے سین سرعام عکس بند کرواتی ھیں تو صرف ایک سوال میرے دماغ میں جنم لیتا ھے کہ آخر
“نقاب یا پردہ کس چیز کا ھونا چاھیے چھرے کا یا بےحیائی کا ؟ جسم کا یا روح کا؟“
اگر ھم یہ سب دنیا کو دکھا سکتے ھیں تو آخر ایک چھرہ چھپانے میں کونسی اسلام کی سرفرازی ھورھی ھے ۔بلاشبہ اس طرح کی حرکات برقعہ یا حجاب اوڑھ کر کرنا “برقعے“ کی بھی بےحرمتی ھیں ،کیونکہ اگر ھم لوگ بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے تو کسی ظاھری چیز کا پردہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ھے۔
ھم نے برقعے کو بھی فیشن کی جگہ دی اس کو پرکشش بنانے کےلیے ذیبایش و آرایش سے آراستہ کیا اور اب ھمارے بازاروں میں ایسے برقعے دستیاب ھیں جن کا مقصد پردہ نھیں بلکہ “ زیبایش اور فیشن سے بھرپو پردہ ھے“ 
۔ برقعے کا تو بھت احترام ھے یہ تو بھت بڑی زمہ داری ھے اگر آپ اس زمہ داری کو اُٹھا کر بھی اس کو صحیح طریقے سے نھیں نبھا رھے تو یہ بھی اس کی بےحرمتی ھی ھے برقعہ نہ پھننے والا اس کی عزت کرے نہ کرے اس کی بےعزتی نھیں  misuse نھیں کرسکتا اس کا  misuse صرف وھی کرسکتا ھے جو اس کی ذمہ داری اُٹھاتا ھے ،یہ فرانس میں کیوں Ban ھوا اسے تو یھاں ان لوگوں کے لیے Ban ھوناچاھیے جو چھرے کا پردہ تو کرتے ھیں مگر بےحیائی کا پردہ نھیں کرتے ،جو سر سے پاؤں تک حجاب کرکے عریاں حرکات سرعام کرنے کا حجاب نھیں کرتے ۔۔
میں پھر پوچھتی ھوں یہ کیسی جگہ ھے جھاں حسن کا پردہ ھوتا ھے ،چھرے کا پردہ ھوتا ھے ،احساسات کا پردہ ھوتا ھے،جزبات کا پردہ ھوتا ھے لیکن "بےحیائی” کا پردہ کیوں  نھیں ھوتا!!!!!

تمام برقعہ پوش بھنوں سے انتھائی معذرت کے ساتھ

written by : Fareeha Farooq. 

محبت تو معلوم نھیں کیا ھوتی ھے مگر یہ نرگسیت "اپنی زات سے محبت” ھوتی ھے۔حالانکہ میں یہ تو نھیں بتا سکتی کہ محبت کیا ھوتی ھے کیونکہ یہ میں جانتی ھی نھیں ،میں نے یہ دیکھی ھی نھیں مگر مجھے یہ معلوم ھے کہ نرگسیت کیا ھوتی ھے؟ انتھائی عجیب بات ھے کہ مجھے محبت کے معنی تو معلوم نھیں ھیں محبت کو سمجھنے سے میں قاصر ھوں لیکن مجھے نرگسیت کے معنی معلوم ھیں "اپنی ذات سے محبت” کو سمجھنے سے میں کبھی قاصر نھیں رھی۔
نرگسیت ایک ایسی محبت کی قسم ھے جو سب سے زیادہ عام ھے مگر سب سے زیادہ خطرناک بھی ھے کیونکہ نرگسیت ایسی ذاتی محبت ھوتی ھے جو انسان کو ھلاک کردیتی ھے اس میں ھلاکت کے اثرات بھرپور حد تک موجود ھوتے ھیں ۔ھم سب دنیا والے محبت کا پرچار کرتے ھیں اس کی خوبیاں بیان کرتے ھیں اس کو انسان اور دنیا  کے لیے رحمت تصور کرتے ھیں مگر محبت اور نرگسیت میں زمین آسمان کا فرق ھے ۔نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جسے کوئی انسان بھی اچھا تصور نھیں کرسکتا یہ ایسی محبت ھے جو مفاد پرستی کی دیوی ھوتی ھے، دنیا میں تمام قسم کی محبتوں کا فن “دینا“ یا “عطا “ کرنا ھے مگر نرگسیت ایک ایسی قسم کی محبت ھے جس کا مقصد صرف اور صرف چھیننا ھوتا ھے یہ محبت خود پسندی ،زاتی مفاد ، خود غرضی اور لالچ کی بھینٹ چڑھی ھوتی ھے یہ محبت خلوص سے خالی اور غرور سے بھرپور ھوتی ھے۔نرگسیت ایک ایسی بیماری ھے جو ھمارے ارد گرد کے لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ھے۔

ایڈز کی طرح اس بیماری کا علاج یا تو ممکن نھیں یا انتھائی دشوار اور ھماری پھنچ سے باھر نظر آرھا ھے۔اگر ھم اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں تو ھر سطح پر یہ نرگسیت عروج پر پھنچی ھوئی ھے وہ ھماری اپنی زات ھو یا ھمارے دوست یا رشتہ دار ھر ایک اس بیماری میں مبتلا نظر آتا ھےھم اپنی نرگسیت کا اظھار کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ھیں "کھیں میں فیل نہ ھوجاؤ ” ،کھیں میری بستی نہ ھوجائے“ "کھیں میرے ڈریس کا ڈیزاین کوئی چوری نہ کرلے“ ،“کھیں میرے نوٹس کوئی اور نھ پڑھ لے“ یہ سب باتیں ھمارے لاشعور میں پل رھی نرگسیت کی زبان ھوتی ھیں ۔۔
کیا خود سے محبت کرنا اتنی بُری چیز ھے ؟کیا یہ اتنی خطرناک بیماری ھے جو ھماری ذات کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پھنچارھی ھے؟
نرگسیت یعنی ھلاک کردینے والی محبت خطرناک چیز ھے ھماری خود پسندی اور زاتی محبت کی شکل کبھی بھی تعمیری نھیں رھی بلکہ تخریبی رنگ سے آمیزہ ھے، ھم اپنی ذاتی محبت سے خود کو تعمیر نھیں بلکہ اپنی تخریب کررھے ھیں ۔نرگسیت کا مرض انسان کو جو Symptoms عطا کرتا ھے ان میں سب سے اھم anxiety ,depression اور نااُمیدی ھیں یہ انسان کو مایوسیوں کی دلدل میں ڈبوتی اور حسد کی کھائی میں دھکا مار دیتی ھے۔نرگسیت کا مریض انسان کبھی اپنی ھار برداشت نھیں کرتا اور کبھی جیتنے کی اصل کوشش بھی نھیں کرتا۔
میں خود بھی نرگسیت کی شکار ھوں ،اس کا شدید احساس مجھے اس وقت ھوا جب جاپان میں حالیہ زلزلوں سے تباھی اور بربادی سے مشکل سے ھی شاید میرے جذبات اور زندگی پر کوئی فرق پڑا ،پاکسان میں سیلاب آیا تھا تو ھماری راتوں کی نیندیں اُڑ گیئ تھیں ایسا افسوس اور عزم اپنے اندر محسوس ھوا تھا جو پھلے کبھی نھیں ھوا تھا مگر جاپان میں زلزلہ آنے پر اتنی الم ناک داستان پر شاید ھی میری ایک بھی دن کی زندگی متاثر ھوئی ھو،ایک پل بھی میں اُن کے دکھ میں شریک نھیں ھوئی کیا یہ نرگسیت نھیں ھے کیا مجھے اپنے لوگوں کا ھی خیال تھا؟کیا یہ محبت تمام انسانوں کے لیے نھیں ھونی چاھیے تھی؟ یہ کیسی محبت ھے جو آفاقی انسانیت سے نھیں ھے۔
یہ تو سب بڑی باتیں ھیں یھاں تو کوئی عاشق بھی محبوب سے نھیں بلکہ خود سے ھی محبت سے سرشار ھوتا ھے،آج کے دور کا عاشق محبوب کی آنکھوں سے محبت نھیں کرتا بلکہ اپنی ان آنکھوں سے محبت کرتا ھے جن سے وہ محبوب کی آنکھوں کو دیکھتا ھے،وہ محبوب کی عقل و شعور سے متاثر نھیں ھوتا بلکہ اپنی اس صلاحیت سے متاثر ھوتا ھے جس نے اس نے محبوب کی عقل و شعور کو پھچانا ھوتا ھے ۔محبوب کی خوشی کا نام لیکر آج کا عاشق صرف اور صرف اپنی خوشی سے محبت کررھا ھوتا ھے۔
یہ نرگسیت کبھی ختم نھیں ھوتی اس سے پیچھا چھڑوانا اتنا آسان کام نھیں ھے اس سے پیچھا چھڑوانے کے لیے خلوص کی ضرورت ھوتی ھےاس کے لیے قربانی کی ضرورت ھوتی ھے ،اس کے لیے بے غرضی کی ضرورت ھوتی ھے۔اس لیے ھم تو کھیں گے کہ ھر محبت بھی اچھی نھیں ھوتی نرگسیت ایک ایسی قسم محبت ھے جو بالکل اچھی نھیں ھوتی ۔اب شاید میں یقین سے کھہ سکتی ھوں کہ
"میں نے محبت نھیں دیکھی”
"میں نے نرگسیت تو دیکھی ھے”
Written By :
Fareeha Farooq. 

Time dilation

میرے اندر ایک بھت ھی عجیب Time dilation ھےمیرے اندر کا وقت اتنی تیزی سے نھیں گزرتا جتنی تیزی سے وقت باھر کی دنیا میں گزرتا ھے ۔باھر کی دنیا میں وقت کی تیزی میرے اندر کی دنیا کی سست رفتاری سے بالکل مختلف ھے۔میں ان لوگوں میں سے نھیں جو وقت کے ساتھ چلتے ھیں بلکہ میں تو پیچھے رہ جاتی ھوں اور وقت، باھر کا وقت چھلانگیں لگاتا خرگوش بن کر دوڑتا جاتا ھے مجھے ھمیشہ سے محسوس ھوتا ھے کہ ٹایم دو طرح کے ھوتے ھیں ایک ٹایم وہ ھوتا ھے جو آپ کی بیرونی دنیا میں چلتا ھے اور دوسرا وہ جو آپ کی اندرونی دنیا کا ھوتا ھے۔بعض لوگوں کے اس اندرونی اور بیرونی ٹایم میں بھت Synchronization ھوتا ھے جس رفتار سے وقت اندر گزرتا ھے اسی رفتار سے باھر گزرتا ھے مگر میرے اندر کی دنیا میں وقت کی زبردست dilation ھے۔
اب دیکھیے جیسے پاکستان میں ھر روز بھت سے بم دھماکے ھوتے ھیں ،ھماری باھر کی دنیا میں یہ دھماکے ھوتے رھتے ھیں لوگ ان کا سوگ مناتے ھیں بھول جاتے ھیں پھر اگلے دھماکے کا سوگ منانے لگ جاتے ھیں مگ میرا وقت آگے نھیں بڑھتا میں ابھی بھی اس پھلے دھماکے کا سوگ منا رھی ھوں جو اس دن ١٢ربیع لاول کو کراچی میں ایک میلاد میں بم دھماکہ ھوا تھا میں ابھی تک اس چھوٹے حافظ قرآن بچے کا سوگ منارھی ھوں جو اس دھماکے میں شھید ھوا تھا، اسکا بستہ اس کی کتابیں اس کے کھلونے ،میں تو ابھی تک یھی سوگ نھیں مکمل کرپائی۔لوگ روز روز نیے نیے دھماکوں کی باتیں کرتے ھیں ان کے سوگ مناتے ھیں مگر میں کھتی ھوں رکو! ابھی میرا پھلا سوگ ختم نھیں ھوا ابھی مجھے اس زخم پر مرھم رکھنے دو پھر اگلا زخم لگانا،مگر باھر کا وقت رکتا ھی نھیں یہ آگے آگے دوڑتا رھتا ھے اور پھر میرے اندر کا ٹایم وھیں کھڑا رہ جاتا ھے۔

باھر کی دنیا میں حکومتیں بھت تیزی سے بدلتی رھتی ھیں لوگ اقتدار سنبھالتے اور چھوڑتے رھتے ھیں مگر مجھے اس تیزی کی بھی سمجھ نھیں آتی،جامعہ حفضہ کا جو معاملہ ھوا اس سے میری روح کانپ گیئ مجھے اس حکمران سے جس نے یہ سب تماشہ رچایابھت شدید غصہ آیا افسوس ھوا،مایوسی ھوئی مگر ابھی میں یہ غم وغصہ ھی سمجھ نھیں پائی تھی کہ باھر کی دنیا میں اتنا کچھ بدل گیا اب لوگوں نے موجودہ حکومت کی نااھلیوں،پالیسیوں،مھنگائی کے رونے اور کرپشن پر حکومت کی برایئاں شروع کردی ھیں میں پھر کھتی رہ گیئ رکو! مجھے تو ابھی جامعہ حفضہ کی ناانصافی ھی نھیں بھولی، وہ داستان ھی سمجھ میں نھیں آئی اس پرانی حکومت کا ھی احتساب نھیں ھوسکا میں آگے نھیں بڑھوں گی مگر کسی نے نھیں سنی میں پھر پیچھے رہ گیئ ھوں اور سب آگے اور آگے نکل گیا ھے مجھے آمر کی حکومت کی ھی برایئاں سمجھ میں نھیں آئی کہ بیرونی وقت جمھوریت کی سیج بھی کراس کرگیا۔مگر میرے اندر کی Time dilation کے باعث میں کبھی بھی موجودہ حالات کا اندازہ ھی نھیں لگا پائی۔
 
پاکستان میں سیلاب آگیا ایک نئی زندگی کی جنگ شروع ھوگیئ،لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ پناہ لینی پڑی اس میں سے میرا ایک بھائی جو اپنے خاندان کے ساتھ کویٹہ پناہ لینے آیا تھا اس نے اپنے علاقے سے کویٹہ آنے کیلیے آمدورفت پر ھی اپنی ساری زندگی کی پونجی جو نوے ھزار تھی وہ خرچ کردی تھی،اور پھر اس نے جب پوچھا تھا کہ کیا سیلاب آنے سے کرائے اتنے بڑھ جاتے ھیں ؟ اپنے ھی ملک میں کچھ میلوں کا سفر طے کرنے کیلیے کیا زندگی بھر کی کمائی دینی پڑتی ھے؟یہ کون لوگ تھے جنھوں نے ایک خاندان سے ھزاروں روپے صرف امدادی کیمپ تک پھنچانے کے لیے لیے؟
 
ان کے ساتھ یہ سب کیوں ھوا آخر ان کے آنسوؤں کا کیا مطلب ھے،ان کے نقصان کی تلافی کیسے ھوگی میں ابھی انھی سب سوالوں میں اٹکی ھوئی ھوں جبکہ باھر کی دنیا میں بھت کچھ بدل گیا،بےتھاشا گھروں ،زمینوں ،سڑکوں کا نقصان ھوا ھمارا ناجانے کیا کیا اُ جڑ گیا اور میں آگے ھی نھیں بڑھ پائی،ابھی یہ سب میں کیسے سمجھ سکتی ھوں مجھے تو یہ ھی نھیں معلوم ھوسکا کہ ایسی کون سی حفاظت تھی جو ایک خاندان کو دینے لیے اتنا زیادہ معاوضہ ھتھیایا گیا ، میں تو ابھی اپنے ایک ھی خاندان کا سوگ نھیں منا پائی، ابھی میرا ایک دکھ ھی ختم نھیں ھوا لوگوں نے ناجانے ان ھزاروں خاندانوں کے دکھ کیسے برداشت کئے ھیں ،ان کے سکون کیسے تلاش کیے ھیں میں تو ابھی آگے ھی نھیں بڑھی میرا ٹایم تو ابھی بھت آھستہ گزرتا ھے۔
باھر کی دنیا کا وقت چھلانگیں لگاتا پھر بھت آگے آگیا مگر میرے اندر کا سست رفتار وقت ابھی بھت آھستہ گزرھا ھے ،میرے اندر ابھی پرانے غموں سے آگے بڑھنے کی ھمت نھیں ھے،یہ میری عجیب نامناسب فطرت ھے مگرمیں اس قابل نھیں ھوںکہ اپنی اندر کی دنیا کے ٹایم کو جلدی دھکا مار لوں ۔ باھر کی دنیا میں کھانی اپنے انجام کو پھنچ جاتی ھے مگر میرے اندر کی دنیا میں وقت کی اتنی فراغت ھےکہ میں کھانی کی پھلی لاین ھی اتنی دیر میں پڑھتی ھوں جتنی دیر میں باھر کی دنیا پوری کھانی ھی ختم کرلیتی ھے ۔۔۔









ٹیگ بادل